حکومت نے کل عوام کا سمندر دیکھا، عمران خان کی رہائی کا راستہ اب کوئی نہیں روک سکتا، بیرسٹر سیف
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
مشیر اطلاعات کے پی نے کہا کہ پنجاب میں گرفتاریوں کے باوجود عوام بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلے، لاہوریوں نے شریف خاندان کو ان کا اصل چہرہ دکھا دیا، شریف خاندان کا سیاسی مستقبل صرف فارم 47 سے جڑا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا راستہ اب کوئی نہیں روک سکتا۔ ایک بیان میں بیرسٹر سیف نے کہا کہ تمام ترفسطائیت کے باوجود پی ٹی آئی نے کامیاب اور پُرامن احتجاج ریکارڈ کرایا، کل عوام کا سمندر سڑکوں پر دیکھ کرجعلی حکومت کے کانپیں ٹانگ گئیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں گرفتاریوں کے باوجود عوام بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلے، لاہوریوں نے شریف خاندان کو ان کا اصل چہرہ دکھا دیا، شریف خاندان کا سیاسی مستقبل صرف فارم 47 سے جڑا ہے۔ بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا راستہ اب کوئی نہیں روک سکتا، علی امین گنڈاپور، پارٹی قیادت اور عوام اب عمران خان کی دوسری کال کے منتظر ہیں، ہم دوبارہ نکلیں گے، چاہے اسلام آباد جانا ہو یا لاہور جانا ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شریف خاندان نے کہا
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔