امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ممکنہ سیاسی جانشین کے نام کا اعلان کردیا جو اُن کے اگلے صدارتی امیدوار بھی ہوں گے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سیاست میں ایک نئی پیش رفت نے ہلچل مچادی ہے جس کے سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوسکیں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نائب صدر جے ڈی وینس کو مستقبل میں اپنا جانشین تسلیم کرنے کا عندیہ دے دیا۔

ایک انٹرویو میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ٹرمپ نے واضح انداز میں کہا کہ انصاف کی بات کی جائے تو وینس نائب صدر ہیں اور یہ خود ایک بڑی نشانی ہے۔

اگرچہ ٹرمپ نے اس حوالے سے حتمی فیصلہ کرنے سے گریز کیا لیکن ان کے تاثرات سے یہ پیغام ضرور ملا کہ وہ جے ڈی وینس کو 2028 کے صدارتی انتخابات کے لیے ایک ممکنہ امیدوار کے طور پر دیکھتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے پہلے دورِ اقتدار میں جے ڈی وینس کے شدید مخالف تھے مگر وقت کے ساتھ ساتھ دونوں کے خیالات میں ہم آہنگی پیدا ہوئی، خاص طور پر امیگریشن، تعلیم اور مذہب جیسے موضوعات پر اب وہ ایک صفحے پر ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسرے دورَ اقتدار میں اپنے نائب کے لیے جے ڈی وینس کو چُنا۔

اگرچہ اس انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ مارکو روبیو سمیت کئی اور رہنما بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں تاہم پلڑا جے ڈی وینس کا بھاری نظر آتا ہے۔

خیال رہے کہ جے ڈی وینس کا سیاسی کردار حالیہ مہینوں میں خاصا نمایاں ہوا ہے۔ اندرونی و بیرونی پالیسی امور پر ان کی سنجیدہ اور متوازن رائے نے انہیں سیاسی حلقوں میں خاصا معتبر بنا دیا ہے۔

جے ڈی وینس کی عوامی اور میڈیا میں موجودگی نے ان کے تجربے اور تدبر کو اجاگر کیا ہے جو انہیں مستقبل کا مضبوط صدارتی امیدوار بناتا ہے۔

قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے وینس کی ذاتی زندگی بھی ان کی سیاسی پہچان میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ وہ اوہائیو کے ایک صنعتی مگر زوال پذیر علاقے میں غربت اور خاندانی مسائل کے سائے میں پروان چڑھے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جے ڈی وینس

پڑھیں:

سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت

ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔

سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔

اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔

سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔

بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔

سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل