Islam Times:
2026-07-24@09:00:54 GMT

لبنانی حکومت کے متنازعہ فیصلے پر حزب اللہ کا سخت جواب

اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT

لبنانی حکومت کے متنازعہ فیصلے پر حزب اللہ کا سخت جواب

نواف سلام حکومت کیجانب سے ملکی مزاحمت کو غیر مسلح کئے جانے اور قومی خودمختاری کو کمزور بنانیکے فیصلے پر لبنانی مزاحمت نے اس فیصلے کو غیر ملکی آمروں کے زیر اثر انجام پانیوالی ایک "بڑی غلطی" قرار دیا اور اعلان کیا ہے کہ مزاحمت، اس فیصلے کو ذرہ برابر اہمیت نہیں دیتی اسلام ٹائمز۔ لبنانی مزاحمتی تحریک حزب اللہ نے اعلان کیا کہ حکومت ایک "بڑی غلطی" کی مرتکب ہوئی ہے کیونکہ اس نے ایک ایسا فیصلہ اختیار کر لیا ہے کہ جو لبنان کو اسرائیلی دشمن کے مقابلے میں مزاحمت کے ہتھیار سے محروم کر سکتا ہے۔ ملکی مزاحمت کو غیر مسلح کرنے پر مبنی لبنانی حکومت کے فیصلے کی مذمت میں جاری ہونے والے اپنے بیان میں حزب اللہ لبنان نے تاکید کی کہ یہ اقدام، اسرائیل و امریکہ کی مسلسل جارحیت کے مقابلے میں لبنانی طاقت و حیثیت کو انتہائی کمزور بناتا اور دشمن اسرائیلی رژیم کے لئے ایک ایسی کامیابی لاتا ہے کہ جو وہ لبنان کے خلاف میدان جنگ میں بھی کبھی حاصل نہیں کر سکتا تھا.

. ایک ایسی جنگ کہ جس میں حزب اللہ لبنان نے اسرائیل کو "معاہدہ" کرنے پر مجبور کر دیا تھا کہ جس کے تحت جارحیت کو روک دینا اور لبنان سے اسرائیلی انخلاء لازمی قرار پایا تھا۔

حزب اللہ نے اپنے بیان میں تاکید کی کہ یہ فیصلہ "امریکی سفیروں کے حکم" کا نتیجہ ہے جبکہ حکومتی اجلاس میں اس مسئلے کو تجویز کئے جانے کی وجوہات میں بھی یہ بات واضح طور پر ذکر کی گئی ہے۔ لبنانی مزاحمتی تحریک نے تاکید کی کہ حکومت کا یہ اقدام "اسرائیل کے مذموم مفادات کی مکمل طور پر تکمیل" اور لبنان کو دشمن کے خلاف "بغیر ڈھال" کے "نہتا" چھوڑ دینا ہے۔ حزب اللہ نے، لبنانی صدر کی اولین تقریر میں اعلان کردہ "قومی سلامتی کی حکمت عملی پر گفتگو" کی پالیسی کو یکسر نظر انداز کئے جانے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے، حالیہ فیصلے کو "گھٹنے ٹیک دینے کی حکمت عملی" قرار دیا کہ جو لبنانی خودمختاری کا واضح طور پر خاتمہ کرتی ہے اور یاددہانی کروائی کہ وزارتی بیان کے 5ویں پیراگراف میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ "حکومت، طائف میں منظور شدہ قومی معاہدے کی بنیاد پر، پوری مقبوضہ اراضی کو آزاد کروانے، اپنی تمام زمینوں پر خودمختاری کو صرف اور صرف ملکی اندرونی صلاحیتوں کے ذریعے نافذ کرنے اور تمام سرحدی علاقوں پر لبنانی فوج کو مکمل طور پر تعینات کرنے کے لئے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا عہد کرتی ہے"۔

لبنانی مزاحمت نے تاکید کی کہ اس مقصد کے لئے لبنان کی ملکی صلاحیتوں و مزاحمتی ہتھیاروں کا تحفظ بھی اسی طرح سے ان اقدامات کا اصلی جزو ہے کہ جس طرح سے قابض صیہونی دشمن کو لبنانی سرزمین سے نکال باہر کرنے کے لئے ملکی فوج کو مضبوط و مسلح کرنا ضروری ہے! اس بیان میں تاکید کی گئی ہے کہ حزب اللہ اور امل تحریک کے ساتھ منسلک وزراء نے کابینہ کے اس اجلاس سے واک آؤٹ کیا ہے جبکہ یہ اقدام اس فیصلے کی واضح مخالفت کا اظہار ہے۔ حزب اللہ لبنان نے اعلان کیا کہ اس فیصلے کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے گا کہ "گویا اس کا کوئی وجود ہی نہیں" تاہم ساتھ ہی، حزب اللہ، غیر جارحانہ حالات میں قومی سلامتی پر گفتگو کو بھی تیار ہے۔ اپنے بیان کے آخر میں لبنانی مزاحمتی تحریک نے ملکی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ یہ صرف "موسمی گرد و غبار" ہے جو عنقریب گزر جائے گا جبکہ صبر اور فتح ہماری خو میں شامل ہو چکا ہے۔

واضح رہے کہ "مزاحمتی محاذ کے بتدریج تخفیف اسلحہ" پر مبنی امریکی ایلچی کی تجویز پر تشکیل پانے والے اعلی سطحی اجلاس میں فیصلہ کرتے ہوئے لبنانی حکومت نے ملکی فوج سے کہا ہے کہ وہ اس مہینے کے آخر تک "اسلحہ جمع کرنے" کا مکمل منصوبہ پیش کرے!

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اس فیصلے حزب اللہ کے لئے

پڑھیں:

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

پشاور (نیوز ڈیسک) سرکاری ملازمین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی، پنشن میں 7 فیصد اضافہ یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے صوبائی سرکاری پنشنرز کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

حکومتی اعلامیے میں کہا گیا کہ پنشن میں 7 فیصد اضافہ یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگیا اور اس سے تمام صوبائی سرکاری پنشنرز مستفید ہو سکیں گے۔

محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں پنشن میں اضافے کے حوالے سے اہم نکات اور شرائط واضح کی گئی ہیں۔

جس میں کہا ہے کہ یہ 7 فیصد اضافہ 30 جون 2026 تک حاصل کردہ نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا اور یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے کے حقدار ہوں گے۔

یہ اضافہ فیملی پنشن اور کمپیشنٹ الاؤنس کے کیسز پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوگا۔

اس کے علاوہ بیرون ملک مقیم صوبائی حکومت کے اہل پنشنرز بھی مقررہ شرائط و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ 7 فیصد اضافہ پہلے سے ملنے والی کسی بھی “خصوصی اضافی پنشن” پر لاگو نہیں ہوگا۔

خیبرپختونخوا حکومت کے اس اقدام کو صوبے کے لاکھوں ریٹائرڈ ملازمین اور ان کے خاندانوں کے لیے موجودہ معاشی صورتحال میں ایک بڑا ریلیف قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے

متعلقہ مضامین

  • زندگی کا مقصد
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم