جماعت اسلامی خیبر پختونخوا نے یوم حقوق کشمیر و فلسطین بھرپور جذبے کے ساتھ منایا
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
امیر جماعت اسلامی پشاور بحراللہ ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ مودی اور نیتن یاہو اسلام دشمنی میں ایک جیسے چہرے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان انجینئر حافظ نعیم الرحمٰن کی کال پر ملک بھر کی طرح خیبر پختونخوا میں منگل کے روز "یوم حقوق کشمیر و فلسطین بھرپور جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ پشاور، مردان، صوابی، چارسدہ، خیبر اور ضلع نوشہرہ کے علاقہ پبی میں جماعت اسلامی کے تحت احتجاجی مظاہروں، ریلیوں، سیمنارز کا اہتمام کیا گیا، جس میں جماعت اسلامی کے کارکنان اور عوام الناس نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ یوم حقوق کشمیر و فلسطین کے سلسلے میں صوبائی دارلحکومت پشاور میں جماعت اسلامی کے زیراہتمام پریس کلب پشاور کے سامنے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس کی قیادت جماعت اسلامی کے ضلعی امیر بحراللہ خان ایڈوکیٹ، ضلعی نائب امراء حمد اللہ جان بڈھنی، سراج الدین قریشی اور امیر سٹی حافظ حمید اللہ خان ایڈوکیٹ نے کی۔ مظاہرے میں جماعت اسلامی یوتھ کے کارکنان اور اہلیان پشاور نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرین نے بینرز اور کتبے اٹھارکھے تھے جن پر بھارت، امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اور کشمیر و فلسطین کے حق میں نعرے درج تھے۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کے ممبر اور ضلع پشاورکے امیر بحراللہ خان ایڈوکیٹ نے کہا کہ مودی اور نیتن یاہو اسلام دشمنی میں ایک جیسے چہرے ہیں جو دلیل کے بجائے طاقت کی زبان سمجھتے ہیں۔ اسلامی دنیا کے حکمران متحد ہوگئے تو اہلیان کشمیر اور فلسطین کو حقیقی آزادی نصیب ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کو مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی ریاستی حیثیت کو ختم کیا اور اس کے بعد وادی میں بھارتی افواج کے مظالم کے نئے باب کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ بھارت کی طرف سے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کشمیریوں کی شناخت، خودمختاری اور تشخص پر حملہ تھا جس کا مقصد آبادی کا تناسب بدلنا اور کشمیریوں کی آواز کو دبانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے اس یکطرفہ و غیرقانونی طریقے سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے ماورائے دستور فیصلے کو روز اول سے پاکستان سمیت بین الاقوامی برادری نے یکسر مسترد کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ دوسری طرف گزشتہ دو سالوں کے دوران اسرائیل نے غزہ اور فلسطین میں انسانیت کو ملیامیٹ کرنے کی جو شرمناک اور ظالمانہ پالیسی اپنائی ہے امریکہ اس وحشیانہ عمل میں اسرائیل کی پشت پر کھڑا ہے۔ مردان پریس کلب میں بھی جماعت اسلامی کے زیراہتمام سیمنار کا انعقاد کیا گیا جس سے پروفیسر ڈاکٹر فخرالاسلام اور جماعت اسلامی کے ضلعی امیر غلام رسول نے خطاب کیا جبکہ جماعت اسلامی ضلع صوابی کے تحت ضلعی دفتر میں یوم حقوق کشمیر و فلسطین کے سلسلے میں سیمنار اور بعد ازاں ضلعی امیر مفتی مراد احمد کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا۔ ضلع چارسدہ میں بھی جماعت اسلامی کے ضلعی امیر شاہ حسین ایڈوکیٹ اور نائب امیر مصباح اللہ کی قیادت احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور مقررین نے کشمیر اور فلسطین کے نہتے عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی۔
یوم حقوق کشمیر وفلسطین کے سلسلے میں امیر جماعت اسلامی ضلع خیبر شاہ فیصل آفریدی اور مراد حسین شنواری کی قیادت میں تاریخی باب خیبر کے مقام پر کشمیر اور فلسطین کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے سلسلے میں ریلی کا انعقاد کیا گیا اور ضلع نوشہرہ کے علاقہ پبی میں بھی ضلعی نائب امیر مولانا گوہر رحمٰن کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، ان مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بھارت، اسرائیل اور امریکی مظالم کے زریعے عرصہ دراز سے کشمیر اور فلسطین میں بے گناہ بچوں خواتین اور نہتے عوام پر عرصہ حیات تنگ کیا گیا ہے جس پر اقوام عالم کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یوم حقوق کشمیر و فلسطین کشمیر اور فلسطین میں جماعت اسلامی جماعت اسلامی کے احتجاجی مظاہرہ کے سلسلے میں فلسطین کے نے کہا کہ کی قیادت کیا گیا
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی