پاک افغان سرحد پر مزید 14 بھارتی حمایت یافتہ خوارج ہلاک، آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
فائل فوٹو
سیکیورٹی فورسز نے 8 اور 9 اگست کی درمیانی شب پاک افغان سرحد کے ساتھ سمبازہ کے گرد و نواح میں کلیئرنس آپریشن کیا جس کے نتیجے میں مزید 14 بھارتی سرپرست یافتہ خوارج کو ہلاک کردیا گیا۔
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق ہلاک خوارج سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا ہے۔ 2 روزہ انسدادِ دراندازی آپریشن میں ہلاک خوارج کی تعداد 47 ہوگئی ہے۔
اس سے قبل پاک فوج نے ژوب میں بھارتی حمایت یافتہ خوارج کی دراندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 33 خوارج کو ہلاک کردیا تھا۔
ژوب پاک فوج نے ژوب میں بھارتی حمایت یافتہ خوارج کی.
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے افغان سرحد پر فتنہ الخوارج کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور فوری و مؤثر کارروائی کی۔
7 اور 8 اگست کی درمیانی شب بلوچستان کے ضلع ژوب کے علاقے سمبازہ میں ہندوستانی اسپانسرڈ دہشتگردوں کا ایک بڑا گروہ پاک افغان سرحد کے راستے سے دراندازی کی کوشش کر رہا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: یافتہ خوارج افغان سرحد خوارج کی
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔