برآمدات بڑھانے کیلئے منڈیوں کی منصوبہ بندی ناگزیر: فیصل کنڈی
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبر پی کے فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ملکی برآمدی صنعت سے وابستہ تاجر اور کاروباری شخصیات پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ خیبر پی کے زرعی، صنعتی اور معدنی وسائل سے مالا مال اور یہاں ہر شعبے میں ترقی کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ برآمدات، خصوصاً معدنیات، ہینڈی کرافٹس، ہربل پروڈکٹس، ماربل اور فرنیچر جیسے شعبوں میں معیار اور جدت لا کر عالمی منڈیوں کی ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز گورنر ہاؤس پشاور میں آل پاکستان کمرشل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے منعقدہ گولڈ میڈل ایوارڈ کی پر وقار تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔ تقریب میں چیئرمین APCEA افتخار احمد، سرپرست اعلیٰ حاجی معمور، سابق چیئرمین مشتاق احمد، سینئر نائب صدر حنان خان، ڈائریکٹر TDAP نعمان بشیر، برآمدکنندگان اور تاجر برادری نے شرکت کی۔ چیئرمین افتخار احمد نے گورنر ہاؤس میں تقریب کے انعقاد پر گورنر کا شکریہ ادا کیا اور ایسوسی ایشن کے اغراض ومقاصد پرروشنی ڈالی ۔ اپسیا کامقصد ملکی ایکسپورٹ کو بڑھاناہے۔ انہوں نے جیم سٹون پر پابندی ختم کرانے پر وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور گورنر خیبر پی کے کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب کے آخر میں بہترین ایکسپورٹرز میںاپسیا کی جانب سے گورنر نے گولڈ میڈل ایوارڈ تقسیم کئے۔در ین اثناء فیصل کریم کنڈی نے تحریک انصاف کے احتجاج پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی گلی کوچوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ اب ان کی کسی تحریک میں جان نہیں، وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہو چکا۔ بانی پی ٹی آئی کو سزائیں عدالتوں نے دی ہیں۔ اپنی حکومت کے دوران یہ لوگ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشت گردوں کو واپس لے کر آئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔