یہ کیا تماشہ ہے؟ خدارا بچوں سے موبائل فونز لے لیں؛ صحیفہ جبار کس بات پر بھڑک اُٹھیں
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
اداکارہ صحیفہ خٹک نے سوشل میڈیا پر نفرت پھیلانے والے کانٹینٹ کریئیٹرز کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔
ماڈل اور اداکارہ صحیفہ جبار خٹک نے سوشل میڈیا پر پھیلتی نفرت انگیز، سطحی اور نقصان دہ ویڈیوز پر کھل کر آواز اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم بطور قوم کیا کر رہے ہیں؟‘‘
انھوں نے انسٹاگرام اسٹوریز میں ایسی ویڈیوز شیئر کیں جن میں کانٹینٹ کریئیٹرز نام، ذات، آمدن، رنگت، لباس اور دیگر ذاتی شناختوں کی بنیاد پر لوگوں کو نشانہ بناتے اور غیر اخلاقی تبصرے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
ادکارہ صحیفہ نے ایک رِیل شیئر کرتے ہوئے کہا کہ کیا ہم واقعی ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جہاں صرف کسی کا نام یا ذات دیکھ کر اس کے بارے میں فیصلہ کر لیا جاتا ہے؟ یہ حد درجہ افسوسناک ہے۔‘
انہوں نے نوجوانوں کو تعلیم اور شعور کی طرف مائل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خدارا ان بچوں سے موبائل فونز لے لیں، اور انہیں کچھ سیکھائیں۔
صحیفہ نے ان ویڈیوز کی بھی مذمت کی جن میں نام نہاد مردانگی اور غیرت کے نام پر زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین کو طنز کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اداکارہ نے کہا کہ یہ کیسا کانٹینٹ ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ اگر کوئی عورت ہراسانی کا شکار ہو تو وہ ناپاک یا گندی ہو جاتی ہے؟ یہ ذہنیت خطرناک ہے۔‘
صحیفہ جبار خٹک نے لباس کے نرخ بتانے والی ویڈیوز پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل طبقاتی تقسیم اور اشرافیہ ذہنیت کو فروغ دیتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ سب کچھ دیکھ کر میں اپنے آپ پر غور کرتی ہوں، اور یاد دلاتی ہوں کہ سیکھنا کبھی بند نہیں ہونا چاہیے۔
صحیفہ نے اپنی اسٹوریز کے اختتام پر اپنے کسی ممکنہ غیر محتاط بیان یا رویے پر معذرت بھی کی اور کہا کہ اگر میں نے ماضی میں کبھی کسی کو تکلیف دی ہو، تو میں شرمندہ ہوں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
خبردار اپنی سمز کسی اور کو نہ دیں۔۔۔ پی ٹی اے نے اہم ہدایات جاری کردیں۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے موبائل فون صارفین کو سمز کے غیر قانونی استعمال اور فراڈ سے بچنے کے لیے اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اپنی سم کسی دوسرے شخص کو دینا قابلِ سزا جرم ہے، کیونکہ آپ کے نام پر رجسٹرڈ سم کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں استعمال ہو سکتی ہے، جس کی قانونی ذمہ داری بھی سم ہولڈر پر عائد ہو سکتی ہے۔پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ آگاہی پیغام میں کہا گیا ہے کہ تمام صارفین اپنی رجسٹرڈ سمز کی تعداد کی باقاعدگی سے جانچ کریں تاکہ کسی بھی غیر مجاز یا غیر ضروری سم کی بروقت نشاندہی کرکے اسے بلاک کرایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے صارفین cnic.sims.pk پر جا کر یا اپنا 13 ہندسوں پر مشتمل شناختی کارڈ نمبر بغیر ڈیش کے 668 پر ایس ایم ایس کرکے اپنے نام پر رجسٹرڈ سمز کی تفصیلات حاصل کر سکتے ہیں۔اتھارٹی نے ہدایت کی کہ اگر کسی صارف کے نام پر ایسی سم رجسٹرڈ ہو جس کے بارے میں وہ لاعلم ہو یا جس کی ضرورت نہ ہو تو اسے فوری طور پر متعلقہ موبائل کمپنی سے رابطہ کرکے بند کرایا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ دھوکا دہی یا غیر قانونی استعمال سے بچا جا سکے۔پی ٹی اے نے مزید کہا کہ نئی سم ہمیشہ متعلقہ موبائل کمپنی کی مستند فرنچائز یا کسٹمر سروس سینٹر سے ہی حاصل کی جائے اور بائیو میٹرک تصدیق کے عمل کے دوران مکمل احتیاط برتی جائے۔ صارفین اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی اجازت اور علم کے بغیر ان کے شناختی کارڈ پر کوئی نئی سم رجسٹرڈ نہ کی جائے۔اتھارٹی نے ایک بار پھر عوام کو متنبہ کیا کہ "مفت سم" یا دیگر پرکشش پیشکشوں کے لالچ میں اپنی بائیو میٹرک تصدیق ہرگز نہ کرائیں، کیونکہ دھوکے باز عناصر اس عمل کے ذریعے آپ کے نام پر اضافی سمز جاری کرا سکتے ہیں، جو بعد ازاں جرائم یا فراڈ میں استعمال ہو سکتی ہیں۔پی ٹی اے نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنی ذاتی معلومات، شناختی دستاویزات اور بائیو میٹرک ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ موبائل آپریٹر یا پی ٹی اے سے رابطہ کریں تاکہ محفوظ اور ذمہ دارانہ موبائل استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔