نوشہروفیروز میں مجلس عزاء سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ جنہیں دنیا "خادم الحرمین" اور "امام کعبہ" جیسے مقدس القابات سے پہچانتی تھی، آج آزمائش میں انکا مکروہ کردار دنیا کے سامنے عیاں ہو چکا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ امت مسلمہ کا امتحان جاری ہے۔ عرب حکمرانوں کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے۔ گوٹ بجرانی لغاری تحصیل مورو ضلع نوشہروفیروز میں منعقدہ سالانہ مجلس عزاء سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے، جہاں اللہ تعالیٰ ہر انسان کو آزمائش میں مبتلا کرتا ہے۔ کیونکہ امتحان اور آزمائش کے بغیر کھرے اور کھوٹے کی پہچان ممکن نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الٰہی امتحانات کے پانچ مراحل ہیں، جس میں پہلا خوف، دوسرا بھوک، تیسرا مال کی قربانی، چوتھا جان کی قربانی اور پانچواں اولاد کی قربانی ہے۔ جو لوگ ان پانچوں مراحل میں صبر اور استقامت کا مظاہرہ کرتے ہیں، ان پر خدا کا درود و سلام اور رحمت ہے۔ علامہ ڈومکی نے کہا کہ آج امت مسلمہ ایک کڑے امتحان سے گزر رہی ہے، جس میں منافقین اور نااہل مسلم حکمرانوں کے چہرے بے نقاب ہو چکے ہیں۔ جنہیں دنیا "خادم الحرمین" اور "امام کعبہ" جیسے مقدس القابات سے پہچانتی تھی، آج آزمائش اور امتحان میں ان کا مکروہ کردار دنیا کے سامنے عیاں ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ آج کی امتحان گاہ ہے، جہاں اہل فلسطین نے صبر اور استقامت کے ساتھ نئی تاریخ رقم کی ہے۔ اسماعیل ہانیہ، یحییٰ سنوار، حسن نصر اللہ، سید ہاشم صفی الدین، جنرل باقری اور جنرل سلامی جیسے مخلص رہنماء اپنے ایثار قربانی اور جہاد فی سبیل اللہ کے سبب اولیاء خدا کی صف میں شامل ہو چکے ہیں۔ اس کے برعکس بعض عرب حکمرانوں نے ٹرمپ جیسے ظالم کے سامنے اپنی بیوی، بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ رقص کیا، جس سے ان کی منافقت اور ذلت آمیز ذہنیت آشکار ہو گئی۔ علامہ ڈومکی نے کہا کہ اگرچہ پاکستان کے عوام خود مظلوم ہیں اور ان کے آئینی و جمہوری حقوق سلب کئے گئے ہیں، تاہم وہ ہر حال میں فلسطین کے مظلوم عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء لنجار کی جانب سے گوٹھ بجرانی لغاری میں جس طرح انتقامی کارروائیاں کی جا رہی ہیں وہ انتہائی افسوسناک ہیں۔ اب یہ سیاسی انتقام بند ہونا چاہئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ڈومکی نے کہا کہ علامہ مقصود ہو چکا ہے کا مکروہ

پڑھیں:

ایمریٹس کپتان دنیا کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے پائلٹس میں شامل

مشرقِ وسطیٰ کی سب سے بڑی فضائی کمپنی ایمریٹس ایئرلائن (Emirates Airline)نے 2026 میں بھی دنیا کی سب سے زیادہ پرکشش اور زیادہ تنخواہیں دینے والی ایئرلائنز میں اپنی مضبوط پوزیشن برقرار رکھی ہے۔

تازہ رپورٹس کے مطابق ایمریٹس نہ صرف اپنے پائلٹس کو خطیر تنخواہیں فراہم کر رہی ہے بلکہ انہیں متعدد اضافی مراعات بھی دی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے دنیا بھر کے تجربہ کار پائلٹس اس ایئرلائن میں ملازمت کو ترجیح دیتے ہیں۔ اعلیٰ معیارِ زندگی، ٹیکس فری آمدن اور بہتر کیریئر مواقع اسے عالمی سطح پر ایک نمایاں ایئرلائن بناتے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق ایمریٹس میں کام کرنے والے فرسٹ آفیسرز کی سالانہ آمدن تقریباً 4 لاکھ 20 ہزار سے 6 لاکھ 20 ہزار درہم کے درمیان ہوتی ہے، جو امریکی کرنسی میں تقریباً 1 لاکھ 14 ہزار سے 1 لاکھ 69 ہزار ڈالر کے برابر بنتی ہے۔ تنخواہ کا انحصار طیارے کی قسم اور تجربے پر ہوتا ہے، خاص طور پر بوئنگ 777 اور ایئربس A380 جیسے طویل فاصلے کے طیاروں پر تعینات پائلٹس زیادہ آمدن حاصل کرتے ہیں۔

دوسری جانب کپتانوں کی تنخواہیں اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2026 میں ایمریٹس کے کپتان سالانہ 9 لاکھ سے 14 لاکھ 50 ہزار درہم تک کما سکتے ہیں، جو تقریباً 2 لاکھ 45 ہزار سے 3 لاکھ 95 ہزار امریکی ڈالر کے برابر ہے۔ الٹرا لانگ ہال طیاروں جیسے ایئربس A380 کے کپتان اضافی الاؤنسز اور فلائنگ ڈیوٹی کی وجہ سے اس سے بھی زیادہ آمدن حاصل کر سکتے ہیں۔

مزیدپڑھیں:بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے پر عزم ہیں،شہباز شریف

ایمریٹس کی سب سے بڑی کشش اس کی ٹیکس فری تنخواہ ہے، جس کے باعث پائلٹس کی خالص آمدن دیگر مغربی ممالک کی ایئرلائنز کے مقابلے میں زیادہ ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی اپنے ملازمین کو رہائش یا ہاؤسنگ الاؤنس، سفری الاؤنس، میڈیکل اور انشورنس سہولیات، اہل خانہ کے لیے سفری رعایتیں، بچوں کی تعلیم میں مدد اور بیرون ملک قیام کے دوران ہوٹل و کھانے کے اخراجات جیسی مراعات بھی فراہم کرتی ہے۔

بیڑے کے حوالے سے ایمریٹس دنیا کے سب سے بڑے وائیڈ باڈی طیاروں کے آپریٹرز میں سے ایک ہے، جس میں 116 ایئربس A380، 118 بوئنگ 777-300ER، 10 بوئنگ 777-200LR اور 19 ایئربس A350-900 شامل ہیں۔ کمپنی نے مستقبل کے لیے مزید 359 طیاروں کے بڑے آرڈرز بھی دیے ہیں جن میں بوئنگ 777-9، بوئنگ 777-8، بوئنگ 787 اور ایئربس A350 شامل ہیں۔

پائلٹ بننے کے لیے ایمریٹس میں سخت معیار مقرر ہیں۔ فرسٹ آفیسر کے لیے کم از کم 2 ہزار فلائنگ آورز جبکہ کپتان کے لیے 7 ہزار سے زائد فلائنگ آورز کے ساتھ ساتھ ہزاروں گھنٹوں کا کمانڈ تجربہ لازمی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی سول ایوی ایشن کے لائسنس، میڈیکل سرٹیفکیٹ اور انگریزی زبان میں مہارت بھی بنیادی شرائط میں شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایمریٹس کپتان دنیا کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے پائلٹس میں شامل
  • مفرور یوٹیوبرز عادل راجہ اور شاہد قاضی کا پاکستان مخالف بیانیہ بے نقاب
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک  کیلیے وبال جان بن گئے
  • امتحان میں کامیابی کے باوجود عبدالمجید نوکری سے محروم، عمر کی حد رکاوٹ بن گئی
  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے