گورنر سندھ کی اربعین مارچ کے قائدین سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
کامران ٹیسوری وفد کے ہمراہ سولجر بازار میں ایم ڈبلیو ایم سندھ کے صوبائی آفس وحدت ہاؤس میں سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی سربراہی میں اربعین حسینیؑ مارچ کے قائدین سے ملاقات کر رہے ہیں۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
اربعین حسینیؑ مارچ، گورنر سندھ کامران ٹیسوری اور سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کے درمیان کراچی میں ملاقات
اربعین حسینیؑ مارچ، گورنر سندھ کامران ٹیسوری اور سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کے درمیان کراچی میں ملاقات
اربعین حسینیؑ مارچ، گورنر سندھ کامران ٹیسوری اور سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کے درمیان کراچی میں ملاقات
اربعین حسینیؑ مارچ، گورنر سندھ کامران ٹیسوری اور سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کے درمیان کراچی میں ملاقات
اربعین حسینیؑ مارچ، گورنر سندھ کامران ٹیسوری اور سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کے درمیان کراچی میں ملاقات
اسلام ٹائمز۔ گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری اربعین حسینیؑ مارچ کے قائدین سے مذاکرات کیلئے نمائش چورنگی پہنچ گئے۔ تفصیلات کے مطابق گورنر سندھ کامران ٹیسوری وفد کے ہمراہ اربعین حسینیؑ مارچ کے قائدین سے مذاکرات کیلئے کراچی کی نمائش چورنگی پہنچ گئے۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری وفد کے ہمراہ سولجر بازار میں ایم ڈبلیو ایم سندھ کے صوبائی آفس وحدت ہاؤس میں سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی سربراہی میں اربعین حسینیؑ مارچ کے قائدین سے ملاقات کر رہے ہیں۔ ملاقات میں ایم ڈبلیو ایم کے وائس چیئرمین علامہ سید احمد اقبال رضوی، صوبائی صدر علامہ باقر عباس زیدی، مرکزی رہنما علامہ مقصود ڈومکی، ڈویژنل صدر علامہ صادق جعفری، علامہ حیات عباس نجفی، رضی حیدر رضوی بھی موجود ہیں۔ .
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مارچ کے قائدین سے
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔