حاضر سروس ملازمین کے بچوں کی داخلہ فیس اور ماہانہ فیس میں 50 فیصد رعایت
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
سٹی42: آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی جانب سے پولیس شہداء اور ملازمین کے بچوں کے لیے معیاری تعلیم کی فراہمی کے سلسلے میں ایک اور بڑا قدم اٹھایا گیا ہے۔ اس حوالے سے پنجاب پولیس اور نجی ادارے کنگزفورڈ کالج (Kingsford College) کے درمیان ایم او یو (معاہدہ) پر دستخط کیے گئے۔
معاہدے کی تفصیلات کے مطابق ایم او یو پر آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور اور کالج کے چیف ایگزیکٹو شیخ حسن منور نے دستخط کیے۔معاہدے کے تحت پولیس شہداء کے بچوں کو مکمل مفت تعلیم، داخلہ اور دیگر سہولیات دی جائیں گی۔
حاضر سروس ملازمین کے بچوں کو داخلہ فیس اور ماہانہ فیس میں 50 فیصد رعایت ملے گی۔دوران سروس انتقال کرنے والے ملازمین کے بچوں کو بھی یہی رعایت حاصل ہو گی۔
اس کے علاوہ کنگزفورڈ کالج کے سکولز میں بھی پولیس شہداء اور ملازمین کے بچوں کے لیے رعایتی فیس کا اعلان کیا گیا ہے۔کالج کے طلبہ و طالبات "فرینڈز آف پولیس" اور "والنٹئرز ان پولیس" پروگرامز میں بھی شمولیت اختیار کریں گے۔
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ ایم او یو کے تحت پولیس ملازمین کے بچوں کو معیاری تعلیم کے بہترین مواقع میسر آئیں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک 13 معروف تعلیمی اداروں کے ساتھ ایسے ایم او یوز سائن کیے جا چکے ہیں تاکہ شہداء اور ملازمین کے بچوں کو رعایتی یا مفت تعلیم دی جا سکے۔
الیکشن کمیشن نے پارلیمنٹ کے پانچ اور صوبائی اسمبلی کے تین ارکان کو نااہل قرار دے دیا،9 نشستیں خالی ہو گئیں
اس موقع پر اجلاس میں اعلیٰ افسران بھی موجود تھے، جن میں ایڈیشنل آئی جی ویلفیئر اینڈ فنانس عمران ارشد، ڈی آئی جی ویلفیئر غازی محمد صلاح الدین، اے آئی جی انسپکشن شائستہ ندیم، اے آئی جی ایڈمن اسد اعجاز ملہی شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 ملازمین کے بچوں کو ایم او
پڑھیں:
طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان حکام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن کے دفتر پر چھاپہ مار کر تنظیم کے 6 ملازمین کو حراست میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، کارروائی کے دوران طالبان اہلکاروں نے تنظیم کے کمپیوٹرز، دستاویزات اور دیگر دفتری سامان بھی قبضے میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان حکومت کا ایک اور متنازع فیصلہ، خواتین کو صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم
تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گرفتار کیے گئے ملازمین کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور ان کی موجودہ حالت کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 2 افراد تنظیم کی سربراہ زرقا یفتلی کے قریبی رشتہ دار ہیں، جو اس وقت افغانستان سے باہر مقیم ہیں۔
Sources in Kabul told Afghanistan International on Wednesday that Taliban agents raided the office of the Women and Children Legal Research Foundation (WCLRF) earlier this week and detained six staff members.https://t.co/ly2WtJb202 pic.twitter.com/fQ8qbUdHiN
— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 23, 2026
زرقا یفتلی خواتین کے حقوق کی معروف کارکن ہیں اور گزشتہ سال انہیں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2026 زاید ایوارڈ فار ہیومن فریٹرنٹی سے نوازا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے عزیزوں کی حراست کی جگہ، قانونی حیثیت اور صحت کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں: کرکٹ اسٹارز سے ملاقاتوں اور لباس کے معاملے پر طالبان رہنماؤں میں اختلافات بڑھ گئے
ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن تعلیم، خواتین اور بچوں کے حقوق کی وکالت، تحقیقی سرگرمیوں اور تحقیقاتی رپورٹس کی تیاری کے شعبوں میں کام کرتی رہی ہے۔
طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں، پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اس عرصے کے دوران کئی سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد تنظیمیں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سول سوسائٹی طالبان فلاحی تنظیم کابل کمپیوٹرز متحدہ عرب امارات ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن