کراچی میں ہونیوالے آئی ایم سی اوور 40 ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ورلڈ کپ سے متعلق اہم خبر
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
آئی ایم سی اوور40 ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ورلڈ کپ اب 21نومبر سے یکم دسمبر تک کراچی میں منعقد ہوگا۔ قبل ازیں ایونٹ کا انعقاد یکم تا 13دسمبر طے تھا۔
پاکستان ویٹرنز کرکٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین فواد اعجاز خان کے مطابق یہ فیصلہ 6 تا 13 دسمبر کراچی میں شیڈول قومی گیمز کے باعث کیا گیا ہے۔
دریں اثنا ایونٹ کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں سندھ کےوزیر کھیل سردار محمد بخش خان مہر اور سیکریٹری اسپورٹس سندھ منور علی مہیسرکوفواد اعجاز نے تفصیلات سے آگاہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ عالمی کپ میں میزبان سمیت 12 ٹیموں میں پاکستان، آسٹریلیا، جنوبی افریقا، ویسٹ انڈیز، سری لنکا، ہانگ کانگ، زمبابوے، کینیڈا، سعودی عرب، یو اے ای، امریکا اورریسٹ آف دی ورلڈ ٹیم شامل ہوں گی۔
ٹورنامنٹ کے 42 میچز مختلف میدانوں میں کھیلے جائیں گے۔ پاکستان ٹیم کے تمام میچز فلڈ لائٹس میں ہوں گے اور یہ میچزبراہ راست نشر کیے جائیں گے۔
وزیر کھیل نے انٹرنیشنل ایونٹ کے انعقاد کے لیے ہر مکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
خلیج میں جاری کشیدگی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستان کی سمندری تجارت میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے، جس سے کراچی(Karachi) اور گوادر(Gwadar) بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق ہچیسن پورٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ نیا کارگو کئی بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان پہنچے گا، دو جہاز پہلے ہی بندرگاہ پر آ چکے ہیں، جبکہ تیسرا جہاز جون کے پہلے ہفتے میں پہنچنے کی امید ہے۔
کراچی میں ہچیسن پورٹس ٹرمینل 4 ہزار نئے ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھالے گا، جس کے بعد مارچ 2026 تک مجموعی تعداد 14,300 سے بڑھ جائے گی، خلیجی خطے میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں دوسرے راستے کے طور پر پاکستان کی بندرگاہوں کو اہمیت دے رہی ہیں۔
میری ٹائم حکام کے مطابق خلیج کے بحران کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ گوادر پورٹ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں سرگرمیاں 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔
مزیدپڑھیں:دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
حکام کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ کو پرکشش بنانے کے لیے برتھنگ فیس میں 25 فیصد، بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد اور ٹرانزٹ کارگو چارجز میں 31 فیصد کمی کی گئی ہے، تاہم سی پیک 2.0، علاقائی تجارتی راہداریوں اور نئی سرمایہ کاری سے گوادر پورٹ کی علاقائی اہمیت میں اضافے کی امید ہے۔
کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پاکستان کے علاقائی لاجسٹکس اور ٹرانس شپمنٹ کا اہم مقام بننے کے لیے ایک اچھا اشارہ ہیں، پاکستان کا منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو خطے کے ابھرتے ہوئے تجارتی اور لاجسٹکس مقامات میں تبدیل کر رہا ہے۔