ساورکر پر میرے بیان کیوجہ سے میری جان کو خطرہ ہے، راہل گاندھی
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
اترپردیش کے رائے بریلی سے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے کہا کہ شکایت کنندہ ناتھورام گوڈسے اور گوپال گوڈسے کی اولاد ہیں، جنکی تاریخ پُرتشدد سرگرمیوں سے جڑی رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس کمیٹی کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے پونے کی خصوصی عدالت میں پیشی کے دوران کہا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویر ساورکر پر میرے بیان کی وجہ سے میری جان کو خطرہ ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ دو لیڈروں نے مجھے دھمکی دی تھی۔ عدالت میں پیشی کے دوران راہل گاندھی نے اضافی سیکورٹی کا مطالبہ کیا۔ دراصل یہ معاملہ ویر ساور کر کے خلاف مبینہ ہتک آمیز تبصرہ سے متعلق ہے، جس میں شکایت کنندہ ستیاکی ساورکر نے راہل گاندھی کے خلاف مقدمہ درج کرایا ہے۔
راہل گاندھی کی جانب سے وکیل ملند دتاتریے پوار نے عدالت میں تحریری درخواست دیتے ہوئے کہا کہ شکایت کنندہ ناتھورام گوڈسے اور گوپال گوڈسے کی اولاد ہے، جن کی تاریخ پُرتشدد سرگرمیوں سے جڑی رہی ہے۔ وکیل ملند دتاتریے پوار نے الزام لگایا کہ موجودہ سیاسی ماحول اور کچھ لیڈروں کے متنازعہ بیانات کی وجہ سے راہل گاندھی کی جان کو شدید خطرہ ہے، عدالت نے اس درخواست کو ریکارڈ پر لے لیا ہے۔ اترپردیش کے رائے بریلی سے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے کہا کہ شکایت کنندہ ناتھورام گوڈسے اور گوپال گوڈسے کی اولاد ہیں، جن کی تاریخ پُرتشدد سرگرمیوں سے جڑی رہی ہے۔ اس دوران راہل گاندھی نے رونیت سنگھ بٹو اور ترویندر سنگھ ماروا کا بھی ذکر کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: راہل گاندھی نے شکایت کنندہ نے کہا کہ خطرہ ہے جان کو
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔