میگھن مارکل نے شہزادہ ہیری اور بادشاہ چارلس کی صلح پر پانی پھیر دیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
برطانوی شہزادے ہیری اور برطانوی بادشاہ چارلس کے درمیان صلح کی کوششوں کو ایک نیا دھچکا اس وقت لگا جب میگھن مارکل ایک اور تنازع میں الجھ گئیں۔ میگھن جو اپنی سوتیلی بہن کے ساتھ پہلے ہی کشیدہ تعلقات رکھتی ہیں، اب ایک نئے عدالتی مقدمے کا سامنا کررہی ہیں۔
ایکسپریس یوکے کے مطابق سامنتھا مارکل کی جانب سے دائر کیے گئے ہتکِ عزت کے مقدمے کی باقاعدہ سماعت کی تاریخ طے ہوگئی ہے۔ یہ سماعت منگل، 9 ستمبر 2025 کو صبح 9 بجے، جیکسن وِل فلوریڈا میں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی شاہی خاندان کی باہمی رنجشیں برقرار: پرنس ہیری بڑے بھائی شہزادہ ولیم کو منانے میں ناکام رہے
میگھن مارکل پہلے ہی اپنے خاندان سے لاتعلقی اختیار کرچکی ہیں، سوائے اپنی والدہ ’ڈوریا ریگلینڈ‘ کے۔ دوسری جانب شہزادہ ہیری جو اپنے بھائی شہزادہ ولیم اور والد سے گہرا رشتہ رکھتے تھے، اب والد کی کینسر کی تشخیص کے بعد ان تعلقات کو بحال کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
شاہی امور کے ماہر ’ایان پیلہم ٹرنر‘ نے کہا ’قانونی تنازعات، خاص طور پر میگھن اور سامنتھا کے درمیان، ہیری اور میگھن کی مفاہمتی کوششوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیں: ہیکرز برطانوی شاہی خاندان کی ویب سائٹ تک بھی جاپہنچے
ان کا مزید کہنا تھا ’برطانوی شاہی خاندان امریکا میں کسی بھی قانونی مسئلے کے حوالے سے انتہائی حساس ہے۔ ان کے لیے یہ کسی بھی راز کے افشا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے، جو شاہی ساکھ کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے۔‘
ایان پیلہم ٹرنر نے یہ بھی کہا ’یہ بھی ممکن ہے کہ سامنتھا مارکل نے یہ اقدام جان بوجھ کر اس وقت کیا ہو، جب وہ دیکھ رہی ہیں کہ ان کی سوتیلی بہن نیٹ فلکس جیسے معاہدوں کے حوالے سے مشکلات کا شکار ہے اور شاہی خاندان سے دوبارہ تعلقات کی کوششوں میں ہے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news برطانوی شاہی خاندان برطانیہ پانی شاہ چارلس شاہی خاندان شہزادہ ہیری صلح میگھن مارکل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: برطانوی شاہی خاندان برطانیہ پانی شاہ چارلس شاہی خاندان شہزادہ ہیری برطانوی شاہی خاندان کے لیے یہ بھی
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔