لاہور: شوہر کے سامنے بیوی کا گینگ ریپ کیس، تیسرا مرکزی ملزم ہلاک، چوتھے کی تلاش جاری
اشاعت کی تاریخ: 3rd, August 2025 GMT
لاہور:
چوہنگ میں خاوند کے سامنے بیوی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے اندوہناک کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سی سی ڈی ماڈل ٹاؤن پولیس نے بقیہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی کرتے ہوئے شدید فائرنگ کے تبادلے میں تیسرا مرکزی ملزم زاہد ہلاک ہوگیا۔
پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران ملزمان نے پولیس پارٹی پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس سے انسپکٹر شاہد اور اہلکار علی بال بال بچ گئے۔ دونوں اہلکار بلٹ پروف جیکٹس کی بدولت محفوظ رہے، تاہم فائرنگ کے نتیجے میں پولیس موبائل اور بلٹ پروف جیکٹس کو نقصان پہنچا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے ملزم زاہد کو گینگ ریپ کے وقت دیگر ملزمان نے فون کرکے موقع پر بلایا تھا۔ واضح رہے کہ اس مقدمے میں پہلے ہی دو مرکزی ملزمان اویس اور ارشاد سی سی ڈی کے ساتھ مقابلے کے دوران مارے جا چکے ہیں۔
پولیس کے مطابق گینگ ریپ میں ملوث چوتھے ملزم کی تلاش جاری ہے اور توقع ہے کہ جلد اسے بھی گرفتار یا انجام تک پہنچایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔