ضلعی انتظامیہ اسلام آباد نے یوم آزادی کے قریب آتے ہی باجے فروخت کرنے اور ان کے استعمال پر مکمل پابندی لگا دی ہے۔ اس ضمن میں ضلعی انتظامیہ نے شہر بھر میں لگائے گئے تمام اسٹالز سے باجے ضبط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جشن آزادی پر ’باجا‘ بجانا ضروری ہے، ارکان پارلیمنٹ کیا کہتے ہیں؟

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے افسران کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ فوری طور پر فیلڈ میں جا کر ان احکامات پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جس علاقے سے باجے برآمد ہوں گے، وہاں کے متعلقہ افسر کو جواب دہ ٹھہرایا جائے گا۔

ضلعی انتظامیہ نے حکم دیا ہے کہ یہ کارروائیاں 14 اگست (یومِ آزادی) تک روزانہ کی بنیاد پر جاری رہیں گی تاکہ قانون کی خلاف ورزی کا بروقت سدباب کیا جا سکے۔

واضح رہے کہ یوم آزادی کے موقع پر پاکستان بھر میں نوجوان طبقے کی جانب سے جوش و خروش کا مظاہرہ کیا جاتا ہے، جس میں باجے بجانا، سڑکوں پر ہلا گلا، موٹرسائیکلوں پر ون ویلنگ اور دیگر شور شرابے والے انداز شامل ہوتے ہیں۔ ماضی میں ایسے مظاہر شہریوں کے لیے باعثِ اذیت اور ٹریفک میں رکاوٹ بن چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’100 روپے کا پودا یا 500 روپے کا باجا؟‘، رمضان چھیپا کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

خصوصاً اسلام آباد جیسے حساس دارالحکومت میں امن و امان قائم رکھنے اور شہری سکون کو یقینی بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ہر سال مختلف اقدامات کیے جاتے ہیں۔ باجوں پر پابندی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، تاکہ عوامی مقامات پر غیر ضروری شور و غل سے بچا جا سکے اور قومی دن کو پرامن طریقے سے منایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اسٹالز اسلام آباد انتظامیہ باجوں کی فروخت پابندی جشن آزادی پاکستان وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسٹالز اسلام ا باد انتظامیہ باجوں کی فروخت پابندی جشن ا زادی پاکستان وی نیوز ضلعی انتظامیہ

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • مختلف علاقوں میں بارشیں ہی بارشیں؛محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کردی
  • بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا