موت کے کنویں میں موٹر سائیکل چلانے والی با ہمت 14 سالہ فاطمہ مریم نواز سے ملاقات کی خواہاں
اشاعت کی تاریخ: 3rd, August 2025 GMT
پنجاب کے مختلف میلوں میں موت کے کنویں میں موٹر سائیکل دوڑا کر لوگوں کو حیران کرنے والی کم عمر مگر جرأت مند فاطمہ نور کہتی ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملنا چاہتی ہے اور خواہش رکھتی ہے کہ مریم نواز ایک بار اسے موت کے کنویں میں بائیک چلاتے ہوئے دیکھیں۔
فاطمہ نے چند برس کی عمر میں ہی اپنے والد منیر احمد کے ساتھ موت کے کنویں میں موٹر سائیکل چلانا سیکھا، ابتدا میں والد اسے ساتھ بٹھا کر بائیک چلاتے تھے لیکن گزشتہ چار سال سے وہ تنِ تنہا کنویں کے اندر موٹر سائیکل دوڑاتی ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ اس کا کوئی بھائی نہیں، اس لیے اس نے فیصلہ کیا کہ وہ خود اپنے والد کا سہارا بنے گی۔
فاطمہ بتاتی ہے کہ شروع میں والد نے سختی سے منع کیا تھا کہ لڑکیاں یہ کام نہیں کرتیں، لوگ باتیں کریں گے، لیکن جب اس نے ضد کی اور اپنے جذبے کا اظہار کیا تو والد نے ہار مان لی۔
فاطمہ کا کہنا ہے کہ جب کسی کام کا شوق اور جنون دل میں ہو تو ڈر خودبخود ختم ہو جاتا ہے۔ وہ احتیاط تو ضرور کرتی ہے لیکن ہیلمٹ وغیرہ کا استعمال نہیں کرتی کیونکہ موت کے کنویں میں بائیک چلاتے ہوئے ایسا ممکن نہیں ہوتا۔
لوگ اکثر بائیک چلاتے ہوئے انعام کے طور پر پیسے پکڑانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن فاطمہ وہ پیسے خود نہیں لیتی، چونکہ اس کے والد دوسری بائیک پر ہوتے ہیں تو وہ رقم تھام لیتے ہیں۔
فاطمہ کا کہنا ہے کہ ایسے ہنر رکھنے والوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے اور حکومت کو چاہیے کہ ان کے لیے مناسب تربیت اور تحفظ کا بندوبست کرے۔
فاطمہ نے بتایا کہ چونکہ ابھی اس کی عمر کم ہے اس لیے اس نے ڈرائیونگ لائسنس نہیں بنوایا، ویسے بھی وہ سڑک پر نہیں بلکہ کنویں کے اندر بائیک چلاتی ہے۔ لیکن جب وہ سڑک پر بائیک چلانے کے قابل ہوگی اور عمر پوری ہوگی تو لائسنس ضرور بنوائے گی۔
فاطمہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے بے حد متاثر ہے اور ان سے ملاقات کی خواہش مند ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ مریم نواز لڑکیوں اور خواتین کے لیے بہت اچھا کام کر رہی ہیں، وہ ان کی بہت بڑی فین ہے اور چاہتی ہے کہ ایک دن مریم نواز خود اسے بائیک چلاتے ہوئے دیکھیں۔
فاطمہ کے والد منیر احمد کا کہنا ہے کہ ان کی دو ہی بیٹیاں ہیں اور فاطمہ بڑی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان کی بیٹی بہت زیادہ پڑھی لکھی نہیں، لیکن جس مہارت سے وہ موٹر سائیکل چلاتی ہے، وہ کسی ڈگری سے کم نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہر والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو تعلیم اور ہنر ضرور سکھائیں تاکہ وہ مستقبل میں خودمختار بن سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ وہ سال بھر پنجاب کے مختلف شہروں اور دیہات میں لگنے والے میلوں پر جاتے ہیں اور سردیوں کے موسم میں اپنے آبائی گھر واپس چلے جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ ایک پوری ٹیم ہوتی ہے جو بائیک اسٹنٹس کا مظاہرہ کرتی ہے۔
منیر احمد نے مزید بتایا کہ وہ جو موٹر سائیکل استعمال کرتے ہیں وہ عام بائیک ہی ہوتی ہے۔ صرف مڈگارڈ اتار دیتے ہیں تاکہ اگر بائیک کے ٹائروں میں ہوا کم ہو جائے یا پنکچر ہو جائے تو اسے فوری تبدیل کیا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ موت کے کنویں میں حادثے کی بڑی وجہ صرف لاپرواہی اور غیر ذمہ دارانہ حرکت ہوتی ہے، جیسے کچھ لوگ سڑک پر ون ویلنگ کرتے ہیں ویسے ہی اگر کنویں میں کوئی کرتب کرتے وقت احتیاط نہ کرے تو حادثہ ہو سکتا ہے۔
فاطمہ نور کی کہانی ایک ایسی بیٹی کی کہانی ہے جو باپ کے لیے بیٹا بن گئی۔ غربت، روایت، اور خطرے کے بیچ اس نے جس ہنر، عزم اور ہمت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ نہ صرف متاثر کن ہے بلکہ معاشرے کے لیے ایک پیغام بھی ہے کہ ہنر اور حوصلے کی کوئی عمر یا جنس نہیں ہوتی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: موت کے کنویں میں کا کہنا ہے کہ موٹر سائیکل مریم نواز کے لیے
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔