UrduPoint:
2026-07-24@03:13:06 GMT

ٹرمپ کی پوٹن کو جنگ بندی پر راضی کرنے کی ’آخری‘ کوشش

اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT

ٹرمپ کی پوٹن کو جنگ بندی پر راضی کرنے کی ’آخری‘ کوشش

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 06 اگست 2025ء) صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس کو امن قائم کرنے یا نئی پابندیوں کا سامنا کرنے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن آٹھ اگست کو ختم ہو رہی ہے، اور اس سے صرف دو دن قبل امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف بدھ کے روز ایک اہم مشن پر ماسکو پہنچے تاکہ یوکرین جنگ بندی میں کسی پیش رفت کی کوشش کی جا سکے۔

وٹکوف کا استقبال روسی سرمایہ کاری کے ایلچی اور خودمختار ویلتھ فنڈ کے سربراہ کیرِل دمترییف نے کیا۔

سرکاری میڈیا نے دونوں کو کریملن کے قریب ایک پارک میں چہل قدمی کرتے اور سنجیدہ گفتگو میں مشغول دکھایا۔

واشنگٹن میں روئٹرز سے بات کرنے والے ایک ذریعے نے منگل کو بتایا کہ وٹکوف بدھ کے روز روسی قیادت سے ملاقات کریں گے۔

(جاری ہے)

کریملن کا کہنا ہے کہ ممکن ہے وہ صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات کریں، لیکن اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔

پوٹن کے ساتھ یوکرین میں امن معاہدے کی راہ میں پیش رفت نہ ہونے پر ٹرمپ شدید ناراض ہیں اور روسی برآمدات خریدنے والے ممالک پر بھاری محصولات عائد کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔

ٹرمپ خاص طور پر بھارت پر دباؤ ڈال رہے ہیں، جو چین کے ساتھ مل کر روسی تیل کا بڑا خریدار ہے۔ کریملن کا کہنا ہے کہ روس سے تجارت کرنے والے ممالک کو سزا دینا غیر قانونی ہے۔

کریملن سے قریبی تعلق رکھنے والے تین ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ پوٹن کے ٹرمپ کی پابندیوں کی دھمکی کے آگے جھکنے کا امکان نہیں، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ جنگ جیت رہے ہیں اور ان کے فوجی مقاصد امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے سے زیادہ اہم ہیں۔

فریقین کے لیے عزت بچانے کا آخری موقع

آسٹریا کے تجزیہ کار گیرہارد مانگوٹ، جو ان مغربی ماہرین اور صحافیوں کے گروپ کا حصہ ہیں جو سالوں سے پوٹن سے ملاقات کرتے آئے ہیں، نے کہا، ''وٹکوف کا دورہ فریقین کے لیے عزت بچانے کا آخری موقع ہے۔ تاہم، میرے خیال میں دونوں کے درمیان کسی سمجھوتے کا امکان کم ہے۔‘‘

انہوں نے ٹیلیفون پر کہا، ''روس یہ مؤقف اپنائے گا کہ وہ جنگ بندی کے لیے تیار ہے، لیکن صرف ان شرائط پر جنہیں وہ گزشتہ دو یا تین سالوں سے دہرا رہا ہے۔

‘‘

’’ٹرمپ پر دباؤ ہو گا کہ وہ وہی کریں جس کا انہوں نے اعلان کیا تھا، یعنی امریکہ روس سے تیل، گیس اور ممکنہ طور پر یورینیم خریدنے والے تمام ممالک پر محصولات عائد کرے۔‘‘

روسی ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ پوٹن کو یقین ہے کہ مزید امریکی پابندیاں، جو ساڑھے تین سالہ جنگ کے دوران مسلسل لگتی آئی ہیں، اب زیادہ اثر نہیں ڈالیں گی۔

دو ذرائع کے مطابق، پوٹن نہیں چاہتے کہ وہ ٹرمپ کو ناراض کریں، اور انہیں اس بات کا بھی احساس ہے کہ وہ واشنگٹن اور مغرب کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کا ایک موقع کھو سکتے ہیں، لیکن ان کے جنگی مقاصد ان سب سے زیادہ اہم ہیں۔

زیلنسکی کی ٹرمپ سے گفتگو

یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے منگل کے روز ایک ''مثبت‘‘ گفتگو کی، جس میں جنگ کے خاتمے، روس پر پابندیوں اور امریکہ-یوکرین ڈرون معاہدے پر تبادلہ خیال ہوا۔

زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ ٹرمپ کو کییف اور دیگر یوکرینی شہروں پر جاری روسی حملوں کے بارے میں ''مکمل معلومات‘‘ دی گئیں۔ یہ گفتگو ایسے وقت پر ہوئی جب ٹرمپ روسی صدر پوٹن سے بڑھتی مایوسی کا شکار ہیں۔

ٹرمپ نے پوٹن کو 8 اگست تک کا وقت دیا ہے کہ وہ امن پر آمادہ ہو جائیں، ورنہ سخت پابندیوں کا سامنا کریں۔

زیلنسکی نے کہا، ''یقیناً ہم نے روس پر پابندیوں کے بارے میں بات کی۔ روسی معیشت مسلسل زوال کا شکار ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ماسکو اس معاملے میں حساس ہے اور صدر ٹرمپ کے عزم سے گھبراہٹ میں ہے۔ اور سب کچھ بدل سکتا ہے۔‘‘

ادارت: صلاح الدین زین

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بتایا کہ کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل