ڈپٹی کمشنر زیارت کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر اپنے اہل خانہ کے ہمراہ تفریح کے لیے زرزری گئے تھے جب یہ واقعہ پیش آیا۔ ڈپٹی کمشنر زیارت نے بتایا کہ مسلح افراد نے اسسٹنٹ کمشنر زیارت کے اہل خانہ کو بحفاظت چھوڑ دیا جبکہ ان کے گن مین اور ڈرائیور کو بھی کچھ فاصلے پر رہا کر دیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے ضلع زیارت کے سیاحتی مقام زرزری سے نامعلوم مسلح افراد نے اسسٹنٹ کمشنر زیارت محمد افضل باقی کو ان کے بیٹے سمیت اغوا کر لیا۔ ڈپٹی کمشنر زیارت ذکا اللہ درانی کے مطابق افضل باقی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ تفریح کے لیے زرزری گئے تھے جب یہ واقعہ پیش آیا۔ ذکا اللہ درانی نے بتایا کہ مسلح افراد نے افضل باقی کے اہل خانہ کو بحفاظت چھوڑ دیا جبکہ ان کے گن مین اور ڈرائیور کو بھی کچھ فاصلے پر رہا کر دیا گیا۔ تاہم، اغوا کاروں نے اسسٹنٹ کمشنر کی سرکاری گاڑی کو نذرِ آتش کر دیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز اور لیویز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق افضل باقی اور ان کے بیٹے کی بازیابی کے لیے تفتیش مختلف پہلوؤں سے جاری ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مسلح افراد نے کمشنر زیارت ڈپٹی کمشنر افضل باقی اہل خانہ کر دیا

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ