Express News:
2026-07-24@11:13:53 GMT

بھارت کی آبی جارحیت اور مذموم ہتھکنڈے

اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT

بھارت نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی ثالثی عدالت کو پاکستان کے ساتھ آبی معاہدے پر فیصلہ دینے کا اختیار حاصل نہیں ہے، بھارت نے کبھی اس عدالت کی قانونی حیثیت کو تسلیم نہیں کیا۔ دوسری جانب اطلاعات کے مطابق بھارت حسب عادت بغیر اطلاع کے دریائے ستلج اور جہلم میں مزید پانی چھوڑ رہا ہے، جس سے شدید سیلابی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے، وسیع پیمانے پر جانی ومالی نقصانات کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

بھارت نے اپنے جارحانہ رویے اور آبی وسائل پر غیر قانونی قبضے کے ذریعے خطے میں نہ صرف پاکستان کے لیے مسائل پیدا کیے ہیں بلکہ عالمی آبی قوانین کی بھی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔

سندھ طاس معاہدہ، جو 1960 میں دونوں ممالک کے درمیان طے پایا تھا، پانی کے انتظام میں ایک تاریخی دستاویز ہے، لیکن بھارت نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کرکے پاکستان کے آبی حقوق کی صریح خلاف ورزی کی ہے۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان آبی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور باہمی تعاون کا ایک سنگ بنیاد ہے، جس کا مقصد خطے میں امن و امان کو برقرار رکھنا تھا، لیکن بھارت نے اپنی ہٹ دھرمی اور مذموم حکمت عملی کے ذریعے اسے ہمیشہ کمزور کیا ہے۔

بھارت کا بین الاقوامی ثالثی عدالت کو تسلیم نہ کرنا اور اس کی قانونی حیثیت سے انکار کرنا پاکستان کے لیے ایک چیلنج ہے، کیونکہ یہ عدالت سندھ طاس معاہدے کے تحت طے پانے والے تنازعات کو حل کرنے کے لیے قائم کی گئی تھی۔ بھارت کا یہ رویہ نہ صرف سفارتی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔

اس رویے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت اپنے مقاصد کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار ہے، چاہے اس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہوں اور خطے میں عدم استحکام پیدا ہو۔بھارت کی جانب سے پاکستان کے دریاؤں کا پانی روکنا ’آبی جارحیت‘ ہے جو بھارت کے بانی نظریات اور فلسفے کی بھی توہین ہے۔ پاکستان کے دریاؤں کی خاموشی گواہی دے رہی ہے کہ صدیوں کی تہذیبوں، عظیم سلطنتوں کے عروج و زوال اور خون کی روشنائی سے کھینچی گئی سرحدوں کی کوئی وقعت نہیں۔ دریاؤں کی یہ خاموشی اذیت اور ایک ایسی خیانت ہے جو طاقت کے نشے اور زعم میں سرشار بھارت کی طرف سے ہو رہی ہے اور یہ دوسروں کی آزادی پر ضرب لگا رہا ہے۔

یہ وہی بھارت ہے جس کا تعارف کبھی گاندھی کے عدم تشدد اور نہرو کے سیکولر ازم سے کیا جاتا تھا۔ لیکن آج، اسی بھارت نے وہ روپ دھار لیا ہے، جس سے کبھی آزادی حاصل کرنے کے لیے قربانیاں دی تھیں۔ اب وہ ملک جو کبھی نوآبادیاتی ظلم کے خلاف کھڑا ہوا تھا، خود ایک نئے سامراج کا پرچارک بن چکا ہے۔ نئی دہلی نے اب وہی کردار اپنا لیا ہے جو کسی زمانے میں وائسرائے ہند کا تھا یعنی ازخود فیصلہ کرنا، نقشہ کھینچنا اور اپنی سوچ کی مخالفت یا مزاحمت کرنے والوں کو طاقت سے خاموش کر دینا۔چھ مئی کو بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا تھا۔ وہی معاہدہ جو 1960سے اب تک تین جنگوں کے باوجود قائم رہا۔ یہ ایک بین الاقوامی مثال تھی کہ دشمن ممالک بھی تعاون کر سکتے ہیں، لیکن اب یہ بھی بھارت کی جارحیت کی نذر ہو چکا ہے۔

دریاؤں کو ہتھیار بنا کر پانی کی فراہمی کو روکنے کی دھمکی دراصل ایک نئی قسم کی جنگ ہے۔ وہ جنگ ہے جس میں بندوقیں استعمال نہیں ہوتی بلکہ پانی روکنے کی صورت زندگی چھینی جاتی ہے۔ یہ عمل نہ صرف ویانا کنونشن کی خلاف ورزی ہے بلکہ ایک ایسے جنوبی ایشیا کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان ہے جہاں پانی پہلے ہی کم ہوتا جا رہا ہے۔ کیا بین الاقوامی برادری اس خاموش قتل پر خاموش ہی رہے گی؟ یہ وہی ملک ہے جس نے کبھی تقسیم کو المیہ کہا تھا مگر اب اسی تقسیم کو ووٹ بینک بنانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ اِس پوری صورتحال کا افسوس ناک اور تاریک پہلو یہ بھی ہے کہ دنیا بھارتی جارحیت پر خاموش ہے۔ اقوام متحدہ، جو ہر عالمی تنازعے میں قراردادیں منظور کرتی ہے، یہاں بے بس دکھائی دیتی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں سرگوشیوں سے آگے نہیں بڑھ رہیں۔ مغرب، جس نے امن، انصاف اور قانون کی دہائی دی تھی، آج بھارت کی منڈیوں اور ٹیکنالوجی کی چمک دمک کی وجہ سے اندھا ہو چکا ہے۔ دریائے ستلج اور جہلم میں بھارت کی جانب سے بغیر اطلاع پانی چھوڑنے کی حالیہ اطلاعات انتہائی تشویش ناک ہیں۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں بلکہ ایک جارحانہ قدم ہے جس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ سیلاب کی شدت میں اضافے سے زرعی زمینوں کو نقصان پہنچے گا، رہائشی علاقوں میں تباہی کا خدشہ ہوگا اور لاکھوں افراد کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوں گے۔

بھارت کی یہ غیر ذمے دارانہ حرکت خطے میں ماحولیات کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتی ہے، جس کے اثرات طویل مدت تک محسوس کیے جائیں گے۔پاکستانی حکام اور عوام کو اس صورتحال سے مکمل آگاہ ہونا چاہیے تاکہ وہ خود کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھ سکیں۔ پانی کے بہاؤ پر مستقل نگرانی، سیلاب سے بچاؤ کے مؤثر اقدامات اور عوامی شعور کو بڑھانا اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ اس کے علاوہ، بین الاقوامی برادری کو بھارت کی ان غیر قانونی حرکات پر سخت ردعمل ظاہر کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنے رویے میں تبدیلی لائے اور خطے میں امن قائم رہے۔پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنی سفارتی حکمت عملی کو مزید مضبوط کرے اور بین الاقوامی فورمز پر بھارت کی آبی جارحیت کے خلاف اپنے موقف کو واضح کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ، پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے پانی کی مقدار اور بہاؤ کی نگرانی کرنی چاہیے تاکہ کسی بھی غیر معمولی واقعے کو بروقت قابو میں لایا جا سکے۔

پانی کا مسئلہ اب صرف دو ممالک کا معاملہ نہیں بلکہ ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے جس کے لیے عالمی سطح پر تعاون کی ضرورت ہے۔بھارت کی آبی جارحیت کے خلاف پاکستان کی کامیابی کا انحصار نہ صرف اس کی سفارتی محنت پر ہے بلکہ اس کی قومی یکجہتی، عوامی شعور اور حکومتی اقدامات پر بھی ہے۔ یہ مسئلہ ایک سنجیدہ قومی مسئلہ ہے جس کا حل صرف بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور باہمی تعاون سے ممکن ہے۔ بھارت کی جانب سے پانی کے وسائل پر قبضہ خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اگرچہ بھارت نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کرنے اور اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہنے کا عادی ہے، لیکن پاکستان کو اپنی قومی سلامتی اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے مضبوط اور متحد ہونا ہوگا۔ پانی کی بقا اور تحفظ کے لیے قومی سطح پر پالیسی سازی، قانونی چارہ جوئی، اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے تاکہ بھارت کی مذموم کوششوں کو ناکام بنایا جا سکے۔یہ جدوجہد صرف پانی کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے قومی وقار، خودمختاری اور خطے میں امن کے قیام کے لیے ہے۔

بھارت کی آبی جارحیت ایک ایسی جنگ ہے جو نہ صرف پانی کی تقسیم پر اثر انداز ہوتی ہے بلکہ خطے کی سیاسی اور اقتصادی صورتحال کو بھی متاثر کرتی ہے۔ اس لیے پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو ہر ممکنہ طریقے سے عالمی سطح پر اجاگر کرے اور بھارت کے غیر قانونی اقدامات کو بے نقاب کرے تاکہ خطے میں امن و امان قائم رہ سکے۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پانی کی قلت اور آبی وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم عالمی سطح پر بھی ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہے۔ بھارت کا پاکستان کے دریاؤں میں غیر قانونی پانی چھوڑنا اور پانی کی آمد و رفت کو متاثر کرنا اس عالمی بحران کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اور باہمی اعتماد کی بحالی ضروری ہے، تاکہ پانی کے وسائل کو پرامن طریقے سے تقسیم کیا جا سکے اور دونوں ممالک کے عوام کو اس کا حق مل سکے۔

پاکستان کو چاہیے کہ وہ نہ صرف اپنے آبی حقوق کا دفاع کرے بلکہ عالمی سطح پر بھارت کی اس جارحیت کو بے نقاب کر کے اسے قانونی و سفارتی محاذ پر بھی شکست دے۔ یہ وقت ہے کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے اور بھارت کی اس آبی جارحیت کو روکنے کے لیے عالمی برادری کو بھی اپنا موقف واضح کرے۔بھارت کی جانب سے آبی وسائل پر قبضہ اور معاہدوں کی خلاف ورزی خطے کی دیرپا ترقی اور امن کے لیے خطرہ ہے، اگر ہم نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا اور اس کا بروقت حل نہ نکالا تو آنے والے وقت میں اس کے نقصان دہ اثرات نہ صرف پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا کو متاثر کریں گے۔ اس لیے تمام متعلقہ فریقین کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کریں اور مل کر پانی کے وسائل کے مؤثر انتظام کے لیے اقدامات کریں۔

پاکستان کی حکومت، سول سوسائٹی، اور عوام کو چاہیے کہ وہ پانی کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس کے تحفظ کے لیے مشترکہ محنت کریں اور بھارت کی آبی جارحیت کے خلاف ایک مضبوط اور متحد آواز بلند کریں تاکہ یہ خطہ پانی کے حوالے سے خوشحالی اور امن کا گہوارہ بن سکے۔یہ تمام حقائق اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت کی جانب سے آبی جارحیت اور اس کے مذموم ہتھکنڈے نہ صرف پاکستان کے لیے بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہیں۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور بھارت کو اس کی کارروائیوں سے باز رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے تاکہ خطے میں امن قائم رہے اور پاکستان پانی کے حقیقی حق سے محروم نہ ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بھارت کی ا بی جارحیت بھارت کی جانب سے دونوں ممالک کے کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی عالمی سطح پر تحفظ کے لیے پاکستان کے پاکستان کو اور بھارت خلاف ورزی اس مسئلے بھارت نے ہیں بلکہ ہے بلکہ کے خلاف پانی کے پانی کی پر بھی چکا ہے رہا ہے

پڑھیں:

ایشین گیمز: پاکستان، بھارت، بنگلادیش، سری لنکا براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے میں

ایشین گیمز 2026 کے مردوں اور خواتین کے کرکٹ مقابلوں کے ڈراز اور گروپس کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔

مردوں کے ایونٹ میں پاکستان، بھارت، بنگلادیش اور سری لنکا کو عالمی رینکنگ کی بنیاد پر براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ دی گئی ہے جبکہ افغانستان، ہانگ کانگ، جاپان، ملائیشیا، نیپال اور عمان ابتدائی مرحلے میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گے۔

مردوں کے ابتدائی راؤنڈ میں افغانستان، جاپان اور نیپال کو گروپ اے میں رکھا گیا ہے جبکہ ہانگ کانگ، ملائیشیا اور عمان گروپ بی کا حصہ ہوں گے۔

دونوں گروپس سے ٹاپ دو ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچ کر پاکستان، بھارت، بنگلادیش اور سری لنکا کا سامنا کریں گی۔

Bangladesh, India, Pakistan and Sri Lanka have gained direct entry into the knockouts of the Asian Games 2026 men's competition https://t.co/WCS9T5YG9C pic.twitter.com/uP7s6xroNs

— Cricinfo (@cricinfo) July 24, 2026

مردوں کے مقابلے 24 ستمبر سے یکم اکتوبر تک جاپان کے شہر ناگویا میں ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں کھیلے جائیں گے۔

خواتین کے ایونٹ کا آغاز 17 ستمبر سے ہوگا جہاں کوارٹر فائنلز میں بھارت کا مقابلہ جاپان، بنگلادیش کا چین، سری لنکا کا ملائیشیا جبکہ پاکستان کا سامنا تھائی لینڈ سے ہوگا۔

https://www.facebook.com/AsianGamesOCA/posts/cricket-action-is-going-to-heat-up-at-the-20th-asian-games-aichi-nagoya-2026-her/1469188031908924/

خواتین کے مقابلے 22 ستمبر تک جاری رہیں گے۔

واضح رہے کہ 2023 کے ایشین گیمز میں بھارت نے مردوں اور خواتین دونوں کیٹیگریز میں سونے کا تمغہ جیتا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ، ہمسایہ ملک وسائل فراہم کر رہا ہے: وزیراعظم
  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • ایشین گیمز: پاکستان، بھارت، بنگلادیش، سری لنکا براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے میں
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا