ملک کی ساٹھ فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جو پاکستان کا روشن مستقبل ہیں، میر سرفراز بگٹی
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 12 اگست2025ء) وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ملک کی ساٹھ فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جو پاکستان کا روشن مستقبل ہیں ،حکومت بلوچستان میں پہلی یوتھ پالیسی تشکیل دی گئی ہے اور اسے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں شامل کر دیا گیا ہے تاکہ نوجوانوں کی ترقی اور انہیں آگے بڑھنے کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
عالمی یوم نوجوانان کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ موجودہ دور میں نوجوانوں کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے یہ زمانہ درست اور غلط سچ اور جھوٹ، معلومات اور گمراہ کن بیانیے کی پہچان کا دور ہے ،ایسے حالات میں نوجوانوں پر تحقیق کرنے اور سچائی کو سامنے لانے کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ نوجوان معاشرتی امور خصوصاً سوشل میڈیا سے متعلق معاملات میں تحقیق کر کے سچ کی ترویج کریں اور فروغ دیں کیونکہ یہ ہمارا دینی، اخلاقی، قبائلی اور معاشرتی فریضہ ہے انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے نوجوانوں سے وعدہ کیا تھا کہ کوئی نوکری فروخت نہیں ہونے دوں گا اور آج بھی اس وعدے پر قائم ہوں محکمہ تعلیم میں میرٹ فارمولہ تشکیل دے کر شفاف بھرتیاں کی گئی ہیں، اسی طرح بلوچستان میں پہلی بار یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام شروع کیا گیا ہے ۔
انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اس پروگرام کا حصہ بن کر اپنے اور اپنے خاندان کی خوشحالی کے ساتھ ساتھ ملک میں زرِمبادلہ کے حصول کے لیے کردار ادا کریں۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے بتایا کہ حکومت طلبہ کو انٹرن شپ اور نوجوانوں کو آسان اقساط پر قرضے فراہم کر رہی ہے بلا سود قرضہ پروگرام میں جنوبی سرحدی علاقوں کے نوجوانوں کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ انہیں غیر قانونی سمگلنگ سے نکال کر باعزت روزگار کی طرف مائل کیا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان مختلف شعبوں میں بزنس پلان لے کر آئیں حکومت اخوت اور بی آر ایس پی کے ساتھ مل کر انہیں تجارتی وسائل فراہم کرے گی، ہم نوجوانوں کو فیصلہ سازی اور معاشی طور پر مستحکم بنا کر اپنے پاؤں پر کھڑا کریں گے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ مایوسی کفر ہے اس لیے نوجوانوں کو کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے، بیڈ گورننس کی وجہ سے نوجوانوں اور ریاست کے درمیان جو خلیج پیدا ہوئی ہے اسے بات چیت اور ڈائیلاگ کے ذریعے ختم کرنے کی ضرورت ہے،بلوچ نوجوانوں کو سوچنا ہو گا کہ انہیں ایک لاحاصل جنگ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، پاکستان ایک منظم اور باوقار فوج کا حامل ملک ہے اور ایسی فوج کے ہوتے ہوئے پاکستان کبھی نہیں ٹوٹ سکتا ۔انہوں نے کہا کہ اس جنگ کا نتیجہ صرف خونریزی کے سوا کچھ نہیں ، بلوچستان پسماندہ ضرور ہے مگر اس پسماندگی کے خاتمے کے دیگر طریقے ہیں، دنیا کے مختلف حصوں میں غیر متوازن ترقی کے مسائل موجود ہیں بہتر گورننس میرٹ کے فروغ اور شفافیت کے ذریعے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں اور صوبائی حکومت اس سمت میں عملی اقدامات کر رہی ہے، پی ایس ڈی پی کو نوجوانوں کی ضروریات سے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نوجوانوں کا سب سے بڑا مسئلہ نوکریوں کی تخلیق سے متعلق ہے تاہم یہ واضح ہے کہ حکومت سرکاری شعبوں میں نوکریاں تخلیق کرنے کی مشینری نہیں بلکہ روزگار کے حصول کے مواقعوں اور درست سمت میں رہنمائی فراہم کرنے کی ذمہ دار ہے تاکہ نوجوانوں کو باعزت روزگار حاصل ہو سکے ۔میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان کے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے صوبے، والدین، عزیز و اقارب اور حکومت کا قیمتی سرمایہ ہیں، آپ نے خود کو ان چیلنجز کے لیے تیار کرنا ہے جو جدید دور میں آپ کے سامنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستِ پاکستان سے محبت ایمان کا جز ہےنوجوان آگے بڑھیں اور حکومتی اقدامات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے معاشی استحکام اور ملک کی ترقی کے لیے سرگرم کردار ادا کریں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے میر سرفراز بگٹی نے انہوں نے کہا کہ نوجوانوں پر نوجوانوں کو وزیر اعلی
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز