نیویارک(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔06 اگست ۔2025 )قوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کی ناقابل تصور تکالیف ختم کرانے کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں، جو عام شہریوں کے خلاف ہے، ختم ہونی چاہیے پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے یہ بات مشرق وسطی سے متعلق سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں کہی.

انہوں نے کہا کہ ہمیں زمینی صورت حال کی سنگینی کا بھی ادراک ہونا چاہیے اور یہ صرف ہم یا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اراکین ہی نہیں جو یہ منظر دیکھ رہے ہیں یا تشویش میں مبتلا ہیں ، بلکہ پوری دنیا بے یقینی کے عالم میں یہ سب دیکھ رہی ہے.

(جاری ہے)

پاکستانی مندوب نے کہا کہ اسرائیل کی جنگ میں سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑا ہے کوئی بھی جواز ان اندھی گولیوں، ایک پوری آبادی کو بھوکا مارنے اور محصور لوگوں کو اجتماعی سزا دینے کو درست قرار نہیں دے سکتا انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات صرف اخلاقی طور پر قابلِ مذمت نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون، بشمول جنیوا کنونشنز، کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے جاری کردہ پابند احکامات کی کھلی خلاف ورزی کے مترادف ہیں.

پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ غزہ میں انسانی بحران بے مثل حد تک شدت اختیار کر چکا ہے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین کے مطابق،اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کو حراست میں رکھنے، ان پر دہائیوں سے جاری منظم مظالم اور من مانے طریقے سے گرفتاریوں کی پالیسی، اور 7 اکتوبر 2023کے بعد ریاستی سطح پر احتساب کی مکمل غیر موجودگی ایک ہولناک منظرنامہ پیش کرتی ہے.

عاصم افتخار نے کہا کہ اس وقت تقریبا ساڑھے 9 ہزار فلسطینی، جن میں سیکڑوں خواتین اور بچے شامل ہیں، اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں، جن میں سے ایک تہائی کے خلاف کوئی چارج یا مقدمہ نہیں ہے یہ بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور بالکل ناقابل قبول ہے پاکستانی مندوب نے کہا کہ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق 60 ہزار فلسطینی شہید کیے جا چکے ہیں جن میں 18 ہزار 500 بچے شامل ہیں ان بچوں کے نام اور عمریں بھی امریکی اخبار نے شائع کی ہیں.

پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے معروف اخبار ہارٹز نے بھی غزہ کی صورت حال کو 21 ویں صدی کی سیاسی بنیاد پر کی جانے والی بھوک سے مارنے کی سب سے سنگین مثال قرار دیا ہے عاصم افتخار نے کہا کہ اس صورتحال کے نتائج نہایت ہولناک ہیں کم از کم 175 فلسطینی، جن میں 93 بچے شامل ہیں، بھوک سے شہید ہو چکے ہیں اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل نے خبردار کیا ہے کہ غزہ اب مکمل قحط کے دہانے پر ہے لوگ اس لیے نہیں بھوکے مر رہے کہ خوراک دستیاب نہیں بلکہ اس لیے کہ خوراک تک رسائی روک دی گئی ہے.

ان کا کہنا تھا کہ یونیسف نے اس صورتحال کو بچوں کے لیے تکالیف کا مکمل طوفان قرار دیا ہے جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اسے عظیم انسانی تباہی سے تعبیر کیا ہے ورلڈ فوڈ پروگرام نے بالکل واضح الفاظ میں کہا ہے یہ ایک ایسی تباہی ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے، ہماری ٹی وی اسکرینوں پر رونما ہو رہی ہے پاکستانی مندوب نے کہا کہ اب تو انسانی امداد کی فراہمی بھی جان لیوا بن چکی ہے مئی کے بعد سے 1200 سے زائد امدادی کارکنان شہید کیے جا چکے ہیں نیو یارک ٹائمز کے مطابق، فلسطینیوں کو 2 ہلاکت خیز راستوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے یا تو بھوک سے مرنے کا یا خوراک حاصل کرنے کے لیے گولیوں کی زد میں آنے کا.

پاکستان کے مستقل مندوب نے مطالبہ کیا کہ یہ جنگ، جو عام شہریوں کے خلاف ہے، ختم ہونی چاہیے پاکستان فوری غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی، مکمل اسرائیلی انخلا، یرغمالیوں کی رہائی، اور انسانی امداد کی آزادانہ فراہمی کا مطالبہ کرتا ہے انہوں نے کہا کہ مصر، قطر اور امریکا کی ثالثی میں ہونے والی ابتدائی جنگ بندی کے نتیجے میں 33 یرغمالیوں کو رہا کیا گیا تھا مگر اسرائیل کی جانب سے اس جنگ بندی سے یکطرفہ انحراف کے سبب مزید رہائی ممکن نہ ہو سکی یوں مصیبت بدستور جاری ہے.

عاصم افتخار نے کہا کہ امن کے مفاد میں ہمیں عرب اسرائیل تنازعے کی تاریخی نوعیت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے ہمیں اس دیرینہ سانحے کی جڑ کو نہیں بھولنا چاہیے اور وہ ہے کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کا طویل، غیر قانونی قبضہ جب تک یہ قبضہ برقرار ہے، امن صرف ایک سراب رہے گا ان کا کہنا تھا کہ پائیدار امن کے لیے ایک سنجیدہ سیاسی افق درکار ہے، جو بین الاقوامی قانون پر مبنی ہو اور جس کا مقصد 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق، القدس الشریف کو دارالحکومت بنا کر ایک خودمختار، قابلِ بقا اور مربوط فلسطینی ریاست کا قیام ہو.

انہوں نے کہا کہ حالیہ اعلی سطحی کانفرنس جس کا مقصد فلسطینی مسئلے کا پرامن حل اور دو ریاستی حل پر عملدرآمد تھا، ایک بروقت پیش رفت تھی اب اسے عملی، مربوط اور بین الاقوامی سطح پر مربوط کوششوں سے مکمل کرنا ناگزیر ہے تاکہ مشرق وسطی میں بالآخر مطلوبہ امن اور استحکام ممکن ہو سکے. عاصم افتخار نے واضح کیا کہ انسانی حقوق عالمگیر اور ناقابلِ تقسیم ہیں انہیں سرحدوں میں نہیں بانٹا جا سکتا اور انصاف کبھی بھی انتخابی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے قانونی، سیاسی اور اخلاقی تقاضا بالکل واضح ہے ہمیں اب اقدام کرنا ہوگا تاکہ اسرائیل کی وحشیانہ اور غیر قانونی جنگ اور فلسطینی عوام کی ناقابلِ تصور تکالیف کا خاتمہ ہو انسانیت اور دونوں طرف کے عام شہریوں کی عزت و حرمت اس سے کم پر راضی نہیں ہو سکتی. 

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انہوں نے کہا کہ پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی اقوام متحدہ اسرائیل کی عام شہریوں کے مطابق

پڑھیں:

امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز

امریکی سفارت خانے نے امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے سلسلے میں جمعرات کو اسلام آباد میں ’لیٹ فریڈم رنگ‘ کے عنوان سے ’لبرٹی بیل‘ نمائش کا افتتاح کر دیا۔

نمائش میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے 16 پاکستانی فنکاروں کے تیار کردہ منفرد فن پارے پیش کیے گئے ہیں، جن میں ہر فنکار نے اپنے انداز میں ‘آزادی’ کے تصور کو اجاگر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گورنر خیبرپختونخوا سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون بڑھانے پر اتفاق

نمائش کا افتتاح لوک ورثہ میوزیم میں منعقدہ تقریب میں امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس اور وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے مشترکہ طور پر کیا۔

پاکستانی فنکاروں نے ‘آزادی’ کی نئی تعبیر پیش کی

امریکی سفارت خانے کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان میں امریکی مشن کے پبلک ڈپلومیسی سیکشن نے اپنے ‘لنکن کارنرز’ نیٹ ورک کے ذریعے ترتیب دیا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے 16 فنکاروں کو شریک کیا گیا۔

Federal Minister for NH&C Aurangzeb Khan Khichi and U.S. Chargé d’Affaires Andy Halus on Thursday jointly inaugurated the “Let Freedom Ring” American Liberty Bell display at Lok Virsa Heritage Museum, celebrating the enduring cultural partnership between Pakistan & United States pic.twitter.com/3uqKCelXK9

— National Heritage and Culture Division (@DivisionCulture) July 23, 2026

ہر فنکار سے ایک ہی سوال پوچھا گیا کہ ’میرے لیے آزادی کیا معنی رکھتی ہے؟ ’اس سوال کے جواب میں فنکاروں نے ’لبرٹی بیل‘ کے منفرد ڈیزائن تخلیق کیے، جو پاکستانی نقطۂ نظر سے آزادی کے تصور کی عکاسی کرتے ہیں۔

نمائش 5 روز تک جاری رہے گی

‘لیٹ فریڈم رنگ’ نمائش 23 سے 27 جولائی تک اسلام آباد کے 2 نمایاں ثقافتی مراکز، لوک ورثہ میوزیم اور پاکستان مونومنٹ میوزیم میں جاری رہے گی۔

امریکی سفارت خانے نے شہریوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اس 5 روزہ نمائش کے دوران دونوں مقامات کا دورہ کریں اور فن پاروں کا مشاہدہ کریں۔

امریکا اور پاکستان کے مشترکہ اقدار پر زور

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس نے کہا کہ ‘لبرٹی بیل’ آزادی، اظہارِ رائے اور بہتر مستقبل کی امید کی علامت ہے۔

أعلنت السفارة الأمريكية في إسلام آباد عن افتتاح معرض ليت فريدوم رينغ في متحف لوك ورثه ومتحف النصب التذكاري الباكستاني، وذلك ضمن الاحتفالات العالمية بمرور ٢٥٠ عامًا على إعلان الاستقلال الأمريكي.

شارك في الافتتاح القائم بالأعمال الأمريكي آندي هيلز ووزير التراث الوطني والثقافة… pic.twitter.com/EcPOSXchyu

— WE News | بالعربية (@WENewsArabic) July 23, 2026

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا دونوں معاشروں میں فن، تخلیقی اظہار اور بہتر دنیا کے تصور کو اہمیت دی جاتی ہے۔

لوک ورثہ کئی دہائیوں سے پاکستان کی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس تاریخی مقام پر امریکا کی آزادی کی داستان کو بھی پیش کرنا باعثِ فخر ہے۔

ثقافتی تبادلوں سے تعلقات مضبوط بنانے پر زور

وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تبادلے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں:نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے قائم مقام امریکی ناظم الامور کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

انہوں نے اس نمائش کو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی تعاون کی ایک مثبت مثال قرار دیا۔

امریکا 2026 میں اپنے اعلانِ آزادی کی 250 ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ اسی مناسبت سے دنیا بھر میں امریکی سفارت خانے اور سفارتی مشنز کے زیرِ اہتمام ‘فریڈم 250’ کے عنوان سے مختلف تقریبات، نمائشوں اور ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

اسلام آباد میں منعقد کی جانے والی ‘لیٹ فریڈم رنگ’ مہم بھی اسی عالمی پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد آزادی، اختراع، تخلیقی اظہار اور ثقافتی روابط کو فروغ دینا ہے۔

اس نمائش کے ذریعے پاکستانی فنکاروں کو اپنے فن کے ذریعے آزادی کے تصور کو پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا، جسے پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تعاون کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آزادی افتتاح لوک ورثہ میوزیم امریکا امریکی سفارتخانہ امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس پاکستان ثقافتی تبادلہ فنکاروں لبرٹی بیل لیٹ فریڈم رنگ مونومنٹ میوزم

متعلقہ مضامین

  • انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم