بلوچستان: منگوچر میں گرڈ اسٹیشن پر حملہ، کیسکو کے عملے، گارڈز کو یرغمال بنالیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
2 درجن کے قریب مسلح افراد نے زرد غلام جان منگوچر گرڈ اسٹیشن پر حملہ کر دیا، جس کے دوران انہوں نے کنٹرول روم اور دیگر آلات کو شدید نقصان پہنچایا اور کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کے عملے اور سیکیورٹی گارڈز کو یرغمال بنالیا۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق کیسکو کے حکام نے اتوار کے روز بتایا کہ تقریباً 20 مسلح افراد نے 132 کے وی گرڈ اسٹیشن پر حملہ کیا، جس سے گرڈ اسٹیشن کو شدید نقصان پہنچا۔
مسلح افراد نے سیکیورٹی گارڈز سے 12 بور رائفل چھین لی اور اسٹیشن کے عملے کو اسلحے کے زور پر یرغمال بناتے ہوئے عمارت میں توڑ پھوڑ کی۔
کیسکو کے ترجمان کے مطابق ملزمان نے گرڈ اسٹیشن کے اندر فائرنگ بھی کی، جس کے نتیجے میں کنٹرول روم، ہائی پاور ٹرانسفارمر، کرنٹ ٹرانسفارمرز، کنزرویٹر ٹینک، ریڈی ایٹر ٹیوبز، اے سی/ڈی سی پینلز، آکسیلری پینلز اور دیگر ضروری برقی آلات کو نقصان پہنچا۔
کچھ دیر تک عملے اور گارڈز کو ہتھیاروں کے زور پر یرغمال رکھنے کے بعد، حملہ آوروں نے انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دیتے ہوئے عمارت خالی کرنے کا حکم دیا، اس کے بعد عملہ اور سیکیورٹی گارڈز اپنی جان بچا کر فرار ہو گئے۔
بعد ازاں، کیسکو حکام نے مقامی تھانے میں حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے تحریری درخواست جمع کروائی۔
علاوہ ازیں، کچھ افراد نے کچلاک بائی پاس کے قریب 132 کے وی یارو انڈسٹریل ٹرانسمیشن لائن کو رسیوں کے ذریعے فنی خرابی پیدا کر کے نقصان پہنچایا۔
مقامی انتظامیہ اور پولیس کے ساتھ مشترکہ گشت کے دوران تقریباً 700 میٹر کنڈکٹرز اور دیگر برقی آلات چوری شدہ پائے گئے۔
الیکٹرک کمپنی نے بعد میں پولیس کو ایک اور تحریری درخواست دی تاکہ ٹرانسمیشن لائن کی چوری میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
ترجمان نے کوئٹہ، مستونگ، قلات، دشت، اور سبی میں حالیہ ہفتوں کے دوران بجلی کے نظام کو نشانہ بنانے والے بڑھتے ہوئے تخریبی حملوں اور چوری کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ان حملوں سے نہ صرف بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی بلکہ یہ عوامی سلامتی اور قومی اثاثوں کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔
کیسکو نے تمام صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ قومی انفرااسٹرکچر کی حفاظت میں مدد کریں اور ٹرانسمیشن لائنز میں چوری یا چھیڑ چھاڑ سے متعلق کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو دیں۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: گرڈ اسٹیشن افراد نے
پڑھیں:
بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب
اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔
تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت
اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔
دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔
یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ