چلی کا ’سیئلو‘ منصوبہ، علم فلکیات کے میدان میں اہم کیوں سمجھا جارہا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
چلی میں ’سیئلو‘ (CiELO) پراجیکٹ کہکشاؤں کی تشکیل اور ارتقاء کے مطالعے میں نئی راہیں کھول رہا ہے اور اس ملک کو کمپیوٹیشنل فلکیات میں لاطینی امریکا کا قائد بنانے کی جانب گامزن ہے۔
مرکز برائے فلکیات اور متعلقہ ٹیکنالوجیز (CATA) کی ڈائریکٹر اور پراجیکٹ کی سربراہ پاتریشیا تیسیرا نے کہا:
’یہ اپنی نوعیت کا پہلا تخلیقی سمیولیشن پراجیکٹ ہے جو چلی اور اس خطے میں تیار کیا گیا ہے۔ اس کی بدولت قومی سائنسی برادری اب اپنی شناخت اور آزادانہ نقطۂ نظر کے ساتھ کائنات سے متعلق اپنے سوالات اٹھا اور حل کر سکتی ہے۔‘
’سیئلو‘ کا مکمل نام Chemo-dynamIcal propertiEs of gaLaxies and the cOsmic ہے۔ اس کا بنیادی ہدف یہ سمجھنا ہے کہ کہکشائیں اپنے قدرتی ماحول — یعنی “کاس ویب” — میں کس طرح بنتی اور بدلتی ہیں، اور اس ارتقائی عمل میں کیمیائی خواص کس طرح بطور اشاریہ کام کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے نظام شمسی سے 3 ارب سال پرانا دمدار ستارہ دریافت
پراجیکٹ اس بات کا جائزہ لے گا کہ مختلف کائناتی ماحول — خلا کی وسعتیں (Cosmic Voids)، فلکیاتی دھاگے (Filaments) اور دیواریں (Walls) — کہکشاؤں کی حرکیات اور کیمیائی ساخت پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس سے سائنس دان وقت کے ساتھ ساتھ کہکشاؤں کی تشکیل اور تبدیلی کو بہتر طور پر سمجھ سکیں گے۔
سپر کمپیوٹرز میں ’ورچوئل کائنات‘پراجیکٹ کی سربراہ کے مطابق:
’سیئلو سپر کمپیوٹروں کے اندر حقیقی معنوں میں کائنات کے مجازی جڑواں تخلیق کرتا ہے، جن میں ہم ملکی وے سے لے کر کائنات کی پہلی کہکشاؤں تک کا سفر کر سکتے ہیں۔ یہ صلاحیت فلکیات سے باہر بھی ان شعبوں میں مفید ہے جہاں ماڈلنگ اور سمیولیشن اہم کردار ادا کرتے ہیں۔‘
8سالہ ترقی، بین الاقوامی تعاونیہ پراجیکٹ 8 سال کی محنت سے تیار ہوا ہے، جس میں آئیبیرو-امریکا کی یونیورسٹیاں اور بین الاقوامی ادارے جیسے میکس پلانک انسٹیٹیوٹ فار ایسٹروفزکس اور ڈرہم یونیورسٹی شامل ہیں۔ اس کی معاونت CATA کر رہا ہے جو ’گیریون‘ جیسے طاقتور کمپیوٹنگ کلسٹرز تک رسائی فراہم کرتا ہے اور نئے محققین کی تربیت میں مدد دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ماہرین فلکیات حیران، آسمان میں ایسا کیا غیر معمولی ہونے والا ہے؟
سیمولیشنز نیشنل لیبارٹری فار ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ (یونیورسٹی آف چلی) اور بارسلونا سپرکمپیوٹنگ سینٹر میں بھی چلائی جا رہی ہیں، جہاں GADGET-3 اور SKIRT جیسے سافٹ ویئر استعمال ہوتے ہیں۔ یہ سافٹ ویئر کہکشاؤں کی تشکیل، ارتقاء اور بین السیاری گرد و غبار میں روشنی کی حرکت کو باریک بینی سے ماڈل کرتے ہیں۔
عالمی دوربینوں کے ڈیٹا سے ہم آہنگی’سیئلو‘ کے نتائج کا مقصد جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ، ویرا سی روبن آبزرویٹری (چلی کے خطہ کوکیمبو میں)، اور زیرِ تعمیر ایکسٹریم لیارج ٹیلی اسکوپ (سرو آرماثونیز، خطہ انٹوفاگاستا) جیسے بڑے فلکیاتی منصوبوں سے حاصل شدہ ڈیٹا کو مزید مؤثر اور جامع بنانا ہے۔
پراجیکٹ کی سب سے منفرد بات یہ ہے کہ یہ کم کثافت والے ماحول میں موجود کہکشاؤں پر خصوصی توجہ دیتا ہے۔ اس زاویے سے سائنسدان ایسے عمل کا مطالعہ کر سکتے ہیں جو اب تک کم دریافت شدہ ہیں، خاص طور پر کیمیائی عناصر کی بنیاد پر کہکشاؤں کی ارتقائی تاریخ کا سراغ لگانے میں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹیکنالوجی علم فلکیات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹیکنالوجی علم فلکیات
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔