Express News:
2026-06-03@07:58:32 GMT

ایرانی صدر کا دورہ اور5اگست کا احتجاج

اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT

اتوار کی صبح جب یہ سطور تحریر کی جا رہی ہیں، ایرانی صدر، محترم مسعود پزشکیان،پاکستان میں موجود ہیں ۔ ایرانی صدر صاحب وزیر اعظم ، جناب شہباز شریف ، کی دعوتِ خاص پر سرکاری سطح پر پاکستان کے معزز مہمان بنے ہیں۔

اُن کا دَورئہ پاک ایران برادرانہ تعلقات میں استحکام کا مظہر ہے کہ پچھلے سال ، ڈیڑھ سال کے دوران کوئی دوسرا ایرانی صدر پاکستان کے دَورے پر تشریف لایا ہے۔ حالیہ اسرائیل، ایران کی بارہ روزہ جنگ کے دوران پاکستان نے جس طرح کھل کر اور سینہ ٹھونک کر ایران پر اسرائیل کی صریح جارحیت کے خلاف ایران کا ساتھ دیا، ایران نے اِس کا شکریہ ادا کیا ہے ۔ اِس شکرئیے کی بازگشت ایرانی پارلیمنٹ میں بھی سنائی دی گئی ہے ۔

چند روز قبل پاکستان میں متعین ایرانی سفیر، جناب رضا امیری مقدم ، نے ایک پاکستانی نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہُوئے بجا طور پر یوں اعتراف کیا: ’’اسرائیل، ایران جنگ کے دوران پاکستان پہاڑ کی طرح ایران کے ساتھ کھڑا رہا۔‘‘واقعہ یہ ہے کہ اسرائیل ، ایران جنگ کے دوران ہی ایران پر عیاں ہُوا ہے کہ جنوبی ایشیا میں اُس کا اصل اور مخلص دوست کون ہے !

محترم المقام جناب مسعود پزشکیان پاکستان تشریف لائے ہیں تو سب سے پہلے لاہور میں قدم رنجہ فرمایا۔ شاعرِ مشرق حکیم الامت حضرت علامہ اقبال ؒ کے مزار شریف پر حاضری دی اور مشرق کے اس عظیم ترین شاعر کو خراجِ تحسین و عقیدت پیش کیا ۔ اُن سے قبل جب سابق ایرانی صدر ، جناب ابراہیم رئیسی مرحوم، اپریل2024 کو پاکستان تشریف لائے تھے تو انھوں نے بھی نہائت محبت و عقیدت کے ساتھ حضرت اقبالؒ کے مرقد و مزار پر حاضری بھی دی تھی اور کلامِ اقبال بھی پڑھا تھا۔

ایرانیوں کے اقبالِ لاہوری کا درست خیال تھا کہ ایران مشرقِ وسطیٰ ، وسط ایشیا اور جنوبی ایشیا کے معاملات سدھارنے اور سنبھالنے میں نہائت مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اِسی اُمید کی اساس پر اقبال نے فرمایا تھا: تہران ہو گر عالمِ مشرق کا جنیوا/ شاید کرئہ ارض کی تقدیر بدل جائے ؛ چنانچہ ہم پاکستانی بجا طور پر سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور ایران کو مزید قریب تر لانے کے لیے اقبال کی انقلابی شخصیت اور کلامِ اقبال نہائت شاندار کر دار ادا کر سکتے ہیں ۔

ایرانی انقلاب کے بعد راقم نے جب ایک پاکستانی صحافتی و ثقافتی وفد کے ساتھ ایران کا دورہ کیا تو ہم نے تہران کی متعدد دیواروں پر نہائت شاندار خطاطی میں کلامِ اقبال کو رقم دیکھا ۔ یہ منظر اِس امر کا خوبصورت مظہر تھا کہ انقلاب یافتہ پُر فخر ایرانی کلامِ اقبال کو اپنے دل و دماغ میں کیا اہمیت و حیثیت دیتے ہیں۔

اگر ہم ایران کے ممتاز ترین دانشور ، مفکر ، ادیب اور فلسفی ، پروفیسر ڈاکٹر علی شریعتی ، کی تحریریں پڑھیں تو صاف عیاں ہوتا ہے کہ جناب شریعتی علامہ اقبال کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ ایرانی انقلاب کے فکری معمار، جناب شریعتی، نے فکرِ اقبال پر ایک دلکشا کتاب بھی لکھی۔

ہم پاکستانیوں کے دلوں میں بھی اُن کا بڑا اکرام پایا جاتا ہے۔ ایسے برادرانہ اور محبانہ ماحول میں ایرانی صدر ، محترم مسعود پزشکیان، پاکستان تشریف لائے ۔ اُن کی آمد ِ مسعود سے پاک ایران تعلقات میں مزید قربتیں اور استحکام آیا ہے ۔ اُن شر انگیز و طاغوتی قوتوں کو شکست بھی ملی ہے جو اپنے مذموم و ملعون مفادات کے حصول کے لیے پاک ،ایران تعلقات میں دُوریاں اور دراڑیں ڈالنا چاہتے ہیں۔

جب ایران کے محترم صدر پاکستان کے دو روزہ دَورے پر تھے ، پاکستان میں پی ٹی آئی کے5اگست 2025کے احتجاجات کی آوازیں بھی سنائی دے رہی تھیں ۔ یقیناً یہ آوازیں ایرانی انتظامیہ کے کانوں تک بھی پہنچی ہوں گی۔ اِن آوازوں سے کوئی خوشگوار اثرات تو ہر گز مرتب نہیں ہُوئے ہوں گے ۔ نجانے یہ پی ٹی آئی کے ڈی این اے میں لکھا ہے یا یہ پی ٹی آئی کی تقدیر میں رقم کیا گیا ہے کہ جب بھی کوئی غیر ملکی اہم ترین شخصیت پاکستان کے دَورے پر آ رہی ہوتی ہے یا پاکستان میں سرکاری طور پر بطورِ مہمان موجود ہوتی ہے، پی ٹی آئی کا امن شکن اُدھم شروع ہو جاتا ہے ۔

پی ٹی آئی کے اِس مسلسل کردار نے اُس کا چہرہ گہنا کر رکھ دیا ہے ۔ ایرانی صدر صاحب پاکستان میں اُترنے والے تھے اور اسلام آباد میں پی ٹی آئی حکومت کے خلاف اپنے تئیں APCکرکے ایک پُر شور ماحول پیدا کررہی تھی۔ اِس اے پی سی کا جو اعلامیہ سامنے آیا ہے ، اِس کے بین السطور بھی5اگست کے احتجاج کے عزائم و مقاصد سامنے آ ئے ہیں ۔ مقاصد کا مرکزی نکتہ شاید یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو ہر صورت جیل سے رہا کیا جائے۔

5اگست سے قبل پی ٹی آئی کے زندانی وابستگان بارے جو ، پے در پے ، فیصلے سامنے آئے ہیں، اِس ماحول میں تو شاید احتجاجات پر کمر بستہ پی ٹی آئی کے بانی صاحب کی رہائی ممکن نہیں ہے۔ پی ٹی آئی نے اپنے بانی کی رہائی کے لیے امریکا بہادر سے بھی اُمیدیں مزید باندھ لی ہے؛ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بانی صاحب کے ایک صاحبزادے ( قاسم خان) نے یکم اگست2025کو برطانوی صحافی(Piers Morgan) کو انٹرویو دیتے ہُوئے کہا:’’ امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ، ایسی شخصیت ہیں جو اُن کے قیدی والد کے کیس میں فرق ڈال سکتے ہیں۔‘‘ دوسرے الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے صاحبزادہ صاحب امریکی صدر سے درخواست کررہے ہیں کہ وہ پاکستانی عدالتوں میں دخیل ہوں اور اُن کے والدِ گرامی کو رہا کروائیں۔ بھلا ایسا بھی کبھی ممکن ہو سکتا ہے ؟ قاسم و سلیمان امریکی صدر سے پاکستانی عدلیہ میں مداخلت کے لیے گزارش کناں تو ہیں ، مگر خود پاکستان آ کر 5اگست کے احتجاج کی قیادت کرنے کی جسارت و جرأت نہیں کر پا رہے۔

اب شنید ہے دونوں صاحبزادگان نے پاکستانی ویزے کے لیے درخواست دے دی ہے ۔ لاتعداد مایوسیوں کے باوصف پی ٹی آئی کے مگر پاکستانی عشاق اپنے جلی و خفی مقاصدو اہداف کے حصول کے لیے5اگست کا احتجاجی شو کامیاب بنانا چاہتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری جنرل ، جناب سلمان اکرم راجہ، پشاور جا کر اعلان کرتے سنائی دے رہے ہیں کہ ’’ 5اگست 2025 کو پی ٹی آئی ملک گیر احتجاج کرے گی۔‘‘

’’ملک گیر احتجاج ‘‘ کے الفاظ میں بظاہر بڑی رومانویت اور کشش پائی جاتی ہے ، مگر بباطن اِن الفاظ میں عمل کا رنگ بھرنا خاصا دشوار ہے ۔ کل 5اگست ہے ۔ یہاں ہی میدان بھی ہے اور یہاں پر ہی گھوڑا ۔ ’’ملک گیر احتجاج‘‘ کے اعلان کرنے والوں کا کل یومِ امتحان ہوگا۔ پی ٹی آئی کو ’’ملک گیر احتجاج‘‘ کرنے کا آئینی اور قانونی حق حاصل ہے ۔ وہ یہ حق بروئے کار بھی لا سکتی ہے ، خدشات مگر یہ ہیں کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے وابستگان احتجاج کے لیے اپنا یہ حق استعمال کرتے ہُوئے قانون و انصاف کا دامن نہیں تھام پاتے ۔ ہتھے سے اُکھڑ جاتے ہیں ۔ پھر اپنے لیے بھی مزید مصیبتیں لاتے ہیں اور احتجاج سے لاتعلق عوام کے لیے بھی ۔ اب تو یہ پی ٹی آئی کا گویا ’’ٹریڈ مارک‘‘ بن گیا ہے ۔

ویسے پی ٹی آئی اور اس کی قیادت صاف الفاظ میں کہہ کیوں نہیں دیتی کہ 5اگست کے احتجاج کا اصل مقصد و ہدف ایک ہی ہے: بانی کی رہائی !بانی صاحب خود بھی تو مبینہ طور پر ڈِیل سے رہا ہو کر اپنے من پسند مغربی ملک جانا چاہتے ہیں مگر حکومت مبینہ طور پر انھیں کسی خلیجی ملک بھجوانا چاہتی ہے ۔ گزشتہ روز وزیر مملکت ، حذیفہ رحمان ، نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہُوئے یہی خاص انکشاف تو کیا ہے ۔ واللہ اعلم!!

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ملک گیر احتجاج پی ٹی ا ئی کے پاکستان میں ایرانی صدر پاکستان کے کے احتجاج الفاظ میں کے دوران ہیں کہ دیتے ہ کے لیے

پڑھیں:

اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ رحیم کے دورۂ گلگت بلتستان کے الیکشن پر اثرات

اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ شاہ رحیم الحسینی نے اپنے سرکاری دورۂ پاکستان کے دوران گلگت بلتستان اور چترال میں مریدوں سے اہم ملاقات کی ہیں تاہم ان کا یہ دورہ ایک ایسے وقت ہوا جب گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔

شہزادہ شاہ رحیم الحسینی امامت سنبھالنے کے بعد پہلی بار 20 مئی کی شام اسلام آباد کے نور خان ایئر بیس پر پہنچے تو ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ صدر آصف علی زرداری اور خاتونِ اوّل نے نور خان ایئر بیس پر ان کا پرتپاک استقبال کیا اور ایوانِ صدر میں ان کے اعزاز میں عشائیہ دیا جبکہ اگلی صبح وزیراعظم نے انہیں ناشتے پر مدعو کیا۔ پرنس شاہ رحیم 22 مئی کو گلگت بلتستان پہنچے اور مریدوں سے ملاقات اور دیدار کا سلسلہ شروع ہوا۔

پرنس شاہ رحیم کا دورہ اور گلگت بلتستان الیکشن

اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا کا امامت سنبھالنے کے بعد پاکستان کا یہ پہلا دورہ تھا۔ ان کے دورے کا باضابطہ اعلان ہوتے ہی گلگت بلتستان اور چترال میں ان کے مریدوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور جشن کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

پرنس رحیم نے ایک ایسے وقت میں گلگت بلتستان میں اپنے مریدوں سے ملاقات کی جب وہاں عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم شروع تھی۔ اسماعیلی برادری کے دورے کا سیاست اور الیکشن سے کوئی تعلق ہے نہ ہی انہوں نے سیاست پر کوئی بات کی۔ انہوں نے اپنے مریدوں سے خطاب میں تعلیم، معاشیات، ہنر، موسمیاتی تبدیلی اور جدید دور کے تقاضوں پر بات کی، تاہم اس کے باوجود کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ ان کے دورے کا الیکشن پر کچھ حد تک بالواسطہ اثر پڑ سکتا ہے۔

مریدوں کا جھکاؤ کس طرف ہو گا؟

آغا خان کے دورے اور گلگت بلتستان الیکشن پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق بظاہر آغا خان پنجم کے دورے کا الیکشن پر کوئی اثر نظر نہیں آ رہا۔ ان کے مطابق آغا خان کا خاندان غیر سیاسی ہے اور کبھی انہوں نے کسی ملک کی سیاست یا انتخابات پر بات کی ہے نہ ہی اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے۔ حالیہ دورے کے دوران بھی انہوں نے کہیں بھی سیاست پر بات نہیں کی۔

یہ بھی پڑھیں:پرنس رحیم آغا خان کا پہلا سرکاری دورۂ پاکستان مکمل، خیرسگالی اور یکجہتی کا پیغام

نوجوان صحافی کامران علی جنہوں نے آغا خان پنجم کے دورے کی کوریج کی، کا کہنا ہے کہ پرنس رحیم نے اپنے مریدوں سے خطاب میں سیاست پر ایک لفظ بھی نہیں کہا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ آغا خان نے سیاست پر بات نہیں کی، لیکن جن رہنماؤں نے ان کا استقبال کیا اور عزت دی، ان کا گراف مریدوں کی نظر میں بلند ہو گیا۔ ’گلگت بلتستان میں اسماعیلی برادری کی خاصی آبادی ہے اور ان کے ووٹ کسی کی بھی جیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں‘۔

کامران علی کے مطابق پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اپنی بیٹی اور خاتونِ اول کے ساتھ خود نور خان ایئر بیس گئے اور آغا خان کا استقبال کیا۔ جب وہ ایوانِ صدر پہنچے تو بلاول بھٹو زرداری نے بھی ان کا خیر مقدم کیا۔

کامران علی نے بتایا کہ جب آغا خان شاہ رحیم الحسینی کے والد شاہ کریم الحسینی کا انتقال ہوا تھا تو اس وقت صدر پاکستان آصف علی زرداری تعزیت کے لیے پرتگال گئے تھے۔ ’اگرچہ آغا خان کا سرکاری سطح پر استقبال کیا جاتا ہے، لیکن آصف علی زرداری کی اہمیت مریدوں کی نظر میں بڑھ گئی ہے‘۔

کامران نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے بھی اسے سیاسی طور پر استعمال نہیں کیا، لیکن مرید سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور امام کی عزت و وقار کے لیے وہ سب کچھ کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں:گلگت بلتستان الیکشن میں کس کا پلہ بھاری ہے؟

ان کاکہنا ہے کہ ’میرے خیال میں اگر آغا خان کے دورے کا سیاسی سطح پر کوئی فائدہ ہوا تو وہ پیپلز پارٹی کو ہو گا، کیونکہ انہوں نے اس دورے کو سب سے زیادہ اہمیت دی۔ وفاق میں صدر، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کے گورنرز نے ان کا بھرپور استقبال کیا‘۔

آغا خان کے دورے کا فائدہ کس حد تک ہو گا؟

اسماعیلی برادری سے تعلق رکھنے والوں کا خیال ہے کہ اس دورے کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ذاکر خان کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور وہ اپنے امام کے دیدار کے لیے کراچی سے گئے تھے، نے بتایا کہ اس دورے کے دوران کہیں بھی انہوں نے سیاست پر بات نہیں کی۔

ذاکر کے مطابق پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے جس طرح آغا خان کا استقبال کیا اور عزت دی، اس سے ان کی نظروں میں ان کی اہمیت بڑھ گئی۔

ان کے مطابق پیپلز پارٹی نے ابھی تک اسے سیاسی طور پر استعمال نہیں کیا۔ ذاکر کا خیال ہے کہ اس دورے سے وہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں جنہوں نے دورے کے دوران پیش پیش رہ کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہو۔ ’اسماعیلی برادری کے لوگ تعلیم یافتہ ہیں، وہ میرٹ پر یقین رکھتے ہیں اور ووٹ بھی میرٹ پر ہی دیتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی طرف جھکاؤ بڑھ سکتا ہے، لیکن دیگر جماعتوں سے بھی اسماعیلی امیدوار میدان میں ہیں۔ ’اسماعیلی برادری سے تعلق رکھنے والے امیدوار جماعت کے دفاتر یا دیگر نجی ملاقاتوں میں اس دورے کا ذکر کرتے ہیں اور اپنی جماعت کی طرف سے امام کو دیے گئے عزت و احترام کو ووٹرز کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں:تعلیم، برداشت اور اخلاقی رویوں سے انسانیت کی خدمت کی جائے، پرنس رحیم آغا خان کا  گلگت میں خطاب

انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری الیکشن مہم کے سلسلے میں گلگت بلتستان میں موجود ہیں جبکہ نواز شریف بھی وہاں پہنچے ہیں۔ دونوں جماعتوں نے آغا خان کو بہت عزت دی، لیکن الیکشن مہم میں اس کا ابھی تک براہِ راست ذکر نہیں کیا گیا۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ جس جماعت نے امام کو عزت دی ہے، اس کا گراف اسماعیلی برادری میں بلند ہو گیا ہے تاہم یہ مقامی امیدواروں پر ہے کہ وہ اسے کیسے کیش کرتے ہیں‘۔

ذاکر نے بتایا کہ اس دورے کو سیاست کے ساتھ منسلک کرنے سے سیاسی امیدواروں اور جماعتوں کو نقصان کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اسماعیلی برادری کے لوگ مذہب کو سیاست سے الگ رکھتے ہیں اور موقع پرستوں کو پسند نہیں کرتے۔

سیاست سے کوئی تعلق نہیں، تمام امیدواروں کے لیے نیک خواہشات

اسماعیلی کونسل گلگت کی امورِ عامہ و سیکیورٹی کمیٹی نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ کونسل ایک غیرسیاسی اور غیرجانبدار ادارہ ہے اور گلگت بلتستان اسمبلی کی جاری انتخابی مہم میں کسی سیاسی جماعت، امیدوار یا انتخابی گروپ کی حمایت یا مخالفت نہیں کرتی۔

مقامی نیوز ویب سائٹ پامیر ٹائمز کے مطابق انتخابات سے قبل جاری بیان میں کمیٹی نے کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے اور آزاد امیدوار پورے خطے میں انتخابی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ اسماعیلی کونسل ایک امامت کا ادارہ ہے جو سیاسی معاملات میں سخت غیرجانبداری برقرار رکھتی ہے اور کسی امیدوار یا جماعت کی توثیق نہیں کرتی۔

اسماعیلی کونسل نے یہ بیان اس وقت جاری کیا جب اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شاہ رحیم الحسینی گلگت بلتستان کا دورہ مکمل کر کے واپس روانہ ہو گئے۔

بیان میں کونسل نے تمام سیاسی جماعتوں، ان کے نمائندوں اور آزاد امیدواروں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ انتخابی عمل جمہوری اقدار، باہمی احترام، قانون کی حکمرانی اور پرامن ماحول کے مطابق ہوگا۔

مزید پڑھیں:وزیرِ اعظم شہباز شریف اور پرنس رحیم آغا خان کی ملاقات، آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کو وسعت دینے پر زور

بیان میں مزید زور دیا گیا کہ ہر اسماعیلی ووٹر اپنے ضمیر، سیاسی سمجھ بوجھ اور ذاتی رائے کے مطابق آئینی حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے لیے آزاد ہے۔ اس پر زور دیا گیا کہ کونسل کسی فرد یا گروہ کو کسی خاص سیاسی جماعت یا امیدوار کی حمایت یا مخالفت کی ہدایت نہیں دیتی۔

اسماعیلی کونسل نے کمیونٹی کے افراد پر زور دیا کہ وہ انتخابی مدت کے دوران احترام، اتحاد، رواداری اور ذمہ دارانہ رویہ برقرار رکھیں، سیاسی وابستگیوں کو ذاتی معاملہ سمجھیں اور کمیونٹی کے اتحاد کو ترجیح دیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف علی زرداری آصفہ بھٹو آغا الیکشن بلتستان پرنس پرنس رحیم آغا پیپلز پارٹی دورہ پاکستان رحیم عام انتخابات گلگت

متعلقہ مضامین

  • امریکی سفارت کاری نہیں، میزائلوں کی زبان سمجھتے ہیں، ایران
  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ رحیم کے دورۂ گلگت بلتستان کے الیکشن پر اثرات
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا