بلو چستان کے 7اضلاع میں ضمنی بلدیاتی انتخابات آج ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, August 2025 GMT
کوئٹہ(این این آئی) بلو چستان کے 7اضلاع میں ضمنی بلدیاتی انتخابات (آج)اتوارکو ہوں گے۔الیکشن کمیشن کے مطابق ضمنی بلدیاتی انتخابات میں مخصوص نشستوں کیلئے پولنگ صبح 8 سے شام 4 بجے تک ہوگی، بلوچستان کے 7 اضلاع میں ژوب، شیرانی، لورلائی، بارکھان، قلات، خضدار اور سوراب شامل ہیں۔ذرائع الیکشن کمیشن نے بتایا کہ 16نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں25 امیدوار حصہ لے رہے ہیں،خواتین کی 6 نشستوں پر 15، مزدوروں کی 2 خالی نشستوں پر 4 امیدوار مد مقابل ہوں گے۔اسی طرح کسان کی 1،خالی نشستوں پر 3 اور غیر مسلم کی 7 نشستوں پر 3 امیدوار مد مقابل ہوں گے،انتخابات میں مجموعی طور پر 106 جنرل کونسلرز ووٹ ڈالیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔