بھارت کے ایم چناسوامی اسٹیڈیم کی ورلڈ کپ کی میزبانی خطرے میں
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
بھارتی شہر بینگالورو کے ایم چناسوامی اسٹیڈیم میں شیڈول ویمنز ورلڈ کپ کے میچز کا انعقاد خطرے میں پڑ گیا۔ اسٹیڈیم کے متبادل کے طور پر تھرووننتھاپونم کے گرین فیلڈز اسٹیڈیم کا نام زیرِ غور ہے۔
کرک انفو کے مطابق کرناٹک اسٹیٹ کرکٹ ایسوسی ایشن (کے ایس سی اے) نے اسٹیڈیم میں میچز کے انعقاد کے لیے سیکیورٹی کے حوالے سے پولیس کی اجازت کے حوالے سے بی سی سی آئی کی جانب سے طے کی گئی 10 اگست کی ڈیڈ لائن مس کردی جس کے بعد اس وینیو پر ایونٹ کے میچز کا انعقاد خطرے میں پڑ گیا۔
اس وقت بینگالورو میں 30 ستمبر کو بھارت اور سری لنکا کے درمیان ایونٹ کا اوپنر، 3 اکتوبر کو انگلینڈ اور جنوبی افریقا، 26 اکتوبر کو انڈیا اور بنگلادیش، 30 اکتوبر کو دوسرا سیمی فائنل اور ممکنہ طور پر 2 نومبر کو ممکنہ فائنل سمیت پانچ میچز شیڈول ہیں۔
حالات کے پیشِ نظر اسٹیڈیم کے متبادل کے طور پر تھرووننتھاپونم کے گرین فیلڈز اسٹیڈیم کے نام پر غور کیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :