پشاور ( ڈیلی پاکستان آن لائن) خیبر پختونخوا میں سیلاب سے متاثرہ عوام کی بحالی کے لیے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ہدایت پر پاک فوج نے ایک دن کی تنخواہ اور تقریباً 600 ٹن (6 لاکھ کلوگرام) راشن متاثرین کے لیے وقف کر دیا ہے، جبکہ اضافی فوجی دستے بھی متاثرہ علاقوں میں بھیج دیے گئے ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی طرف سے ایک دن کا راشن، جو 600 ٹن سے زائد ہے، متاثرہ عوام کی فوری امداد کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کور آف انجینئرز کو پلوں کی جلد مرمت اور ضرورت کے مطابق عارضی پل قائم کرنے کی خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

جامعہ دارالعلوم محمدیہ کوٹ سادات میں جشن آزادی کی تقریب

آرمی چیف کی ہدایت پر نائن یونٹ کے ریسکیو سنیفنگ ڈاگ یونٹ، خصوصی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم، اور فوج کے اضافی دستے متاثرہ علاقوں میں تعینات کر دیے گئے ہیں۔ پاک فوج کے ہیلی کاپٹر اور آرمی ایوی ایشن پہلے ہی ریلیف اور بحالی کے کاموں میں مصروف ہیں۔

آرمی چیف نے واضح کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں تعینات فوج متاثرہ عوام کی بحالی میں بھرپور کردار ادا کرے گی اور پاک فوج مشکل کی ہر گھڑی میں صوبے کے عوام کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: پاک فوج

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف