Nawaiwaqt:
2026-07-24@04:22:27 GMT

عدالت نے شاہ محمود قریشی کو رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا

اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT

عدالت نے شاہ محمود قریشی کو رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا

لاہور: انسداد دہشتگردی عدالت نے رہنما پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) شاہ محمود قریشی کو رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا۔انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے دو مقدمات میں شاہ محمود قریشی کو رہا کرنے کا حکم دیا اور اس سلسلے میں سپرنٹنڈنٹ جیل کو ملزم کی رہائی کا مراسلہ بھی جاری کیا۔مراسلے میں کہا گہا کہ اگر شاہ محمود قریشی کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں تو انہیں رہا کیا جائے۔جناح ہاؤس کے قریب گاڑیاں جلانے اور تھانہ شادمان جلاؤ گھیراؤ کیس میں انسداد دہشتگردی عدالت کے جج منظر علی گل نے رہائی کا مراسلہ جاری کیا۔

واضح رہے کہ سابق وزیر خارجہ کے خلاف لاہور میں 14 مقدمات تھے جن میں سے وہ 3 بری ہوگئے، 11 اب بھی باقی ہیں۔

گزشتہ روز لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کیسز میں یاسمین راشد اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قید جبکہ شاہ محمود قریشی کو بری کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔تھانہ شادمان جلاؤ گھیراؤ اور جناح ہاؤس کے قریب گاڑیاں جلانے کے مقدمات کی سماعت جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میں کی تھی۔عدالت نے یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، میاں محمود الرشید، عمر سرفراز چیمہ اور عائشہ بھٹہ کو 10، 10 سال قید کی سزا کا حکم سنایا۔

علاوہ ازیں، اے ٹی سی نے پی ٹی آئی پنجاب کی آرگنائزر عالیہ حمزہ اور صنم جاوید کو بھی پانچ، پانچ سال قید کی سزا سنائی جبکہ شاہ محمود قریشی سمیت 7 ملزمان کو بری کیا۔بری ہونے والوں میں سہیل خان، اویس، رفیع الدین، فرید خان، سلمان احمد، عبدالقادر، فیضان، طیب سلطان، شاہدبیگ، ماجد علی اور بخت رواں شامل ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: انسداد دہشتگردی عدالت شاہ محمود قریشی کو عدالت نے کرنے کا کا حکم

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل