بیجنگ : چینی ریاستی کونسل کے انفارمیشن آفس نے شی زانگ  خود اختیار علاقے  کے قیام کے بعد  گزشتہ 60 سالوں  میں  یہاں کی معاشی اور سماجی ترقی کی کامیابیوں  کے حوالے سے  ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا۔منگل کے روزپریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ 60 سال قبل شی زانگ  خود اختیار علاقے کے قیام کے بعد سے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا  کی قیادت میں شی زانگ نے سوشلسٹ نظام اور عوامی جمہوری حکومت قائم کی ہے، اصلاحات اور کھلے پن کو نافذ کیا ہے، ہمہ جہت طریقے سے ایک معتدل خوشحال معاشرے کی تعمیر کی ہے اور پورے ملک کے ساتھ مل کر ایک جدید سوشلسٹ ملک کی تعمیر کے نئے سفر کا آغاز کیا ہے۔ خاص طور پر کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی 18ویں قومی کانگریس کے بعد سے ،  شی جن پھنگ کی قیادت میں  مرکزی کمیٹی نے شی زانگ کے کام کو بہت اہمیت دی ہے اور شی زانگ   کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں ہمہ جہت ترقی اور تاریخی کامیابیوں کو فروغ دیا ہے۔60 سال قبل شی زانگ   خود اختیار علاقے کے قیام کے بعد سے یہاں کی اقتصادی ترقی میں مسلسل بہتری آئی ہے۔یہاں کی  جی ڈی پی کو پہلے 100 ارب تک پہنچنے میں 50 سال جبکہ دوسرے 100 ارب تک پہنچنے میں صرف 6 سال لگے۔ اس عرصے کے دوران لوگوں کے معیار زندگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ غربت کے خلاف جنگ بڑے پیمانے پر جیت لی گئی ہے، اور شی زانگ  ہزاروں سالوں سے مطلق غربت کے مسئلے سے مکمل طور پر نکل چکا ہے۔  شی زانگ میں اوسط عمر بڑھ کر 72.

5 سال ہو گئی ہے۔اس کے علاوہ شی زانگ  نے اپنے انفراسٹرکچر  کو مسلسل بہتر بنایا ہے۔ 2024 کے اختتام تک شی زانگ  کی شاہراہوں اور ریلوے  لائنز کی کل لمبائِی  بالترتیب 124,900 کلومیٹر اور 1،359 کلومیٹر تک پہنچ  گئی  اور بین الاقوامی اور ملکی ہوائی روٹس کی تعداد 183 تک پہنچ  گئی ۔  دیہات میں  پینے کے پانی کی حفاظت کا مسئلہ  بنیادی طور پر حل ہو چکا ہے  ، اور تمام انتظامی دیہاتوں نے آپٹیکل فائبر اور 4 جی نیٹ ورکس تک رسائی حاصل کر لی ہے۔

Post Views: 5

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے بعد

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ سیکٹر متاثر, بس اڈے پر مسافروں میں نمایاں کمی
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ویژن 2030 نے سعودی معاشرے کو نئی سمت دے دی، خواتین، صحت اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی