WE News:
2026-06-03@08:43:06 GMT

مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی حکومتوں کا موازنہ

اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT

مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی حکومتوں کا موازنہ

پاکستان تحریک انصاف اکثر و بیشتر یہ دعویٰ کرتی ہے کہ پی ٹی آئی کی پالیسیوں کی وجہ سے ان کے دورِ حکومت میں کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ڈرون حملے مسلم لیگ ن کی حکومت کے دوران میں ہی 2015 میں بند ہو گئے تھے۔

اس مناسبت سے یہ جائزہ لینا چاہیے کہ 2013 میں جب مسلم لیگ ن کو اقتدار ملا تو پاکستان کن بحرانوں سے دو چار تھا اور 2018 میں جب پی ٹی آئی کو حکومت ملی تو صورتِ حال کیا تھی۔

 2013میں جب مسلم لیگ ن نے اقتدار سنبھالا تو پاکستان مختلف بحرانوں کا شکار تھا۔ جن میں توانائی کا شدید بحران، معیشت کی نازک حالت، بدترین دہشت گردی، ڈرون حملے، غیر ملکی کھیلوں کی بندش، یومِ پاکستان پریڈ کا التوا اور کراچی میں روزانہ ٹارگٹ کلنگ یہ سب اس دور کی تلخ حقیقتیں تھیں۔

2013 میں ملک بھر میں بجلی کی روزانہ 12 سے 16 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ معمول ہوا کرتی تھی، صنعتی پیداوار مفلوج  تھی، جبکہ گھریلو صارفین اور چھوٹے کاروبار ابتری کا شکار تھے۔ قدرتی گیس کے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے تھے، جس سے گھریلو، صنعتی اور کمرشل صارفین سب متاثر تھے۔

ملک کے طول و عرض میں خودکش حملے ہوا کرتے تھے، شمالی اور جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کی آماجگاہیں تھیں۔ پاکستانی حکومت کی رِٹ کو چیلنج کیا جاتا تھا۔ شہری علاقوں میں آئے دن کے خود کش حملوں کی وجہ سے خوف اور بے یقینی کا عالم تھا۔ ڈرون حملے پاکستانی سر زمین پر غیر ملکی مداخلت کی علامت تھے۔ 23 مارچ کی پریڈ 2008 سے بند تھی۔

2009 میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے کے بعد پاکستان بین الاقوامی کھیلوں سے کٹ چکا تھا۔ کسی کھیل کی کوئی ٹیم پاکستان آنے پر آمادہ نہ تھی۔ کھیلوں کے میدان ویران تھے اور پاکستان کھیلوں کے عالمی نقشے سے غائب ہو رہا تھا۔

کراچی میں روزانہ کی بنیاد پر ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور گینگ وارز جاری تھیں۔ ایک ایسا شہر جو پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے مفلوج ہو چکا تھا۔ سیاسی و لسانی تصادم نے شہر کو خون میں نہلا دیا تھا۔

نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے حالات کو بہتر بنانے کے لیے واضح وژن اور موثر پالیسیوں پر عمل کیا۔ مسلم لیگ ن نے سی پیک کا آغاز کیا، جو 3 فیزز پر مشتمل منصوبہ تھا:

پہلا مرحلہ (2015–2020):

Early Harvest Projects

بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر ) پر توجہ

پانی، شمسی توانائی اور کوئلے سے بجلی کے منصوبے

سڑکیں، موٹرویز، اور گوادر پورٹ کی بحالی

ابتدائی انڈسٹریل زونز کی منصوبہ بندی

دوسرا مرحلہ (2021–2025):

صنعت کاری اور توسیع

خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) کا قیام

صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ لنکس میں توسیع

گوادر فری زون کی ترقی

زراعت اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں شراکت

تیسرا مرحلہ (2026–2030):

پائیدار ترقی اور علاقائی انضمام

پصاف توانائی، ماحول دوست منصوبے، ماحولیاتی تحفظ

علاقائی اشتراک

پاکستان کو وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ، اور چین سے تجارتی لحاظ سے جوڑنا

ڈیجیٹل اور سمارٹ انفراسٹرکچر:

فائبر آپٹک نیٹ ورک، ڈیجیٹل اکنامی، ٹیکنالوجی زونز

ہیومن ڈویلپمنٹ اور تعلیم:

تکنیکی تربیت، اعلیٰ تعلیم، روزگار کے مواقع

گوادر کو مکمل بین الاقوامی تجارتی مرکز بنانا

گہرے سمندر کی بندرگاہ، ایئرپورٹ، ریفائنریز، لاجسٹک ہب

مسلم لیگ ن نے اپنے دور حکومت میں پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل کیا،

 توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے بھکی، بلوکی، اور حویلی بہادر شاہ جیسے جدید ترین RLNG پاور پلانٹس قائم کیے گئے۔

ساہیوال کول پاور پلانٹ اور قائداعظم سولر پارک جیسے منصوبے مکمل کیے گئے، نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبہ جو ایک دہائی سے تاخیر کا شکار تھا مکمل ہوا۔

دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کیے گئے پاک فوج کے ساتھ مل کر آپریشن ضرب عضب اور  آپریشن ردالفساد  کے ذریعے دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو توڑا گیا۔

وزیرستان سمیت سابق فاٹا میں ریاست کی رِٹ بحال ہوئی 2015 میں  پاکستان میں آخری ڈرون حملہ ہوا، اس کے بعد سے ڈرون حملے بند ہو گئے، جو مسلم لیگ ن کی کامیاب سفارت کاری اور سیکیورٹی پالیسی کا نتیجہ تھے۔

اسی طرح مسلم لیگ ن کی پالیسیوں اور اقدامات کی بدولت 2015 میں یومِ پاکستان کی پریڈ دوبارہ بحال ہوئی، اسی سال زمبابوے کی کرکٹ ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا جو عالمی کرکٹ کی واپسی کی نوید تھا۔

پاکستان سپر لیگ (PSL) کا آغاز ہوا اور چند سالوں میں اس کے فائنلز لاہور اور کراچی میں ہونے لگے۔

نیلم جہلم کے علاوہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، لواری ٹنل، اور کچھی کنال جیسے تاخیر شدہ منصوبے مکمل کیے گئے، جنہوں نے قومی وسائل کے ضیاع کو روکا۔

جب 2018 میں تحریک انصاف اقتدار میں آئی تو اسے ایسا پاکستان ملا جس میں بجلی بحران پر قابو پا لیا گیا تھا۔ لوڈ شیڈنگ ختم ہو چکی تھی، دہشت گردی کا خاتمہ ہو چکا تھا، ڈرون حملے بند ہو چکے تھے، عالمی کرکٹ واپس آ چکی تھی، کراچی میں امن بحال ہو چکا تھا۔

سی پیک کے انفراسٹرکچر اور بجلی کے بڑے منصوبے مکمل ہو چکے تھے،

سی پیک کا دوسرا مرحلہ پی ٹی آئی کے دور میں آگے بڑھنا تھا اور 9 خصوصی اقتصادی زونز سے قائم کئے جانے تھے، لیکن بدقسمتی سے کسی ایک اقتصادی زون پر کوئی کام نہیں ہوا اور سی پیک عملاً معطل رہا۔

اگر دیکھا جائے تو مسلم لیگ ن نے ایک بحران زدہ پاکستان کو سنوارا اور جب اقتدار چھوڑا تو ایک بہتر پُرامن اور مستحکم ملک چھوڑ کر گئی۔

تحریک انصاف کو ن لیگ کے دور کی پالیسیوں، منصوبوں، اور سیکیورٹی کامیابیوں کو آگے بڑھانا چاہیے تھا، لیکن وہ مخالفین سے انتقام میں مصروف ہوگئی۔

پاکستان میں دہشت گردی کی موجودہ لہر کی ایک بڑی وجہ تحریک انصاف کے دورِ حکومت کے آخر میں کیے گئے اُن فیصلوں کا بڑا حصہ ہے، جن کے تحت تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کے عوض سو سے زائد دہشت گردوں کو پاکستانی جیلوں سے رہا کیا گیا اور سینکڑوں جنگجوؤں کو افغانستان سے لا کر پاکستان میں آباد ہونے کی اجازت دی گئی اور  یہ غیر دانشمندانہ اقدامات آج سیکیورٹی اداروں کے لیے چیلنج اور قوم کے لیے شدید خطرے کا باعث بنے ہوئے ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

راحیل نواز سواتی

پی ٹی آئی مسلم لیگ ن.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی مسلم لیگ ن مسلم لیگ ن نے مسلم لیگ ن کی تحریک انصاف کراچی میں ڈرون حملے پی ٹی آئی کیے گئے چکا تھا اور سی کے دور کے لیے سی پیک

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  •   جی بی الیکشن: مسلم لیگ ن نے اسکردو سے بڑی کامیابی حاصل کر لی
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے