صدرمملکت آصف علی زرداری کا یوم آزادی کے موقع پرمختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی اورکامیابیوں پر263 شخصیات کو پاکستان سول ایوارڈ دینے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 15 اگست2025ء) صدر مملکت آصف علی زرداری نے یوم آزادی کے موقع پر مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی اور کامیابیوں پر 263 شخصیات کو پاکستان سول ایوارڈ دینے کا اعلان کیا ہے جو 23 مارچ 2026ء کو یوم پاکستان کے موقع پر دیئے جائیں گے۔ جمعہ کو کابینہ سیکرٹریٹ ایوارڈز سیکشن کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق سائنس کے شعبہ میں نمایاں کارکردگی اور کامیابیوں پر ڈاکٹر سید حبیب اﷲ شاہ (زراعت) کو ستارہ امتیاز، پروفیسر ڈاکٹر رافیہ ممتاز کو پی اے پی پی، انجینئر ڈاکٹر مریم جلال چوہدری، پروفیسر ڈاکٹر محمد معظم فراز اور پروفیسر ڈاکٹر اویس یٰسین کو تمغہ امتیاز جبکہ انجینئر رخسانہ زبیری کو ستارہ امتیاز دینے کا اعلان کیا ہے۔
تعلیم کے شعبہ میں ڈاکٹر عامر محمد اور پروفیسر ڈاکٹر اکرام الحق کو ہلال امتیاز، ڈاکٹر شمس الدین قریشی (مرحوم)، پروفیسر چوہدری ارشاد محمد خان (مرحوم) کو ستارہ امتیاز، پروفیسر ڈاکٹر مجیب الدین میمن اور ڈاکٹر مولا داد شفا کو ستارہ امتیاز، ڈاکٹر لبنیٰ ظہیر کو پی اے پی پی، پروفیسر ڈاکٹر محمد صبیحہ انور، ڈاکٹر رحمت الہٰی، ڈاکٹر طارق محمود جدون، پروفیسر ڈاکٹر سرور خان، پروفیسر ڈاکٹر نقیب اﷲ اچکزئی، پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ، غلام نبی، زکریا اسماعیل گوندل، جاوید رئیس، عابد حسین لاشاری اور ڈاکٹر ممتاز عمر کو تمغہ امتیاز دینے کا اعلان کیا گیا۔(جاری ہے)
میڈیسن کے شعبہ میں پروفیسر ڈاکٹر بلال احمد، ڈاکٹر اکبر حسین، ڈاکٹر شوکت زبیر، ڈاکٹر فرحت اختر راجہ اور ڈاکٹر خرم خان کو تمغہ امتیاز دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ آرٹس کے شعبہ میں عرفان علی کھوسٹ، حدیقہ کیانی، عرفان احسن، عذرا آفتاب، ثمینہ پیرزادہ، فضیلہ قیصر قاضی، سویرا عباس، حمیرا ارشد، سائرہ نسیم اور سلیمہ ہاشمی کو ستارہ امتیاز، محمد اعظم خان، ذوالقرنین حیدر، سلطان جاوید جمال، نور محمد بلوچ، رجب علی، مختیار ناز تاج مستانی، جمشید علی خان، شیخ محمد صادق اور خواجہ علی کاظم (مرحوم) کیلئے پی اے پی پی جبکہ اﷲ دینہ المعروف اے ڈی بلوچ، عمران اﷲ ہنزئی اور قاضی شجاعت قادری کو تمغہ امتیاز دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ لٹریچر میں عرفان الحق صدیقی، عطاء الحق قاسمی اور مستنصر حسین تارڑ کو نشان امتیاز، اصغر ندیم سید اور زارا ماجد علی کو ہلال امتیاز، مرتضیٰ برلاس، یاسمین حمید، نصیر احمد ناصر، پروفیسر کرار حسین مرحوم، ڈاکٹر عبدالرئوف رفیقی، رضا اﷲ شاہ عارف نوشاہی اور سید مسعود حسین شہاب دہلوی (مرحوم) کو ستارہ امتیاز دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ لٹریچر میں مزید شخصیات جن میں امین اﷲ دائود زئی، اختر محمود اور تجمل کلیم (مرحوم) کو پی اے پی پی، احمد خان طارق (مرحوم)، ڈاکٹر غلام معین الدین، ڈاکٹر ناصر عباس نیئر، محمد امین ضیاء اور ثروت محی الدین کو تمغہ امتیاز دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ کھیلوں کے شعبہ میں شاہد خان آفریدی، شہروز کاشف، ملک محمد عطاء (مرحوم) کو ہلال امتیاز، ثناء میر اور حیدر علی کو ستارہ امتیاز، محمد سجاد گجر اور شاہ زیب رند کو پی اے پی پی، محمد حمزہ خان، محسن نواز اور رشید ملک کو تمغہ امتیاز دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ صحافت کے شعبہ میں نمایاں خدمات پر احتشام الحق کو ہلال امتیاز، ضیاء الحق سرحدی اور سرمد علی کو ستارہ امتیاز، ثمر عباس، عادل عباسی، کرن ناز، بینش سلیم، کامران حامد راجہ، مونا عالم، محمد طارق عزیز، ارشاد انصاری، عبدالمحی شاہ اور شازیہ سکندر کو تمغہ امتیاز دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ سوشل ویلفیئر کے شعبہ میں محمد یٰسین خان اور حمزہ تابانی کو ستارہ امتیاز، مولانا محمد طیب قریشی، سید زاہد حسین شاہ، سارہ بلال اور میجر (ر) ڈاکٹر سلمیٰ ضمیر خان کو تمغہ امتیاز دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ فلنتھراپی میں محمد عبدالکریم ثاقب، ارشد ولی محمد اور عبدالرحیم جانو کو ستارہ امتیاز، ارم رضوان، تسنیم زہرہ اور شمیلہ اسماعیل قریشی کو تمغہ امتیاز دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ پبلک سروس میں نوابزدہ نصر اﷲ خان (مرحوم) کو نشان امتیاز، وسیم احمد خان، معظم جاہ انصاری، عزیز الدین بولانی، سردار اویس لغاری، محمد علی کو ہلال امتیاز، شاہجہاں سید کریم (مرحوم)، ڈاکٹر سید محمود شاہ، جاوید اکبر ریاض، محمد اسرار، رحیم حیات قریشی، نبیل منیر، تاج حیدر (مرحوم)، ڈاکٹر نسیم فراز، منیر احمد چوہدری (مرحوم)، خورشید احمد ندیم، افتخار امجد، ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان، بریگیڈیئر سکندر حیات، عمران حمید اور سہیل اشرف کو ستارہ امتیاز، عبیدالرحمن نظامانی، سلمان اطہر، نواب عادل خان اور محمد نعیم اختر کو تمغہ شجاعت دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسی طرح احمر ملک، عقیل احمد صدیقی، ڈاکٹر محمد عاکف خان، محمد اسلم، لیفٹیننٹ کرنل عاطف نوید، ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ، انور حسین، ظہور اعوان، ڈاکٹر شاہد ملک، ذیشان علی، میاں فاروق نذیر، نادر شفیع ڈار، وقاص الحسن، محمد شابی احمد، سلمان اختر اور سروش حصمت لودھی کو تمغہ امتیاز دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ گلینٹری و پبلک سروس میں سپاہی اظہر محمود شہید کو ہلال شجاعت، جاوید اﷲ محسود، نواب علی خان شہید، ہدایت اﷲ خان شہید، اے ایس آئی محمد اکرم شہید، ایف سی عبداﷲ شہید، ایف سی صمد خان شہید، ایف سی عبدالحمید شہید، ایف سی زامل بادشاہ شہید، ایف سی حفیظ اﷲ شہید، ایف سی محمد سراج شہید، ایف سی محمد جاوید شہید، ایف سی امان اﷲ شہید، ایف سی اقرار سید شہید، ایس آئی تاج میر شاہ شہید، سید اقرار حسین رضوی شہید، انسپکٹر شارق رضوان شہید، غلام فرید شہید، نائیک گلزار علی شہید، سپاہی عزیر خان شہید، سپاہی خطاب الرحمن شہید، سپاہی گل عمر زئی شہید، نائب صوبیدار محمد جان شہید، لانس نائیک سید الرحمن شہید، سپاہی حضرت اﷲ شہید، سپاہی خانزادہ شہید، سپاہی مشتاق احمد شہید، سپاہی عبدالسمید شہید، نائیک محمد عارف شہید، سپاہی عمران خان شہید، سپاہی بصیر اﷲ شہید، سپاہی مہتاب الرحمن شہید، سپاہی شیر رحمن شہید، سپاہی سید امین شہید، ایم ٹی سپاہی فضل کریم شہید، سپاہی محمد یوسف شہید، کانسٹیبل شہریار شہید، فیصل اسماعیل شہید، عبدالوکیل خان شہید، اے ایس آئی نور حکیم شہید، کانسٹیبل زاہد اﷲ شہید، فضل منان شہید کو ستارہ شجاعت، میر مظفر حسین جمالی شہید اور عدنان فاروق قریشی شہید کو تمغہ شجاعت دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ سعید منان، ملک گوہر علی، شاہد حسین، سپاہی باسط اﷲ، سپاہی سمیع اﷲ، سپاہی صابر علی، سپاہی صائب دین، انڈر آفیسر عیسیٰ خان کو تمغہ شجاعت، ایس ایس پی عطاء الرحمن، احمد رضا، ایس ایس پی اختر فاروق، شہاب الدین خان کو ستارہ امتیاز، عمران شاہد، محمد ہلال، عبدالوحید خان، عبدالوہاب شیخ، وقار شعیب انور، فضل محمد، انسپکٹر محمد شبیر حسین، عدنان قادر، ساجد عباس، سہیل انور، سفید خان، انسپکٹر محمد اسلم، انڈر آفیسر مجاہد علی، انڈر آفیسر عبدالاحد، انڈر آفیسر طاہر نوید، کارپورل فہد ساجد، ایچ سی ندیم، طارق بٹ، عبدالرحیم اور عبیداﷲ کو تمغہ امتیاز دیئے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسی طرح پاکستان کیلئے خدمات سرانجام دینے والے غیر ملکیوں کیلئے بھی ایوارڈز دینے کا اعلان کیا گیا ہے ان میں شاہ خالد الفیصل بن عبدالعزیز السعود کو ہلال پاکستان، لی ہونگ زونگ، لیو جیان شو اور وانگ یانگ کیلئے ہلال قائداعظم، محمد بن حسن محمد حسن السویدی، راشد اووزیگل دیوچ اور سانتا ماریہ اناسیلر کو ستارہ پاکستان، ژو ڈونگ یو اور پنکیو کو ستارہ امتیاز، سیو جون کو ستارہ قائداعظم، لورا دلمیر (مرحوم) کو تمغہ شجاعت، نور الرحمن عابد کو تمغہ امتیاز، کیان فینگ کو تمغہ قائداعظم، ڈاکٹر فیصل اکرام کو تمغہ خدمت دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں میں سے سلیم اصغر علی، فاخرہ خالد، ڈاکٹر ارشد ریحان اور اشرف حبیب اﷲ کو ستارہ امتیاز، وقار علی خان اور قدیر احمد خان کو پی اے پی پی، محمد سعید شیخ کو ستارہ خدمت، پروفیسر ڈاکٹر راحت منیر، ابرار حسین تنولی، ڈاکٹر محمد شہباز چوہدری، ڈاکٹر منصور میمن، ڈاکٹر شوکت علی، سکندر ملک، ڈاکٹر اسد اﷲ رومی، مدثر علی، چوہدری امانت حسین، افتخار سکندر چیمہ، زاہد مغل، محمود سلطان، ڈاکٹر شجاع الدین، راجہ سلمان رضا، ڈاکٹر عرفان ملک، ڈاکٹر مجید خان، ڈاکٹر رائو کامران علی، عامر جاوید شیخ اور وقاص خان کو تمغہ امتیاز دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔\932.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کو ستارہ امتیاز کو ہلال امتیاز پروفیسر ڈاکٹر کو تمغہ شجاعت کو پی اے پی پی کے شعبہ میں خان کو تمغہ انڈر آفیسر میں نمایاں ڈاکٹر محمد خان شہید اﷲ شہید علی کو ایف سی
پڑھیں:
میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔
پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگیبی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی
انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدفدانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔
2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئیاس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہبی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاریدانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔
بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔
گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی
ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز