نوجوانوں کیلئے خوشخبری! چین نے نئی ویزا کیٹیگری متعارف کرا دی
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
اگر آپ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ یا ریاضی جیسے شعبوں میں دلچسپی رکھتے ہیں تو یہ خبر آپ کے لیے خوش آئند ہے! چین نے پاکستانی نوجوانوں سمیت دنیا بھر کے ہنرمند طلباء اور پروفیشنلز کے لیے ایک نیا ویزا — “K Visa متعارف کرا دیا ۔
یہ ویزا ان غیر ملکی نوجوانوں کے لیے مخصوص ہے جو جدید تعلیم اور تحقیق کے شعبوں میں اپنی مہارت اور صلاحیتوں کے ساتھ چین آ کر کام کرنا یا سیکھنا چاہتے ہیں۔ اس فیصلے پر چین کے وزیراعظم لی کیانگ نے دستخط کیے، اور یہ ویزا پالیسی یکم اکتوبر 2025 سے نافذ العمل ہوگی۔
کے ویزاکیا ہے؟
یہ چین کے عام ویزا سسٹم میں نیا اضافہ ہے۔ اس کے تحت نوجوانوں کوسائنس، تعلیم، تحقیق اور ثقافتی تبادلوں میں شرکت کی اجازت ہوگی۔
یہ ویزا اُن افراد کے لیے ہے جنہوں نے کسی معتبر یونیورسٹی یا ریسرچ ادارے سے بیچلر یا اس سے اوپر کی ڈگری حاصل کی ہو، خاص طور پر STEM فیلڈز (Science, Technology, Engineering, Mathematics) میں۔
درخواست دہندگان کی تعلیمی قابلیت، عمر اور تجربے کی بنیاد پر اہلیت کا تعین ہوگا۔
K Visa ہولڈرز کو چین میں داخلے، قیام کی مدت اور سرگرمیوں میں شرکت کے حوالے سے مزید سہولیات دی جائیں گی۔
انہیں چین میں سیکھنے، کام کرنے، اور مختلف سائنسی و تعلیمی منصوبوں کا حصہ بننے کا موقع ملے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔