وزیر تجارت کی رومانیہ کے سفیر سے ملاقات، تجارت، دفاع اور توانائی تعاون پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 3rd, August 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ رومانیہ کی کمپنیوں کے لیے پاکستان میں سرمایہ کاری کے پرکشش مواقع موجود ہیں، حکومت ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹیں مرحلہ وار کم کر رہی ہے۔
اے پی پی کے مطابق وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے رومانیہ کے سفیر ڈین اسٹونیسکو سے ملاقات کی اور مختلف شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزارت تجارت کے مطابق اس موقع پر پاکستان اور رومانیہ کے درمیان تجارتی، دفاعی اور توانائی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
رومانیہ کے سفیر نے پاکستانی برآمدات کے لیے کنسٹانزا بندرگاہ استعمال کرنے کی تجویز پیش کی اور وفاقی وزیر نے کہا کہ کنسٹانزا بندرگاہ تک رسائی برآمدی لاجسٹکس میں تنوع کا اہم قدم ہے۔
ملاقات کے دوران زرعی، گوشت، دواسازی، سرجیکل اور گرین انرجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
سفیر ڈین اسٹونیسکو نے رومانیہ کی جانب سے پاکستان کو شمسی اور ہوا سے بجلی بنانے کی ٹیکنالوجی دینے کی پیش کش کی اور پاکستانی صنعتی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے صنعتی شراکت داری میں دلچسپی کا اظہار بھی کیا۔
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا کہ حکومت ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹیں مرحلہ وار کم کر رہی ہے اور رومانیہ کی کمپنیوں کے لیے پاکستان میں سرمایہ کاری کے پرکشش مواقع موجود ہیں۔
اسٹونیسکو نے پاکستانی آئی ٹی ماہرین کی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ رومانیہ پاکستانی آئی ٹی پروفیشنلز کے لیے مواقع فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
جام کمال خان نے انہیں بتایا کہ پاکستانی آئی ٹی ماہرین عالمی سطح پر معیاری خدمات دے رہے ہیں، ملاقار میں ٹیکنالوجی سیکٹر میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کرتے ہوئے ثقافتی سفارت کاری، کمیونٹی انضمام اور ویزہ سہولتوں میں بہتری پر زور دیا گیا۔
ملاقات کے دوران دونوں فریقین کی جانب سے باہمی تعلقات کو مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جام کمال خان نے وفاقی وزیر رومانیہ کے کیا گیا کے لیے
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔