بھارت کی اسٹریٹجک خودمختاری اب پریشان خیالی میں بدل چکی، سابق سفارتکار مسعود خان
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مستقل مندوب ایمبیسیڈر مسعود خان کا کہنا ہے کہ بھارت کی اسٹریٹجک خودمختاری اب پریشان خیالی میں بدل چکی ہے اور وہ اس گھبراہٹ میں کسی پناہ کی تلاش میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیتن یاہو کا اعتراف: اسرائیلی اسلحہ دیکر ’آپریشن سندور‘ میں بھارت کی مدد کی
وی نیوز کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا کے خطوط بدل رہے ہیں اور بھارت کو نہیں معلوم کہ اس کا نیا کردار کیا ہو گا جبکہ امریکی صدر بھارت کو زیر کرنا چاہتے ہیں تاکہ اسے مذاکرات کی میز پر لایا جائے۔
ایمبیسیڈر مسعود خان نے کہا کہ ہمیں بھارت کی جانب سے چین کی ساتھ جو ان کی بات چیت ہوتی ہے اس کا تجزیہ کرنا چاہیے اور یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ پاکستان کے لیے جو نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں وہ کس طرح اُن سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا نے پچھلی 2 دہائیوں میں بھارت کو تیار کیا تھا کہ وہ چین کا عسکری اور تجارتی طور پر مقابلہ کرے گا لیکن بھارت مکمل طور پر اس میں ناکام ہوا اور بھارت کی نیت بھی نہیں تھی۔ اس کے برعکس چین، بھارت کا بہت بڑا تجارتی شراکت دار ہے جس میں زیادہ تجارتی فائدہ چین حاصل کرتا ہے۔
مزید پڑھیے: عالمی سطح پر بھارت کا دوغلا پن بے نقاب، بھارت کی ہزیمت نے نئی شکل اختیار کر لی
بھارت کی جانب سے کئی سال چین کے خلاف مخاصمانہ روّیہ اختیار کرنا اور گزشتہ روز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے مجوزہ دورۂ چین کا اعلان، اس کے ممکنہ محرکات کیا ہو سکتے ہیں اس بارے میں بات کرتے ہوئے ایمبسیڈر مسعود خان نے کہا کہ نریندر مودی ایک بار پہلے چینی صدر سے برکس اجلاس میں ملاقات کر چکے ہیں اور دوسری بار ملنے کا موقع شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے موقعے پر پیدا ہوا تھا، لیکن حالات کچھ ایسے بن گئے کہ اب مودی نہ صرف گھبراہٹ کا شکار ہیں بلکہ امریکا کے اقدامات سے سٹپٹا بھی گئے ہیں۔
’ڈی جی آئی ایس پی آر کا بیان سن کر بڑی خوشی ہوئی‘ایمبیسیڈر مسعود خان نے کہا کہ مجھے گزشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر کا بیان سن کر بڑی خوشی ہوئی۔ بھارت نے پاکستان پر حملہ کر کے کہا کہ یہ اُس کا نیو نارمل ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم بھارت کے مشروقی علاقوں پر حملہ کریں گے۔ وہ علاقے کیا ہیں، اروناچل پردیش، میزورام، تری پورہ، آسام، منی پور۔ یہ سارے وہ علاقے ہیں جہاں ہندوستان کے خلاف بغاوت ہے۔ لیکن اگر آپ خلیج بنگال سے نیچے جائیں تو بھارت کے 2 جزائر انڈیمان اور نکوبار ہیں۔ یہاں بھارت کے ایٹمی اور میزائل کے اثاثے موجود ہیں۔ جبکہ ہمارا شاہین 3 میزائل وہاں تک مار کر سکتا ہے۔
’بھارت کبھی ماسکو کبھی چین کی طرف بھاگتا ہے‘ایمبیسڈر مسعود خان نے کہا کہ اس وقت بھارت جو کہ خود کو خطے کی سپرپاور سمجھتا تھا، گھبراہٹ میں کبھی ماسکو اور کبھی چین کی طرف بھاگتا ہے اور وہ دنیا میں ملکوں کے اتحاد کی صورت کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ کسی پلیٹ فارم پر ذکر بھی ہوا ہے کہ آنے والے وقت میں ایک طرف امریکا اور اس کے اتحادی جبکہ دوسری طرف روس چین اور بھارت ہونگے۔ اس سے قبل جب بھارتی وزیرِخارجہ جے شنکر نے چین کا دورہ کیا تھا تو انہوں نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ چین اور بھارت خطے کی بڑی قوّتیں ہیں اور کوئی تیسری قوت اس اتحاد کو منقطع نہیں کر سکتی۔ تیسری قوّت سے مراد امریکا تھا۔ اسی دورے کے دوران انہوں نے اپنے سرحدی تنازعات ختم کرنے کی بات بھی کی تھی اور گلوان واقعے کو بھی دبا دیا تھا اور تجارتی معاشی تعلقات بڑھانے کی کوشش بھی کی۔
کیا بھارت امریکا کا دباؤ برداشت کر سکتا ہے؟اس سوال کے جواب میں ایمبیسیڈر مسعود خان نے کہا کہ جب گوگل، مائیکروسوفٹ اور ایپل بھارت سے سرمایہ نکال کے امریکا میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو اس سے بھارت متاثر ہوتا ہے۔ امریکا اور مغربی یورپ نے بھارت سے قبل مصنوعات بنانے کے لیے چین کا انتخاب کیا تھا۔ لیکن جب انہیں لگا کہ وہ تو اس میں اجارہ داری قائم کر رہے ہیں تو انہوں نے بھارت کا رخ کیا۔ اب اگر بھارت سے سرمایہ کاری کو نکالا جائے گا تو اس سے بھارتی معیشت متاثر ہو گی۔ اگر امریکا نے بھارت کے سر سے ہاتھ اٹھا لیا تو مغربی یورپ کے ممالک بھی ہاتھ کھینچ لیں گے۔ امریکی صدر بھارت کو زیر کرنا چاہتے ہیں تاکہ اسے مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔
کیا امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات کے باعث چین کے ساتھ ہمارے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں؟اس سوال کے جواب میں ایمبیسیڈر مسعود خان نے کہا کہ ہم سنہ 1960 سے دونوں ملکوں کے ساتھ متوازن تعلقات قائم رکھتے چلے آئے ہیں اور امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات کے باعث چین کے ساتھ تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔ اور امریکا بھی چین کے ساتھ ہمارے تعلقات کی نوعیت کو سمجھتا ہے اور چین بھی سمجھتا ہے کہ اگر پاکستان کے امریکا کے ساتھ تعلقات خراب ہوں گے تو اس کے پڑوس میں حالات خراب ہوں گے۔
کیا موجودہ صورتحال مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے موزوں ہے؟اس سوال کے جواب میں ایمبیسیڈر مسعود خان نے کہا کہ اس وقت مسئلہ کشمیر بہت الجھ گیا ہے کیونکہ بھارت کسی بھی صورت اس بارے میں بات کرنے کو تیار نہیں اور نہ ہی وہ کسی کی ثالثی کو مانتا ہے۔ لیکن مسئلہ کشمیر ایک بار پھر بین الاقوامی ریڈار پر آیا ہے اقوام متحدہ اور دیگر کئی عالمی فورمز پر اس بارے میں بات ہوئی ہے۔ بھارت کے لیے مشورہ یہی ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا بھارت کی بوکھلاہٹ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پاک بھارت تعلقات پاکستان چین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا بھارت کی بوکھلاہٹ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پاک بھارت تعلقات پاکستان چین پاکستان کے امریکا کے اور بھارت بھارت کے انہوں نے بھارت کو بھارت کی ہیں اور میں بات کے ساتھ چین کا کے لیے چین کے
پڑھیں:
آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل اہم سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے انتخابی اتحاد اور مختلف حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے پر اتفاق کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام بنائیں گے، چیف الیکشن کمشنر کا واضح پیغام
یہ اتفاق رائے استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر اور سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان ملاقات کے دوران ہوا۔
ملاقات میں آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال، آئندہ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات اور دونوں جماعتوں کے درمیان انتخابی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی جبکہ انتخابات کے بعد بھی مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا گیا۔
مزید پڑھیے: تنویر الیاس کے قافلے پر حملہ، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی شدید مذمت
ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد مختلف حلقوں میں امیدواروں کی حمایت اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق حتمی اعلان کرے گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس اتحاد کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ دونوں جماعتیں مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے انتخابی میدان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں آئندہ حکومت استحکام پاکستان پارٹی کی ہوگی، تنویر الیاس کا دعویٰ
ملاقات کے موقع پر سابق معاون خصوصی سردار امتیاز شاہین، مسلم کانفرنس یوتھ ونگ کے چیئرمین سردار عثمان عتیق، کھائیگلہ پونچھ سے مسلم کانفرنس کے نامزد امیدوار ڈاکٹر عرفان اشرف، سابق امیدوار اسمبلی سردار منظور ایڈووکیٹ، سابق ڈی جی ہیلتھ سردار محمود خان، پولیٹیکل ایڈوائزر سردار افتخار رشید، ممبر میونسپل کارپوریشن باغ سردار شجاع منگول ایڈووکیٹ، سابق پولیٹیکل سیکرٹری سردار شبریز صابر، پیر عبدالقادر، سردار عفان عتیق، راجہ عبدالجبار اور اسٹاف آفیسر سردار حفیظ خان بھی موجود تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر تنویر الیاس اور سرادر عتیق احمد کی ملاقات سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان