کینیڈا کے شہر سرے میں واقع بھارت کے عالمی شہرت یافتہ کامیڈین اور ٹی وی اسٹار کپل شرما کے کیفے پر ایک بار پھر بندوق برداروں نے حملہ کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فائرنگ کی آواز سنتے ہی پولیس اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور محاصرہ کرلیا۔

جائے وقوعہ سے متعدد گولیوں کے خول ملے ہیں جن کی تعداد 25 کے قریب ہے۔ حملہ آور پولیس کے پہنچنے سے قبل فرار ہوگئے تھے۔

اس حملے میں خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا البتہ ریسٹورینٹ کو نقصان پہنچا ہے۔ فائرنگ کا یہ واقعہ ابتدائی تحقیقات میں بھتہ خوری کا شاخسانہ لگتا ہے۔

بھارتی اداکار کپل شرما یا ان کی ٹیم کی جانب سے اس واقعے پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ کیفے کے منیجر نے پولیس تحقیقات پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

تاحال کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور نہ ہی بھتے کی کوئی دھمکی موصول ہوئی تھی۔ 

البتہ پہلے حملے کے بعد، خالصتانی تنظیم ببر خالصہ انٹرنیشنل (BKI) سے تعلق رکھنے والے انتہا پسند حرجیت سنگھ لڈی نے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ حملہ "سکھوں پر مذاق” کرنے والے ایک ٹی وی شو کے خلاف ردعمل تھا۔

تاہم بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے کی ذمہ داری لارنس بشنوی گینگ نے ایک آڈیو میں کی جس میں بے تحاشا فائرنگ کی آوازوں میں کہا جا رہا ہے کہ ہم نے کال کی تھی، مگر وہ نہیں سن سکا، اس لیے ایکشن لینا پڑا۔ اگر اب بھی نہ سنا تو اگلا ایکشن ممبئی میں ہوگا۔

بھارتی میڈیا میں یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ اس ویڈیو کے بعد ممبئی پولیس اور دیگر بھارتی سیکیورٹی ایجنسیاں ممکنہ خطرات کا جائزہ لے رہی ہیں۔

 

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • 20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران