بھارت بچہ اسکینڈل، آئی وی ایف کلینک میں بچے کی خرید و فروخت انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
بھارتی شہر حیدرآباد میں پولیس نے ایک جعلی آئی وی ایف اور سروگیسی کلینک سے بچوں کی خرید و فروخت کا انکشاف کیا ہے، جہاں لڑکی 3.5 لاکھ اور لڑکا 4.5 لاکھ روپے میں بیچا جا رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:چین: ’لیبوبو‘ گڑیا نہ ملنے پر بچے نے رشتے داروں کا لاکھوں یوآن کا نقصان کردیا
پولیس کے مطابق یہ فراڈ پچھلے 15 سال سے چل رہا تھا اور بچوں کو ایسے جوڑوں کو دیا جاتا تھا جن کا ان سے کوئی حیاتیاتی تعلق نہیں تھا۔
تحقیقات میں معلوم ہوا کہ یونیورسل سرشٹی فرٹیلٹی سینٹر اور اس کے دیگر مراکز جعلی سروگیسی کا ڈراما رچاتے، جوڑوں سے 30 سے 40 لاکھ روپے تک وصول کرتے، اور پھر ایجنٹوں کے ذریعے غریب یا مجبور والدین سے بچے خرید کر ان جوڑوں کے حوالے کر دیتے۔
ڈی این اے رپورٹس بھی جعلی بنائی جاتی تھیں تاکہ جوڑوں کو یقین ہو کہ بچہ ان کا اپنا ہے۔
اب تک 25 افراد جن میں 4 ڈاکٹر، لیبارٹری ٹیکنیشنز، مینیجرز، ایجنٹ اور بچوں کے حیاتیاتی والدین شامل ہیں، گرفتار کیے جا چکے ہیں۔
کلینک کی مالک ڈاکٹر نامراتا کے خلاف ماضی میں بھی دھوکا دہی اور بچوں کی خرید و فروخت کے کئی مقدمات درج ہو چکے ہیں۔
حکومتِ تلنگانہ نے ریاست کے تمام فرٹیلٹی مراکز کی جانچ کا حکم دے دیا ہے، جب کہ پولیس نے عوام کو غیر قانونی سروگیسی اور دھوکے باز طبی اداروں سے ہوشیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی وی ایف بھارت تلنگانہ حیدرآباد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی وی ایف بھارت تلنگانہ
پڑھیں:
جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مشکوک سفری دستاویزات کی بنیاد پر مسافر آف لوڈ
کراچی:ایف آئی اے امیگریشن نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امیگریشن کلیئرنس کے دوران ایک مسافر کمیل عباس کو مشکوک سفری دستاویزات کی بنیاد پر آف لوڈ کردیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق تفصیلی جانچ کے دوران مسافر کے پاسپورٹ پر مشتبہ جعلی مہریں پائی گئیں۔ مشتبہ مہروں کی تصدیق انٹیگریٹڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم (IBMS) کے ذریعے کی گئی، تاہم متعلقہ آمد و روانگی کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہ ہونے پر مہروں کے جعلی ہونے کا شبہ مزید مضبوط ہو گیا۔
ترجمان کے مطابق ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران مسافر نے بیان دیا کہ اس نے اپنا پاسپورٹ اپنے دوست نعیم کے حوالے کیا تھا، جو اس وقت ملائیشیا میں مقیم ہے اور مبینہ طور پر اسی شخص نے پاسپورٹ پر جعلی پاکستانی امیگریشن مہریں لگوائیں۔ مسافر نے مذکورہ شخص کے رابطہ نمبرز بھی فراہم کر دیے ہیں۔
مسافر کو پرواز سے آف لوڈ کر کے مقدمہ مزید قانونی کارروائی، جامع تحقیقات اور جعلی امیگریشن مہروں کے استعمال میں ملوث تمام افراد کی نشاندہی کے لیے انسدادِ انسانی اسمگلنگ سرکل (AHTC) کے حوالے کر دیا گیا ہے۔