ڈپٹی کمشنر زیارت کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر اپنے اہل خانہ کے ہمراہ تفریح کے لیے زرزری گئے تھے جب یہ واقعہ پیش آیا۔ ڈپٹی کمشنر زیارت نے بتایا کہ مسلح افراد نے اسسٹنٹ کمشنر زیارت کے اہل خانہ کو بحفاظت چھوڑ دیا جبکہ ان کے گن مین اور ڈرائیور کو بھی کچھ فاصلے پر رہا کر دیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے ضلع زیارت کے سیاحتی مقام زرزری سے نامعلوم مسلح افراد نے اسسٹنٹ کمشنر زیارت محمد افضل باقی کو ان کے بیٹے سمیت اغوا کر لیا۔ ڈپٹی کمشنر زیارت ذکا اللہ درانی کے مطابق افضل باقی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ تفریح کے لیے زرزری گئے تھے جب یہ واقعہ پیش آیا۔ ذکا اللہ درانی نے بتایا کہ مسلح افراد نے افضل باقی کے اہل خانہ کو بحفاظت چھوڑ دیا جبکہ ان کے گن مین اور ڈرائیور کو بھی کچھ فاصلے پر رہا کر دیا گیا۔ تاہم، اغوا کاروں نے اسسٹنٹ کمشنر کی سرکاری گاڑی کو نذرِ آتش کر دیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز اور لیویز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق افضل باقی اور ان کے بیٹے کی بازیابی کے لیے تفتیش مختلف پہلوؤں سے جاری ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مسلح افراد نے کمشنر زیارت ڈپٹی کمشنر افضل باقی اہل خانہ کر دیا

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری