لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 اگست2025ء) صوبائی دارالحکومت کے علاقہ سبزہ زار میں زہریلا کھانا کھانے سے ایک بچہ جاں بحق، 2کی حالت تشویشناک ہو گئی۔پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والے بچے کی شناخت 11سالہ ایان کے نام سے ہوئی۔پولیس کے مطابق زہریلا کھانا کھانے سے 10سالہ اذان اور 12سالہ ایمن کی حالت تشویشناک ہے، تینوں بچوں کو دوپہر میں والدہ نے کھانا کھلایا۔

(جاری ہے)

بچوں کو کھانا کھلا کر والدہ گھر کے کام سے باہر چلی گئی، والدہ واپس گھر لوٹی تو تینوں بچوں کو بیہوشی کی حالت میں پایا، والدہ نے تینوں بچوں کو طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کیا۔دوران علاج 11سالہ ایان دم توڑ گیا، دو بچے تاحال زیر علاج ہیں، پولیس نے ایان کی لاش پوسٹ مارٹم کیلئے مردہ خانہ منتقل کر دی۔پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مکمل تحقیقات کر رہے ہیں، جلد حقائق سامنے آئیں گے، متاثرہ فیملی کے گھر سے سمپل لے لئے، رپورٹ کے بعد معاملہ واضح ہو گا۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بچوں کو کی حالت

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟