ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا دواں کے جنیرک ناموں کے استعمال کی پالیسی پر عمل درآمد کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 اگست2025ء)ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے وفاقی وزیر صحت کو خط لکھ کر دواں کے نسخوں میں جنیرک ناموں کے استعمال کی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کا مطالبہ کردیا۔ادارے کا کہنا ہے کہ جنیرک پالیسی پر عملدرآمد سے عوام کے طبی اخراجات میں 90 فیصد کمی لائی جاسکتی ہے۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے وفاقی وزیر برائے قومی صحت کو خط ارسال کیا ہے۔
(جاری ہے)
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ڈاکٹرز دواں کے نسخوں میں برانڈز کے بجائے جنیرک نام تجویز کریں۔ ادارے نے برانڈیڈ اور نان برانڈیڈ ادویات کی قیمتوں میں واضح فرق کی نشاندہی کی ہے۔خط کے مطابق 2021 میں ڈریپ کی جانب سے جنیرک نسخے تجویز کرنے کی ہدایت جاری کی گئی تھی تاہم ان ہدایات پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔ خط میں سرکاری خریداری کے لیے کم قیمت ادویات کو ترجیح دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ادارے کے مطابق بعض برانڈیڈ ادویات کی قیمتیں جنیرک متبادل سے کئی گنا زیادہ ہیں۔جنیرک ادویات کے استعمال سے نہ صرف کم آمدنی والے مریضوں کو فائدہ ہوگا بلکہ مقامی دوا ساز صنعت کو بھی فروغ ملے گا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔