بحریہ ٹاؤن اور ملک ریاض کیخلاف منی لانڈرنگ کے ناقابلِ تردید شواہد مل گئے، عطاء اللہ تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑنے انکشاف کیا ہے کہ ایف آئی اے کی حالیہ کارروائی میں بحریہ ٹاؤن اور ملک ریاض کے خلاف کرپشن اور منی لانڈرنگ کے ناقابل تردید شواہد حاصل کر لیے گئے۔
سفاری ہسپتال کو منی لانڈرنگ کا فرنٹ آفس بنایا گیا
وفاقی وزیر نے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ بحریہ ٹاؤن نے ریکارڈ اور نقدی کو چھپانے کے لیے سفاری ہسپتال کو فرنٹ آفس کے طور پر استعمال کیا، جبکہ ایمبولینس کو حساس دستاویزات اور کیش کی منتقلی کے لیے استعمال کیا گیا۔
ریکارڈ جلانے کی کوشش، اہم شواہد ایف آئی اے کی تحویل میں
عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ بحریہ ٹاؤن کے کچھ ملازمین نے ریکارڈ جلانے کی کوشش بھی کی، تاہم زیادہ تر شواہد ایف آئی اے نے محفوظ کر لیے ہیں۔ ان شواہد میں ہنڈی، حوالہ اور منی لانڈرنگ کے منظم نیٹ ورککی تفصیلات شامل ہیں۔
1.
12 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا انکشاف
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ ایف آئی اے کو کارروائی کے دوران1 ارب 12 کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کے ثبوت بھی ملے ہیں۔ ان کے مطابق یہ نیٹ ورک ایک مربوط نظام کے تحت رقوم کو غیر قانونی ذرائع سے بیرونِ ملک منتقل کر رہا تھا۔
مرکزی کردار اور گرفتاری
ایف آئی اے کی کارروائی میں بحریہ ٹاؤن کے ایک اہم عہدیدار کرنل خلیل کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جو براہِ راست ان غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے۔ مزید برآں عمران اور قیصرنامی افراد جو ہنڈی حوالہ نیٹ ورک چلا رہے تھے، ان کے بحریہ ٹاؤن کے سی ایف او اور ڈائریکٹر فنانس سے روابط بھی ثابت ہو چکے ہیں۔
تفتیش میں مزید پیشرفت، قانون کا سامنا کرنے کی ہدایت
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ایف آئی اے کی تحقیقات میں مزید پیشرفت جاری ہے اور کچھ مفرور افراد کی لوکیشنز کا بھی سراغ لگا لیا گیا ہے۔ انہوں نے ملوث افراد کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان خود کو قانون کے سامنے پیش کریں، کیونکہ ان کے خلاف شواہد مکمل ہو چکے ہیں۔
بحریہ ٹاؤن کے رہائشیوں کو تحفظ کی یقین دہانی
وفاقی وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ یہ کارروائی صرف **ان افراد کے خلاف ہے جو براہ راست کرپشن، منی لانڈرنگ یا غیر قانونی سرگرمیوںمیں ملوث ہیں۔ بحریہ ٹاؤن کے عام رہائشیوں کے حقوق مکمل طور پر محفوظ ہیں ۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے خلاف سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کے معاملے پر اے این پی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے نیشنل سائبرکرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں درخواست جمع کرادی۔
ایک شخص کےخلاف آئی جی اور سیکرٹری داخلہ کو بھی درخواست دی گئی ہے۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق میاں افتخار کا کہنا ہے کہ اے این پی کے خلاف سوشل میڈیا پر مذہبی بنیادوں پر نفرت انگیز اور اشتعال انگیز مہم قابل مذمت ہے، پارٹی کے خلاف نفرت پھیلا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اے این پی آئین کی بالادستی، جمہوریت، عدم تشدد اور انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد کی علمبردار ہے۔
امریکی فورسز نے متعدد ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرونز کو تباہ کر دیا: سینٹکام
میاں افتخار نے مطالبہ کیا ہےکہ این سی سی آئی اے، آئی جی اور سیکرٹری داخلہ فوری اور شفاف تحقیقات کرائیں، نفرت انگیز مواد پھیلانے اور جھوٹے بیانیے تشکیل دینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
مزید :