کپل شرما کے کیفے پر ایک ماہ میں دوسرا بڑا حملہ، 25 گولیاں ماریں
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
کینیڈا کے شہر سرے میں واقع بھارت کے عالمی شہرت یافتہ کامیڈین اور ٹی وی اسٹار کپل شرما کے کیفے پر ایک بار پھر بندوق برداروں نے حملہ کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فائرنگ کی آواز سنتے ہی پولیس اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور محاصرہ کرلیا۔
جائے وقوعہ سے متعدد گولیوں کے خول ملے ہیں جن کی تعداد 25 کے قریب ہے۔ حملہ آور پولیس کے پہنچنے سے قبل فرار ہوگئے تھے۔
اس حملے میں خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا البتہ ریسٹورینٹ کو نقصان پہنچا ہے۔ فائرنگ کا یہ واقعہ ابتدائی تحقیقات میں بھتہ خوری کا شاخسانہ لگتا ہے۔
بھارتی اداکار کپل شرما یا ان کی ٹیم کی جانب سے اس واقعے پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ کیفے کے منیجر نے پولیس تحقیقات پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
تاحال کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور نہ ہی بھتے کی کوئی دھمکی موصول ہوئی تھی۔
البتہ پہلے حملے کے بعد، خالصتانی تنظیم ببر خالصہ انٹرنیشنل (BKI) سے تعلق رکھنے والے انتہا پسند حرجیت سنگھ لڈی نے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ حملہ "سکھوں پر مذاق” کرنے والے ایک ٹی وی شو کے خلاف ردعمل تھا۔
تاہم بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے کی ذمہ داری لارنس بشنوی گینگ نے ایک آڈیو میں کی جس میں بے تحاشا فائرنگ کی آوازوں میں کہا جا رہا ہے کہ ہم نے کال کی تھی، مگر وہ نہیں سن سکا، اس لیے ایکشن لینا پڑا۔ اگر اب بھی نہ سنا تو اگلا ایکشن ممبئی میں ہوگا۔
بھارتی میڈیا میں یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ اس ویڈیو کے بعد ممبئی پولیس اور دیگر بھارتی سیکیورٹی ایجنسیاں ممکنہ خطرات کا جائزہ لے رہی ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔