بشریٰ انصاری کی شادی 1 ہزار روپے میں کیسے ہوئی؟
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
پاکستان شوبز کی سینیئر اداکارہ بشریٰ انصاری نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی شادی صرف 1 ہزار روپے میں ہوئی تھی۔
بشریٰ انصاری نے حال ہی میں ایک شو میں شرکت کی جہاں انہوں نے سادہ شادیوں کی اہمیت پر بات کی۔ اداکارہ نے اپنا ذاتی تجربہ بھی شیئر کیا کہ کس طرح ان کا اور اقبال انصاری کا نکاح سادگی سے انجام پایا۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ میں آپ کو تقریباً 45 سال پرانی بات بتا رہی ہوں۔ 1978 کی بات ہے جب انصاری صاحب ٹی وی کے ملازم تھے اور سرکاری ملازمت میں 1200 روپے ماہانہ کماتے تھے۔ انہوں نے میرے والد سے کہا کہ وہ اپنی گاڑی بیچ کر سونے کے زیور خرید لیں گے اور ولیمے کے لیے قرض لیں گے۔ میرے والد نے انکار کر دیا اور کہا نہیں، گاڑی تمہارے کام آئے گی تم اس میں سفر کرو گے جبکہ زیور کسی کام کا نہیں ہوگا۔
میرے والد نے کہا قرض لے کر فضول ولیمہ کرنے کی بھی ضرورت نہیں، لوگ کھانا کھا کر چلے جائیں گے اور تم قرض میں ڈوبے رہو گے۔ میں انتظام کرتا ہوں، نکاح ہو جائے گا۔ اداکارہ نے کہا کہ ہماری شادی صرف ایک ہزار روپے میں ہو گئی۔ نہ قرض لیا، نہ زیور خریدا، نہ فضول خرچ کیا اور ہمیں کبھی کسی قرض کی ادائیگی نہیں کرنی پڑی۔
واضح رہے کہ بشریٰ انصاری ایک لیجنڈ پاکستانی اداکارہ ہیں جو میڈیا انڈسٹری سے ایک طویل عرصے سے وابستہ ہیں۔ انہیں بیک وقت گلوکاری، تحریر اور میزبانی جیسی متعدد صلاحیتوں کے لیے بھی سراہا جاتا ہے۔ حال ہی میں کامیاب ہٹ ڈرامہ سیریل ’کبھی میں کبھی تم‘ میں ان کی نیچرل اداکاری کو بے حد پسند کیا گیا۔
پاکستان کی اداکارہ بشریٰ انصاری بے پناہ ٹیلنٹ کی مظہر ہیں۔ وہ گانا، اداکاری اور لائیو پرفارم کر سکتی ہیں۔ ہر عمر کے لوگ ان سے محبت کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی لازوال اداکاری کے ذریعے مداحوں کو گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنے سحر میں جکڑا ہوا ہے۔
بشریٰ انصاری کے نام ان گنت ہٹ پروجیکٹس ہیں اور ان کے مداح ہمیشہ اس بات کے منتظر رہتے ہیں کہ وہ آگے کیا سائن کریں گی اور کس قسم کا کردار نبھائیں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بشریٰ انصاری بشریٰ انصاری تنقید بشریٰ انصاری شادی پاکستانی شادیاں.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستانی شادیاں
پڑھیں:
سرکاری ملازمتوں کا شاندار موقع! ماہانہ تنخواہ 1 لاکھ سے 7 لاکھ 50 ہزار روپے تک
لاہور: پنجاب ایجوکیشن انیشیٹوز مینجمنٹ اتھارٹی ملازمتیں حاصل کرنے کے خواہشمند امیدواروں کے لیے خوشخبری سامنے آئی ہے۔ پنجاب ایجوکیشن انیشیٹوز مینجمنٹ اتھارٹی (PEIMA) نے مختلف شعبوں میں 31 کنٹریکٹ بنیادوں پر آسامیوں کا اعلان کر دیا ہے، جہاں منتخب امیدواروں کو ماہانہ ایک لاکھ 50 ہزار روپے سے لے کر سات لاکھ 50 ہزار روپے تک تنخواہ دی جائے گی۔
اتھارٹی کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق بھرتیاں ایڈمنسٹریشن، فنانس، پروگرامز، اکیڈمکس، ریسرچ، آئی ٹی، ڈیٹا مینجمنٹ، پارٹنرشپ، مانیٹرنگ اور دیگر اہم شعبوں میں کی جائیں گی۔ ان اسامیوں کے لیے تجربہ کار اور پیشہ ور امیدواروں سے درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔
ڈائریکٹر سطح کے مختلف عہدوں کے لیے امیدوار کی عمر 35 سے 55 سال کے درمیان ہونی چاہیے جبکہ کم از کم 16 سالہ تعلیم اور متعلقہ شعبے میں 10 سال کا تجربہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ان عہدوں پر کامیاب امیدواروں کو زیادہ سے زیادہ 7 لاکھ 50 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جائے گی۔
اسی طرح چیف آڈٹ آفیسر، ڈیٹا اینالسٹ اور ڈیٹا انجینئر کی بھی ایک، ایک آسامی دستیاب ہے۔ ان عہدوں کے لیے عمر اور تجربے کی الگ شرائط مقرر کی گئی ہیں تاکہ موزوں امیدواروں کا انتخاب کیا جا سکے۔
مزید برآں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن، فنانس، ٹریننگ، مانیٹرنگ اور دیگر شعبوں کی آسامیوں پر 2 لاکھ 25 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ مقرر کی گئی ہے، جبکہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر آئی ٹی اینڈ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے لیے تنخواہ 3 لاکھ روپے ماہانہ رکھی گئی ہے۔ ان عہدوں کے لیے 16 سالہ تعلیم اور کم از کم 3 سال کا متعلقہ تجربہ ضروری ہوگا۔
اتھارٹی نے اسسٹنٹ اور اسسٹنٹ آئی ٹی کی متعدد آسامیوں کا بھی اعلان کیا ہے، جن کے لیے کم از کم ایک سال کا عملی تجربہ درکار ہوگا۔
تعلیمی قابلیت
درخواست دینے والے امیدواروں کے پاس ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) سے تسلیم شدہ ادارے کی ڈگری ہونی چاہیے۔ متعلقہ شعبوں میں بزنس ایڈمنسٹریشن، فنانس، اکاؤنٹنگ، پبلک ایڈمنسٹریشن، ایجوکیشن، سوشل سائنسز، کمپیوٹر سائنس، ڈیٹا سائنس، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سافٹ ویئر انجینئرنگ سمیت دیگر مضامین قابل قبول ہوں گے۔
درخواست کیسے جمع کرائیں؟
امیدوار پنجاب ایجوکیشن انیشیٹوز مینجمنٹ اتھارٹی ملازمتیں حاصل کرنے کے لیے پنجاب حکومت کے سرکاری جاب پورٹل کے ذریعے آن لائن درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔ ڈاک، ای میل یا کوریئر کے ذریعے بھیجی گئی درخواستوں پر غور نہیں کیا جائے گا۔
سرکاری یا نیم سرکاری اداروں میں خدمات انجام دینے والے امیدواروں کو اپنے متعلقہ ادارے کے ذریعے درخواست جمع کرانا ہوگی اور ضرورت پڑنے پر این او سی بھی فراہم کرنا ہوگا۔