امیر جماعت اسلامی پشاور بحراللہ ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ مودی اور نیتن یاہو اسلام دشمنی میں ایک جیسے چہرے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان انجینئر حافظ نعیم الرحمٰن کی کال پر ملک بھر کی طرح خیبر پختونخوا میں منگل کے روز "یوم حقوق کشمیر و فلسطین بھرپور جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ پشاور، مردان، صوابی، چارسدہ، خیبر اور ضلع نوشہرہ کے علاقہ پبی میں جماعت اسلامی کے تحت احتجاجی مظاہروں، ریلیوں، سیمنارز کا اہتمام کیا گیا، جس میں جماعت اسلامی کے کارکنان اور عوام الناس نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ یوم حقوق کشمیر و فلسطین کے سلسلے میں صوبائی دارلحکومت پشاور میں جماعت اسلامی کے زیراہتمام پریس کلب پشاور کے سامنے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس کی قیادت جماعت اسلامی کے ضلعی امیر بحراللہ خان ایڈوکیٹ، ضلعی نائب امراء حمد اللہ جان بڈھنی، سراج الدین قریشی اور امیر سٹی حافظ حمید اللہ خان ایڈوکیٹ نے کی۔ مظاہرے میں جماعت اسلامی یوتھ کے کارکنان اور اہلیان پشاور نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرین نے بینرز اور کتبے اٹھارکھے تھے جن پر بھارت، امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اور کشمیر و فلسطین کے حق میں نعرے درج تھے۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کے ممبر اور ضلع پشاورکے امیر بحراللہ خان ایڈوکیٹ نے کہا کہ مودی اور نیتن یاہو اسلام دشمنی میں ایک جیسے چہرے ہیں جو دلیل کے بجائے طاقت کی زبان سمجھتے ہیں۔ اسلامی دنیا کے حکمران متحد ہوگئے تو اہلیان کشمیر اور فلسطین کو حقیقی آزادی نصیب ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کو مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی ریاستی حیثیت کو ختم کیا اور اس کے بعد وادی میں بھارتی افواج کے مظالم کے نئے باب کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ بھارت کی طرف سے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کشمیریوں کی شناخت، خودمختاری اور تشخص پر حملہ تھا جس کا مقصد آبادی کا تناسب بدلنا اور کشمیریوں کی آواز کو دبانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے اس یکطرفہ و غیرقانونی طریقے سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے ماورائے دستور فیصلے کو روز اول سے پاکستان سمیت بین الاقوامی برادری نے یکسر مسترد کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ دوسری طرف گزشتہ دو سالوں کے دوران اسرائیل نے غزہ اور فلسطین میں انسانیت کو ملیامیٹ کرنے کی جو شرمناک اور ظالمانہ پالیسی اپنائی ہے امریکہ اس وحشیانہ عمل میں اسرائیل کی پشت پر کھڑا ہے۔ مردان پریس کلب میں بھی جماعت اسلامی کے زیراہتمام سیمنار کا انعقاد کیا گیا جس سے پروفیسر ڈاکٹر فخرالاسلام اور جماعت اسلامی کے ضلعی امیر غلام رسول نے خطاب کیا جبکہ جماعت اسلامی ضلع صوابی کے تحت ضلعی دفتر میں یوم حقوق کشمیر و فلسطین کے سلسلے میں سیمنار اور بعد ازاں ضلعی امیر مفتی مراد احمد کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا۔ ضلع چارسدہ میں بھی جماعت اسلامی کے ضلعی امیر شاہ حسین ایڈوکیٹ اور نائب امیر مصباح اللہ کی قیادت احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور مقررین نے کشمیر اور فلسطین کے نہتے عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی۔

یوم حقوق کشمیر وفلسطین کے سلسلے میں امیر جماعت اسلامی ضلع خیبر شاہ فیصل آفریدی اور مراد حسین شنواری کی قیادت میں تاریخی باب خیبر کے مقام پر کشمیر اور فلسطین کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے سلسلے میں ریلی کا انعقاد کیا گیا اور ضلع نوشہرہ کے علاقہ پبی میں بھی ضلعی نائب امیر مولانا گوہر رحمٰن کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، ان مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بھارت، اسرائیل اور امریکی مظالم کے زریعے عرصہ دراز سے کشمیر اور فلسطین میں بے گناہ بچوں خواتین اور نہتے عوام پر عرصہ حیات تنگ کیا گیا ہے جس پر اقوام عالم کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: یوم حقوق کشمیر و فلسطین کشمیر اور فلسطین میں جماعت اسلامی جماعت اسلامی کے احتجاجی مظاہرہ کے سلسلے میں فلسطین کے نے کہا کہ کی قیادت کیا گیا

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن