عدالت نے شاہ محمود قریشی کو رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
لاہور: انسداد دہشتگردی عدالت نے رہنما پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) شاہ محمود قریشی کو رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا۔انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے دو مقدمات میں شاہ محمود قریشی کو رہا کرنے کا حکم دیا اور اس سلسلے میں سپرنٹنڈنٹ جیل کو ملزم کی رہائی کا مراسلہ بھی جاری کیا۔مراسلے میں کہا گہا کہ اگر شاہ محمود قریشی کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں تو انہیں رہا کیا جائے۔جناح ہاؤس کے قریب گاڑیاں جلانے اور تھانہ شادمان جلاؤ گھیراؤ کیس میں انسداد دہشتگردی عدالت کے جج منظر علی گل نے رہائی کا مراسلہ جاری کیا۔
واضح رہے کہ سابق وزیر خارجہ کے خلاف لاہور میں 14 مقدمات تھے جن میں سے وہ 3 بری ہوگئے، 11 اب بھی باقی ہیں۔
گزشتہ روز لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کیسز میں یاسمین راشد اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قید جبکہ شاہ محمود قریشی کو بری کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔تھانہ شادمان جلاؤ گھیراؤ اور جناح ہاؤس کے قریب گاڑیاں جلانے کے مقدمات کی سماعت جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میں کی تھی۔عدالت نے یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، میاں محمود الرشید، عمر سرفراز چیمہ اور عائشہ بھٹہ کو 10، 10 سال قید کی سزا کا حکم سنایا۔
علاوہ ازیں، اے ٹی سی نے پی ٹی آئی پنجاب کی آرگنائزر عالیہ حمزہ اور صنم جاوید کو بھی پانچ، پانچ سال قید کی سزا سنائی جبکہ شاہ محمود قریشی سمیت 7 ملزمان کو بری کیا۔بری ہونے والوں میں سہیل خان، اویس، رفیع الدین، فرید خان، سلمان احمد، عبدالقادر، فیضان، طیب سلطان، شاہدبیگ، ماجد علی اور بخت رواں شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: انسداد دہشتگردی عدالت شاہ محمود قریشی کو عدالت نے کرنے کا کا حکم
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز