یومِ شہدائے پولیس: صدر، وزیراعظم اور وزیر داخلہ کا پولیس کے شہداء کو خراجِ عقیدت
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
پنجاب بھر میں آج یومِ شہدائے پولیس عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے، جہاں مختلف شہروں میں منعقدہ تقریبات میں پولیس کے ان عظیم شہداء کی یاد میں شمعیں روشن کی گئیں جنہوں نے وطن کی سلامتی، امن اور ریاستی عملداری کے تحفظ کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا صدر مملکت آصف علی زرداری نے اس موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ یومِ شہدائے پولیس ہمیں اُن بہادر افسروں اور جوانوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے ملک و قوم کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے دہشت گردی، جرائم اور بدامنی کے خلاف ہر اول دستے کا کردار ادا کیا ہے اور قوم ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ صدر مملکت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت شہداء کے ورثا کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھاتی رہے گی وزیراعظم شہباز شریف نے بھی یومِ شہداء پر اپنے پیغام میں پولیس کے ہزاروں شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں قوم کا فخر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 8 ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، اور ان شہداء کے اہل خانہ کو بھی سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے وطن کی خاطر اپنا مستقبل قربان کر دیا۔ وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پولیس نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے دنیا میں اپنا مقام بنایا ہے، جبکہ پولیسنگ میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ چار اگست کا دن اُن عظیم محافظوں کے نام ہے جنہوں نے اپنے خون سے ملک کی داخلی سلامتی کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے تمام شہداء ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے، اور قوم ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں، جرائم پیشہ عناصر اور سماج دشمن قوتوں کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی جانیں نچھاور کرنے والے افسران اور جوان ہمارے ہیرو ہیں محسن نقوی نے یہ بھی کہا کہ ریاست ان شہداء کے خاندانوں کی مقروض ہے جن کے بیٹے امن و تحفظ کے لیے قربان ہو گئے، اور آج ہم سب اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ نہ صرف اپنے شہداء کو یاد رکھیں گے بلکہ اُن کے اہل خانہ کو بھی کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے ایس ایس پی اشرف مارتھ، کیپٹن مبین اور دیگر عظیم شہداء کو خاص طور پر خراج عقیدت پیش کیا یومِ شہدائے پولیس کے موقع پر عوام، سول سوسائٹی اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے بھی شہداء کے لیے خصوصی دعاؤں، تقاریب اور یادگاری سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا ہے تاکہ ان بہادر سپاہیوں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے جن کی بدولت آج وطن میں امن قائم ہے
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ شہدائے پولیس کہ پولیس شہداء کے پولیس کے شہداء کو جنہوں نے پیش کیا کے لیے
پڑھیں:
عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
پاکستان کے لیجنڈری گلوکار عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی(Attaullah Khan Esakhelvi) نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں اپنی آخرت کی تیاری اور اپنی قبر سے متعلق گفتگو کی ہے۔
عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی نے پوڈکاسٹ میں بتایا کہ میں نے اپنی قبر پہلے ہی تیار کروا لی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے آخرت کی تیاری کر لی ہے، میری قبر عیسیٰ خیل میں تیار ہے، اگر آپ میری زندگی میں آئیں گے تو میں آپ کو دکھا دوں گا، ورنہ بعد میں خود دیکھ لیں گے، ہمارا خاندانی قبرستان ہے اور میں نے وہاں اپنے لیے ایک قبر مخصوص کروا رکھی ہے، ساتھ کچھ مزید جگہ بھی ہے، ایک میری اہلیہ کے لیے بھی ہے، اگرچہ یہ بات میں نے مذاق میں کہی تھی، اصل میں صرف اپنی قبر تیار کروائی ہے، اللّٰہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے۔
مزیدپڑھیں:بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی نے بتایا کہ فارم ہاؤس اور مسجد تعمیر کروانے کے بعد میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اپنی آخری آرام گاہ بھی وہیں ہونی چاہیے۔
گلوکار کا کہنا ہے کہ والدہ، عزیز و اقارب اور قریبی دوستوں کی وفات نے مجھے زندگی اور موت کے بارے میں زیادہ سوچنے پر مجبور کیا اور میں صرف اتنی دعا کرتا ہوں کہ اللّٰہ مجھے پُرسکون موت عطاء فرمائے۔
عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کے اس بیان پر سوشل میڈیا صارفین کی مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔