ایف آئی اے اور نیب کی بحریہ ٹاؤن میں مشترکہ کارروائی، مالی ریکارڈ اور ڈیجیٹل شواہد برآمد
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
ایف آئی اے اور نیب نے بحریہ ٹاؤں کراچی میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے نجی اسپتال میں چھپایا گیا مالی ریکارڈ اور ڈیجیٹل شواہد قبضے میں لے لیے ہیں۔
بحریہ ٹاؤن کے خلاف مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے ساتھ مل کر مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے خفیہ مالی ریکارڈ، ادائیگیوں سے متعلق فائلز اور ڈیجیٹل شواہد برآمد کر لیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مالی طور پر مفلوج ہوچکے، بحریہ ٹاؤن کی تمام سرگرمیاں بند کررہے ہیں، ملک ریاض
ایف آئی اے کے مطابق یہ حساس ریکارڈ اسلام آباد میں واقع ایک نجی فلاحی اسپتال کی عمارت میں چھپایا گیا تھا، جسے بحریہ ٹاؤن انتظامیہ مبینہ طور پر بطور فرنٹ آفس استعمال کر رہی تھی تاکہ مالی بے ضابطگیوں سے متعلق شواہد کو چھپایا جا سکے۔
چھاپے کے دوران چھپائے گئے کمپیوٹرز، سرورز اور دیگر ڈیجیٹل ڈیٹا بھی برآمد کر لیا گیا۔ تفتیشی حکام کے مطابق تمام ریکارڈ اسپتال کے گیسٹ روم میں محفوظ کیا گیا تھا جبکہ ایک نجی ایمبولینس کے ذریعے حساس مواد کی منتقلی کی جاتی رہی تاکہ شک نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: بحریہ ٹاؤن کی جائیدادوں کا نیلام عام، نیب نے تاریخ کا اعلان کر دیا
بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ نے فلاحی اسپتال کے پردے میں اپنے نجی ہاؤسنگ منصوبوں سے متعلق اہم دستاویزات کو بھی چھپایا ہوا تھا۔ اس سلسلے میں بحریہ ٹاؤن کے مرکزی دفاتر پر بھی کارروائی کی گئی جہاں سے متعدد منصوبوں کی فائلیں اور دیگر متعلقہ کاغذات ایف آئی اے نے قبضے میں لے لیے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی بحریہ ٹاؤن کی مبینہ مالی بدعنوانی اور شواہد چھپانے کی کوششوں کے خلاف ایک اہم سنگ میل ہے، اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں احتساب کے عمل کو مزید تقویت دینے کی جانب بڑا قدم ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news ایف آئی اے ایمبولینس بحریہ ٹاؤن کارروائی کراچی نیب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایف ا ئی اے ایمبولینس بحریہ ٹاؤن کارروائی کراچی بحریہ ٹاؤن کی
پڑھیں:
مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو (اے جی پی آر) اسلام آباد نے مالی سال 26-2025 کے اختتام کے سلسلے میں ادائیگیوں، بلوں اور کلیمز کی وصولی کے لیے اہم ڈیڈ لائنز مقرر کردی ہیں۔
اے جی پی آر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تمام ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسرز (ڈی ڈی اوز) کو ہدایت کی گئی ہے کہ حالیہ خریداریوں اور حاصل کی گئی خدمات کے تمام کلیمز 12 جون 2026 تک لازمی طور پر جمع کرائے جائیں۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ 12 جون 2026 تک جاری کیے گئے ٹوکنز کے تحت تمام غیر منظور شدہ بلوں اور دعوؤں کو دوبارہ جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 جون 2026 مقرر کی گئی ہے۔
اسی طرح اے جی پی آر اسلام آباد اور اس کے ماتحت دفاتر کے زیر انتظام اسائنمنٹ اکاؤنٹس کے لیے ریلیز جمع کرانے کی آخری تاریخ 19 جون 2026 ہوگی۔
اے جی پی آر نے واضح کیا ہے کہ 12 جون 2026 کے بعد اعزازیہ (ہونوریرئم) سے متعلق کوئی کلیم وصول نہیں کیا جائے گا۔
مزید برآں آف سائیکل ادائیگیوں کے حوالے سے کمپیوٹرائزڈ تبدیل شدہ اسٹیٹمنٹس صرف 11 جون 2026 تک وصول کی جائیں گی، جبکہ ان پر کارروائی عارضی طور پر 16 جون 2026 تک مکمل کر لی جائے گی۔
نوٹیفکیشن میں تمام ڈی ڈی اوز اور متعلقہ دفاتر کو تاکید کی گئی ہے کہ ادائیگیوں اور مالی معاملات میں کسی قسم کی تاخیر سے بچنے کے لیے تمام کیسز مقررہ مدت کے اندر جمع کرائے جائیں۔
اے جی پی آر نے یہ بھی آگاہ کیا ہے کہ موجودہ مالی سال سے متعلق تنخواہوں کے چیکس مالی سال کے اختتام پر زائد المعیاد (اسٹیل) تصور ہوں گے اور 30 جون 2026 کے بعد ان کے متبادل چیکس جاری نہیں کیے جائیں گے۔
ادارے نے تمام متعلقہ سرکاری دفاتر اور مالیاتی حکام پر زور دیا ہے کہ بلوں، ادائیگیوں اور کلیمز سے متعلق تمام مقررہ ڈیڈ لائنز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ مالی سال 26-2025 کے حسابات بروقت اور مؤثر انداز میں مکمل کیے جا سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آخری تاریخ مقرر کلیمز مالی سال کا اختتام وی نیوز