میجر طفیل محمد شہید کی لازوال قربانی کو دلیر قوم ہمیشہ یاد رکھے گی،وزیرداخلہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
اسلام آباد (صغیر چوہدری)وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے لکشمی پور میدان کے ہیرو میجر طفیل محمد شہید کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ میجر طفیل محمد شہید کے یوم شہادت پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ میجر طفیل محمد شہید نے 8 اگست کو اپنے قیمتی خون سے بہادری اور جرات کی تاریخ لکھی اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا کر سبز ہلالی پرچم بلند کیا۔ انہوں نے کہا کہ نشان حیدر کے وارث عظیم سپہ سالار نے دشمن کی صفوں میں گھس کر اسے قتل کر دیا۔ میجر طفیل محمد شہید نے دشمن کی گولیوں کا سامنا کرتے ہوئے بٹالین کی قیادت کی اور بہادری کی لازوال داستان رقم کی۔ زخمی ہونے کے باوجود میجر طفیل محمد شہید نے پیش قدمی نہ روکی اور دشمن کو پسپائی پر مجبور کردیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ بے مثال بہادری کا یہ عظیم لمحہ ہماری نئی نسلوں کو ہمیشہ حوصلے اور عزم کا سبق دیتا رہے گا۔ قوم میجر طفیل محمد شہید کو سلام پیش کرتی ہے جنہوں نے صف اول میں کھڑے ہو کر جنگ کا رخ موڑ دیا۔ میجر طفیل محمد شہید کے آخری الفاظ ’’میں نے اپنا کام مکمل کرلیا، دشمن بھاگ گیا‘‘ آج بھی ایک قومی حقیقت ہے اور میجر طفیل محمد شہید کے یہ تاریخی الفاظ آج بھی ملک کے ہر سپاہی کا نعرہ ہیں۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جرأت مندانہ قیادت میں پاک بھارت جنگ کے دوران یہ سنہری الفاظ ہر میدان میں گونجتے رہے اور دشمن کو ہر محاذ پر شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ حالیہ جنگ میں ہمارا ایک ایک سپاہی میجر طفیل محمد شہید کی طرح لڑا اور اللہ تعالی نے قوم کو بے مثال فتح سے نوازا۔ دشمن کو منہ توڑ جواب دینے والے میجر طفیل محمد شہید کو سلام۔ بہادر قوم میجر طفیل محمد شہید کی لازوال قربانی کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وزیر داخلہ محسن نقوی نے میجر طفیل محمد شہید کہا کہ
پڑھیں:
200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مودی حکومت نے رات کی تاریکی میں مسمار کردیا
انہدامی کارروائی محض 22 منٹ میں 5 بلڈوزرز کے ذریعہ انجام دی گئی، یہ مسجد تقریباً 42 فیٹ اونچی تھی، جسکو مسمار کئے جانے کے بعد ملبہ راتوں رات ٹرکوں میں بھر کر وہاں سے ہٹادیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر وارانسی میں گزشتہ شب مودی حکومت نے 200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مسمار کر دیا اور ساتھ ہی وہاں موجود مزار اور قبرستان کے کچھ حصہ کو بھی منہدم کر دیا گیا۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ مسجد کو منہدم کرنے کی کارروائی محض 22 منٹ میں 5 بلڈوزرز کے ذریعہ انجام دی گئی۔ یہ مسجد تقریباً 42 فیٹ اونچی تھی، جس کو مسمار کئے جانے کے بعد ملبہ راتوں رات ٹرکوں میں بھر کر وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ یعنی بدھ کی صبح جب لوگ اس جگہ سے گزرے تو مسجد اور مزار کا نام و نشان مٹ چکا تھا۔
ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ کل دیر شب تقریباً 12 بجے انتظامیہ کے اعلیٰ افسران 1000 سے زائد جوانوں کے ساتھ "از غیب شہید مسجد" کے پاس پہنچے اور علاقہ کا معائنہ کیا۔ ڈی سی پی کاشی گورو بنسوال اور اے ڈی سی پی ویبھو بانگر نے مسجد کے چاروں طرف بیریکیڈنگ کروائی اور لوگوں کی آمد و رفت پر روک لگا دی گئی۔ حتیٰ کہ میڈیا اہلکاروں کو بھی اس جگہ پر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ رات کی تاریکی میں خاموشی کے ساتھ یہ کام ہوا اور جب تک مسجد منہدم ہونے کی خبر لوگوں تک پہنچی، ملبہ بھی وہاں سے ہٹایا جا چکا تھا۔
انتظامیہ نے مسجد منہدم کرنے کے لئے رات کی تاریکی کا انتخاب کرنے کی کوئی آفیشیل وجہ نہیں بتائی۔ پولیس اہلکاروں نے یہ ضرور کہا کہ ٹریفک سے بچنے کے لئے رات میں کارروائی کی گئی۔ راج گھاٹ واقع کاشی ریلوے اسٹیشن کے احاطہ میں موجود اس مسجد کو منہدم کرنے سے پہلے اے سی پی شیوہری مینا نے افسروں کے ساتھ پہنچ کر جائزہ لیا تھا۔ بعد ازاں سخت سیکورٹی میں مزار اور اس کے قریب بنی مسجد کو مسمار کر دیا گیا۔ موصولہ اطلاع کے مطابق بھدؤ چنگی واقع قلعہ کوہنا علاقہ میں "از غیب شہید کی مسجد اور قبرستان کئی سالوں سے تنازعہ کا شکار رہا۔
مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ مسجد 200 سال قدیم تھی۔ مسجد کے متولی شمیم استاد تھے، جن کا 2 ماہ قبل انتقال ہو چکا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ ریلوے کی پرانی زمین ہے، جس پر کچھ لوگوں نے ناجائز قبضہ کر پہلے مزار بنائی، اور بعد میں مسجد و قبرستان کی تعمیر کی گئی۔ 2024ء میں کاشی ماڈل ریلوے اسٹیشن کا منصوبہ سامنے آیا، جس کے بعد زمین کی پیمائش کرائی گئی اور مسجد کی تعمیر ناجائز قبضہ والی زمین پر ہونے کا پتہ چلا۔ از غیب شہید مسجد کی انہدامی کارروائی سے متعلق رپورٹ "این ڈی ٹی وی" پر بھی شائع ہوئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اس جگہ ایک ہنومان مندر بھی تھا، اسے بھی ہٹا دیا گیا ہے۔