این اے 129 ضمنی الیکشن، حماد اظہر کے کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال کا عمل مکمل
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
فائل فوٹو
این اے 129 ضمنی الیکشن کے سلسلے میں پی ٹی آئی کے رہنما حماد اظہر کے کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال کا عمل مکمل ہوگیا۔
حماد اظہر کے کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال ان کے وکیل ابوذر سلمان نے مکمل کرائی۔
اس حوالے سے ریٹرننگ افسر کا کہنا ہے کہ ہم نے مختلف محکموں سے ڈیٹا منگوایا ہے اس کے بعد فیصلہ کریں گے۔ سوئی گیس، ایف آئی اے، نیب اور دیگر محکموں سے ڈیٹا منگوایا ہے۔
ریٹرننگ افسر کا کہنا ہے کہ ڈیٹا آنے کے بعد کاغذاتِ نامزدگی سے متعلق حتمی فیصلہ کروں گا، ابھی حماد اظہر کے کاغذاتِ نامزدگی مشروط طور پر منظور کر رہا ہوں۔
سابق گورنر پنجاب اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما حماد اظہر کے والد میاں اظہر انتقال کرگئے۔
یاد رہے کہ این اے 129 کیلئے امیدواروں کو 26 اگست کو انتخابی نشان دیے جائیں گے اور شیڈول کے مطابق 18ستمبر کو قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 129 لاہور تھری میں پولنگ ہوگی۔
این اے 129 کی نشست میاں اظہر کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: حماد اظہر کے کاغذات
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔