لاہور (نوائے وقت رپورٹ) وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر پنجاب بھر میں جشن آزادی کی سرگرمیاں تیز ہو گئیں۔ اناسیواں جشن آزادی منانے کی تقریبات کا دوسرا دن ہے۔ پنجاب میں تحصیل، ضلع اور ڈویژن کی سطح پر جشن آزادی کے سلسلے میں رنگا رنگ تقاریب کا انعقاد کیاگیا۔ پنجاب بھر میں قومی پرچموں کی بہار آ گئی، گلیاں، بازار، چوک چوراہے، راستے خوبصورتی سے سجا دئیے گئے۔ گجرات، خانیوال، ساہیوال، خوشاب میں بھی جشن آزادی کی سرگرمیاں تیز ہو گئیں۔ جھنگ، وہاڑی، جہلم، ٹوبہ ٹیک سنگھ، گوجرانوالہ، چنیوٹ، سرگودھا، چکوال میں بھی جشن آزادی کی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ جہلم میں وزیراعلیٰ پنجاب کے مشیر صحت جنرل اظہر کیانی نے جشن آزادی کی تقریب میں شرکت کی۔ پاکستان کی سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا۔ جنرل اظہر کیانی سمیت دیگر افراد نے جشن آزادی پر خاص طور پر تیار کردہ کئی میٹر طویل پرچم کی تقریب میں بھی شرکت کی۔ سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم لہرانے کی خصوصی تقاریب کے انعقاد اور گھروں کو جھنڈیوں اور پرچموں سے سجانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ سکولوں میں بھی مختلف تقاریب منعقد کی جا رہی ہیں۔ جشن آزادی تقریبات کے سلسلے میں سرکاری و نجی عمارتوں پر چراغاں کیا گیا ہے۔ عوام کی بڑی تعداد جشن آزادی پر خوبصورت سجاوٹ دیکھنے سڑکوں پر نکل آئے۔ بچے جشن آزادی تقریبات میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔ علاوہ ازیں وزیر اعلیٰ نے موضع محرم سیال میں تیزاب گردی کے واقعہ پر سخت غم وغصہ کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے آر پی او فیصل آباد سے فوری رپورٹ طلب کر لی اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے متاثرہ بشریٰ فاطمہ کے بہترین علاج کی ہدایت کی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: جشن ا زادی کی مریم نواز میں بھی

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت