جشن آزادی؛ کراچی میں میوزیکل کانسرٹ کی تقریب، شہریوں کیلیے ٹریفک پلان جاری
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
کراچی:
جشن آزادی اور معرکہ حق کی خوشی میں نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں میوزیکل کانسرٹ کی تقریب کے انعقاد کے پیش نظر ٹریفک پولیس نے خصوصی ٹریفک پلان جاری کر دیا۔
تقریب میں شرکت کرنے کے لیے آنے والے شہریوں کے لیے ایکسپو سینٹر اور چائنا گراؤنڈ میں پارکنگ کے انتطامات کیے گئے ہیں، اسٹیکر والی گاڑیاں نیشنل اسٹیڈیم میں گیٹ نمبر1 اور گیٹ نمبر11 سے داخل ہو سکیں گی۔
تفصیلات کے مطابق 78 ویں جشن آزادی اور معرکہ حق کی خوشی میں نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں میوزیکل نائٹ کی تقریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
تقریب کے پیش نظر ٹریفک پولیس کراچی کی جانب سے خصوصی ٹریفک پلان و پارکنگ کے انتظامات کیے گئے ہیں، جن گاڑیوں کو اسٹیکر جاری ہوئے ہیں وہ نیشنل اسٹیڈیم میں گیٹ نمبر1 اور گیٹ نمبر11 سے داخل ہوں گیں۔ تقریب میں آنے والے شرکاء کے لیے ایکسپو سینٹر اور چائنا گراؤنڈ میں پارکنگ کے انتطامات کیے گئے ہیں۔
ضلع وسطی حسن اسکوائر پل سے اتر کر ایکسپو سینٹر گیٹ نمبر 1 سے اندر داخل ہوکر شہری اپنی گاڑی یا موٹر سائیکل پارک کریں گے اور بذریعہ شٹل بس سروس انہیں نیشنل اسٹیڈیم پہنچایا جائے گا۔
ضلع جنوبی، ضلع شرقی اور ملیر کے رہائشی براستہ کارساز، نیوٹاؤن اور راشد منہاس روڈ، ملینئیم مال سے جانب اسٹیڈیم روڈ سے چائنا گراؤنڈ نزد نیشنل اسٹیڈیم میں اپنی گاڑی و موٹر سائیکل کھڑی کرکے تقریب میں شرکت کر سکتے ہیں۔ سر شاہ سلیمان روڈ، نیشنل اسٹیڈیم روڈ، حبیب ابراہیم رحمت اللہ روڈ اور کارساز روڈ پر ٹریفک کا شدید دباؤ ہوگا۔
پروگرام میں شرکت کے علاوہ حضرات سے گزارش ہے کہ وہ زحمت و پریشانی سے بچنے کے لیے متبادل راستوں کا انتخاب کریں۔
ٹریفک پولیس کے مطابق لیاقت آباد سے براستہ حسن اسکوائر فلائی اوور سے شارع فیصل جانے والے شہری حسن اسکوائر فلائی اوور سے یونیورسٹی روڈ سے شہید ملت روڈ کا راستہ اختیار کریں۔ کارساز سے لیاقت آباد جانے والے شہری راشد منہاس روڈ اور نیپا کا ر استہ اختیار کریں۔ یونیورسٹی روڈ ایکسپو سینٹر ٹرننگ سے جانب کارساز سے شارع فیصل جانے کے لیے شہید ملت روڈ کا راستہ اختیار کریں۔
ضلع وسطی، شرقی، ملیر، جنوبی اور غربی والے شہری لیاری ایکسپریس وے مرزا آدم خان چوک، ماڑی پور سے سہراب گوٹھ دونوں جانب استعمال کر سکتے ہیں۔ بس، منی بس اور دیگر کمرشل گاڑیوں کو کارساز، ڈرگ روڈ، ملینئیم مال، ایکسپو سینٹر ٹرننگ اور نیو ٹاؤن سے ٹریفک کو متبادل راستوں کی جانب بھیجا جائے گا۔
ٹریفک پولیس کے مطابق سہراب گوٹھ سے جانب نیپا، لیاقت آباد نمبر 10 سے حسن اسکوائر، پی پی چورنگی سے یونیورسٹی روڈ ہر قسم کی ہیوی ٹریفک کا داخلہ ممنوع ہوگا۔
ٹریفک پولیس نے عوام الناس سے گزارش کی ہے کہ زحمت و پریشانی سے بچنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ٹریفک پولیس سے تعاون کریں، دی جانے والی ہدایات پر عمل کریں۔ اپنی گاڑیوں و موٹر سائیکلوں کو کسی سروس روڈ یا مین روڈ پر کھڑی نہ کریں بلکہ دیے گئے پارکنگ مقامات پر ہی پارک کریں۔
کسی بھی پریشانی کی صورت میں رہنمائی کے لیے ٹریفک پولیس رہنما 1915 ملائیں جہاں ہمارے نمائندے آپ کی رہنمائی کے لیے موجود ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نیشنل اسٹیڈیم ایکسپو سینٹر ٹریفک پولیس حسن اسکوائر والے شہری کے لیے
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔