Islam Times:
2026-06-03@06:50:42 GMT

اسرائیل اپنی طاقت کھو چکا ہے

اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT

اسرائیل اپنی طاقت کھو چکا ہے

اسلام ٹائمز: ‏اسرائیل عام طور پر جنگوں کی ابتدا میں عالمی ہمدردی اور حمایت حاصل کرتا ہے، لیکن پھر کچھ ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں، جو انسانی حقوق کے مسائل کے سائے تلے دب جاتے ہیں اور انجام کار اسرائیل "بیانیے کی جنگ" میں شکست کھا جاتا ہے۔ ‏اس بار اسرائیل کی ناکامی نے حماس کیلئے ایک ایسا تاریخی موقع پیدا کر دیا ہے، جسکا وہ شاید خواب میں بھی تصور نہ کرسکے۔ غزہ میں انسانی بحران کے سبب اسرائیل کی ساکھ کو جو نقصان پہنچا ہے، اسے سنبھالنے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ غاصب صہیونی حکومت کمزور ہوچکی ہے اور اب مغربی و عربی حکومتیں اس گرتی ہوئی دیوار کو سہارا دینے کی ناکام کوشش کر رہی ہیں۔ تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان

غزہ میں سات اکتوبر2023ء سے جاری جنگ اور غاصب صہیونی گینگ اسرائیل کی جارحیت کو بائیس ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اسرائیلی گینگ غزہ پر اپنا کنٹرول حاصل کرنے میں ناکام ہونے کے ساتھ ساتھ اب خود اپنا کنٹرول بھی کھو رہی ہے۔ یہ سب کچھ فلسطینی مزاحمت کے مرہون منت ہے۔ حالانکہ ایک طرف اسرائیل مغربی دنیا کی مدد رکھتا ہے اور دوسری طرف عرب حکمرانوں کی مکمل حمایت بھی حاصل ہے، لیکن ان سب کے باوجود اسرائیل غزہ میں اپنے اہداف کو حاصل کرنے میں ناکام ہے۔ غاصب صہیونی حکومت اسرائیل غزہ میں تباہی و بربادی کرنے میں کامیاب رہی، لیکن غزہ کے عوام کا حوصلہ اور استقامت آج بھی پائیدار ہے، جس نے صیہونیوں کے تمام ناپاک منصوبوں کو ناکام کر رکھا ہے۔ مغربی اور عرب حکمرانوں کی تمام تر حمایت اور طاقت کے باوجود غزہ میں قید صھیونی قیدیوں کو اسرائیل آزاد کروانے میں ناکام ہوچکا ہے۔ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اب صھیونی فوجی قیدی بھوک اور قحط کا شکار ہوچکے ہیں، جو خود غاصب صہیونی حکومت نے غزہ کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کی ہے۔

بہرحال پوری دنیا اس بات کا مشاہدہ کر رہی ہے کہ غزہ کے عوام اور غزہ میں موجود مزاحمت نے غاصب صیہونیوں کو شکست سے دوچار کر رکھا ہے۔ اسی طرح یہ شکست اب غاصب صہیونی حکومت کے اندرونی کنٹرول کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ مزاحمت کے محور نے فلسطین و لبنان اور یمن سے عراق اور بالخصوص ایران تک غاصب صہیونی حکومت کو کاری ضربیں لگائی ہیں اور اس بات کا اعتراف امریکی و مغربی تجزیہ نگار بھی کر رہے ہیں۔ انہی حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے امریکا کے سابق نائب وزیر دفاع چارلز فریمن کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل دوبارہ جنگ چھیڑنا چاہے تو بھاری نقصان کے بغیر یہ ممکن نہیں۔ چارلز فریمن نے زور دے کر کہا کہ ⁧‫ایران‬⁩ نے ⁧‫اسرائیل‬⁩ کے دفاعی اور میزائل نظام میں جس مؤثر طریقے سے نفوذ کیا ہے، وہ قابلِ تحسین ہے ‏اور یقینی طور پر اسرائیل کو یہ بات یاد دلا دی گئی ہے کہ وہ امریکا کی مدد کے بغیر اپنی حفاظت نہیں کرسکتا۔

دوسری طرف خود غاصب صہیونی حکومت اسرائیل کے معروف اخبار ہارٹز نے لکھا ہے کہ غاصب صہیونی حکومت اسرائیل تمام معاملات پر کنٹرول کھو چکی ہے اور دنیا میں ایک منفور ریاست بن چکی ہے۔ ‏صہیونی اخبار ہارٹز نے اسرائیل کے سابق قومی سلامتی مشیر کے نائب چاک فریلیچ کا ایک مضمون شائع کیا ہے، جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ آج غزہ میں جو انسانی بحران اور اس پر عالمی ردِعمل دیکھنے کو مل رہا ہے، اس کی پیش گوئی کے لیے کسی ماہرِ اسٹریٹجی ہونے کی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن حسبِ معمول بنیامین نیتن یاہو نے مہینوں پہلے دیئے جانے والے انتباہی اشارے نظرانداز کیے اوریہاں تک کہ بہت دیر ہوگئی۔ ‏اسرائیل عام طور پر جنگوں کی ابتدا میں عالمی ہمدردی اور حمایت حاصل کرتا ہے، لیکن پھر کچھ ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں، جو انسانی حقوق کے مسائل کے سائے تلے دب جاتے ہیں اور انجام کار اسرائیل "بیانیے کی جنگ" میں شکست کھا جاتا ہے۔

‏اس بار اسرائیل کی ناکامی نے حماس کے لیے ایک ایسا تاریخی موقع پیدا کر دیا ہے، جس کا وہ شاید خواب میں بھی تصور نہ کرسکے۔ غزہ میں انسانی بحران کے سبب اسرائیل کی ساکھ کو جو نقصان پہنچا ہے، اسے سنبھالنے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔ ان تجزیات کی روشنی میں خلاصہ یہ ہے کہ غاصب صہیونی حکومت کمزور ہوچکی ہے اور اب مغربی و عربی حکومتیں اس گرتی ہوئی دیوار کو سہارا دینے کی ناکام کوشش کر رہی ہیں۔ حالانکہ اس وقت پوری دنیا میں فلسطینیوں کے حق میں ایک مرتبہ پھر عوامی حمایت کی لہر چل رہی ہے، جس نے حقیقی معنوں میں غاصب صہیونی حکومت کو ایک منفور اور ناجائز ریاست کی شناخت دی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: غاصب صہیونی حکومت اسرائیل کی کی ناکام رہی ہے کر رہی ہے اور

پڑھیں:

ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں

حاصل مطالعہ
عبدالرحیم

ٹرمپ نے اسرائیل کو کاک پٹ سے نکال کراکانومی میں بٹھا دیا ہے جس کے اسرائیل اور خاص طور پر وزیر اعظم کیلئے ممکنہ اہم نتائج نکلیں گے۔انہیں اس سال دوبارہ انتخاب کیلئے محنت طلب جنگ کا سامنا ہے۔نتن یاہو نے طویل عرصے سے اسرائیلی ووٹرز سے کہا ہوا ہے کہ وہ ٹرمپ سے سرگوشی کرتا ہے اور صدر کی حمایت برقرارکھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ٹیلی ویژن پر تقریر میںانہوں نے اپنے آپ کو صدر کا ہم رتبہ قرار دیا اور اسرائیلیوں کو یقین دلایا کہ ان کی ٹرمپ سے تقریباً روزانہ بات چیت ہوتی ہے،خیالات اور مشورہ کا تبادلہ ہوتا ہے اور وہ اکٹھے فیصلہ کرتے ہیں۔
اے آئی اور بے روزگاری
یہ امر واضح ہے کہ اے آئی ہماری روزمرہ کی زندگیوں کی دوبارہ تشکیل کرے گی۔گولڈ مین ساچز کے اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے عشرے میں اے آئی موجودہ کام کے گھنٹوں کے25 فی صد کو خودکار بنا دے گی۔ وہائٹ کالر جابز میں لوگ مثلاً اکائونٹنٹس ، بینکرز اور وکلاء اپنے بہت سے کام خودکار پائیںگے،اسٹین فورڈ کے ایک جائزہ کے مطابق سافٹ ویئر انجینئرنگ ،کسٹمر سروس اورانٹری لیول کے روزگار میں16 فیصد کمی آئی ہے۔اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کیلئے بڑھتی ہوئی طلب نے2022 سے 2 لاکھ سے زائد کنسٹرکشن روزگارپیدا کیا ہے۔ تین وجوہ ایسی ہیں کہ عالمی معیشت مشکلات سے جلد بحال ہونے کی قوت رکھے گی اور فعال رہے گی۔ اول، اے آئی25 فیصد روزگار کا خاتمہ نہیں کرے گی۔ اس امر کا امکان ہے کہ لوگ اپنا وقت گزارنے کیلئے زیادہ بار آور طریقے تلاش کر لیں گے۔ پہلے ایک بینکنگ تجزیہ نگار کو ایک اسٹاک کی کارکردگی کا گراف بنانے کیلئے 6 گھنٹے لگتے تھے۔ اسے وال اسٹریٹ جرنل کے گزشتہ شمارے دیکھنا پڑتے تھے ،آج ایک تجزیہ نگاریہ کام سیکنڈوں میں کر سکتا ہے۔
دوم، کسی جاب کی کوئی جگہ لے سکتا ہے۔کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا ہوگا۔ ٹیلی ویژن میں لائیو انٹرٹینمنٹ کی طلب ختم نہیں ہوئی،نہ ہی انٹرنیٹ نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس یا فٹنس انسٹرکٹرز کا کام ختم کیا۔
سوئم، امریکی کمپنیاں سالانہ ڈھائی کروڑ اور ساڑھے تین کروڑ جابز ختم اور پیدا کرتی ہیں کیونکہ اے آئی چیزوں کوزیادہ جدت پسند بناتی ہے۔ معیشت اپنے آپ کو ڈھالتی رہتی ہے۔
بھارت کے نوجوانوں کیلئے غیر متوقع آواز
ابھیجیت دیپکے نے ڈیجیٹل گروپ کاکروچ جنتاپارٹی اس لئے قائم کی کہ بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہہ کر پکارا تھا۔طنزیہ کاکروچ جنتاپارٹی ان نوجوانوں کو اپیل کرتی ہے جنہیں حکومت نے نظر انداز کیا ہے۔دوتین ہفتے قبل ابھی جیت دیپکے امریکہ میں ان ہزاروں بھارتی طلبہ میں ایک تھا جس کے پاس نئی گریجویٹ ڈگری تھی اور ملازمت کا خواہشمند تھا۔ پھر ایک کاکروچ نے اس کی زندگی بدل دی۔اس کی ابتدا ایک سوال سے ہوئی۔اجیت دیپکے بوسٹن یونیورسٹی میں پبلک ریلیشنز پرگرام کا 30 سالہ گریجویٹ تھا۔اس نے16 مئی کو ایکس پر پوسٹ کیاکہ کیا اگر تمام کاکروچز اکٹھے ہو جائیں؟وہ ایک روز قبل بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ کے کمنٹس کا جواب دے رہا تھا جنہوں نے نوجوان اور بے روزگار بھارتیوں کو کاکروچز کہا تھا جو ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے اور وہ سوشل میڈیا پرشکایت کرتے ہیں اور سرگرم ارکان بن کر سسٹم پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔
ہزاروں جواب سے حوصلہ افزائی پاکر جنہوں نے اس کی کال کی توثیق کی،اجیت دیپکے نے اپنی ویب سائٹ پر اے آئی اور دوستوں کی مددسے دو گھنٹے میںمذاق مذاق میںکروچ جنتاپارٹی کا آغاز کیا۔مقصد نوجوانوں کیلئے تحریک پیدا کرناتھا جنہیںسست اور آن لائن پر اور حال ہی میں کروچز کہا جانے لگا۔ لاکھوں نوجوان اس تحریک میں شامل ہو گئے جو بے عزتی کو فخر میں تبدیل کرنے کے خواہشمند تھے۔ دنوں کے اندرکروچ جنتاپارٹی کے بعض اکائونتس میں بھارت کی سب سے بڑی پارٹیوں سے زیادہ سوشل میڈیا کے فالوئرز ہوگئے۔اجیت دیپکے کے پیغام کا قبول کیا جانا بہت سے نوجوان بھارتیوں کے اداس موڈ کی بڑی کہانی بتاتاہے جو ملازمتیں تلاش کرنی کی جدوجہد کر رہے ہیں باوجودیکہ ملک دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت مسلسل4 برسوں سے ترقی کر رہی ہے۔
کاکروچ جنتاپارٹی جس کے10 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں،ان لوگوں کو زبان دینا چاہتی ہے جنہیں کرپٹ حکومت نظر انداز کرتی ہے۔ ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم تحریری طور پر پوچھتے ہیں کہ پیسہ کہاں گیا؟ابھی جیت دیپکے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ سیاسی نظام ان کی پرواہ نہیں کرتا،خواہ سرکاری پارٹی ہو یا اپوزیشن۔ابھی جیت دیپکے اس وقت امریکہ میں ہے۔
ایپل کیا کرتا ہے؟
ایپل اپنی پروڈکٹس ڈایزائن کرتا ہے،ان کے چپس تیار کرتا ہے،آپریٹنگ سسٹم بناتا ہے،برانڈنگ،مارکیٹنگ اور ریٹیل ایکسپیرئینس کو کنٹرول کرتا ہے۔لیکن یہ مینوفیکچرکچھ نہیں کرتا ۔آئی فونز اور میک بکس کو ژینگزو میں فوکس کون اور پیگاٹرون شنگھائی میں مینوفیکچر کرتاہے۔ایڈوانسڈ چپسTSMC تائیوان میں تیار کرتی ہے جبکہ جنوبی کوریا میںسام سنگ ڈس پلے کرتا ہے۔ایپل ہر ڈیوائس سے منافع کا80 تا90 فیصد حاصل کرتا ہے جبکہ سپلائرز جوواقعی فزیکل ورک کرتے ہیں، باقی حصے پر لڑتے ہیں۔ یہ طریق کار کارپوریٹ منافع اور شیئر ہولڈرز کی قدر زیادہ سے زیادہ کرتا ہے۔
٭٭٭

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • معاون خصوصی / وزیر مملکت نے اپنی وزارت میں پندرہ لاکھ کے مساج کا بل جمع کروادیا
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں