شیخ نھیان بن مبارک کی پاکستان کے سب سے بڑے جشن آزادی پروگرام میں شرکت
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
دبئی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 اگست2025ء) دبئی ایکسپو سٹی میں پاکستان کے 78ویں یومِ آزادی کی شاندار تقریب منعقد ہوئی جس میں یو اے ای کے وزیرِ رواداری و بقائے باہمی شیخ نھیان بن مبارک آل نھیان، پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، قونصل جنرل حسین محمد، اماراتی معززین، سفارتکار اور پاکستانی کمیونٹی کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ یہ تقریب "امارات لوز پاکستان" اور پاکستان ایسوسی ایشن دبئی کے اشتراک اور دبئی پولیس کے تعاون سے منعقد ہوئی، جس میں 60 ہزار سے زائد افراد شریک ہوئے۔
شیخ نھیان بن مبارک نے یومِ آزادی کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے پاک–امارات دوستی اور بھائی چارے کو سراہا۔ سفیر فیصل نیاز ترمذی نے دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات، ثقافتی تبادلوں اور اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔(جاری ہے)
تقریب میں پاکستان کی ثقافت، روایات، موسیقی، لوک رقص، روایتی کھانوں اور آرٹ نمائش کا اہتمام کیا گیا، جبکہ ممتاز پاکستانی شخصیات کو مختلف شعبوں میں خدمات پر اعزازی شیلڈز پیش کی گئیں، جن میں بزنس لیڈرز، تعلیمی رہنما، کھلاڑی، بینکرز اور میڈیا شخصیات شامل تھے۔
پاکستان ایسوسی ایشن دبئی کے صدر ڈاکٹر فیصل اکرام نے 4.5 کروڑ درہم کے پاکستان میڈیکل سینٹر کی توسیعی منصوبے کا اعلان کیا، جو جدید سہولیات کے ذریعے کمیونٹی ہیلتھ سروسز کو تین گنا بڑھائے گا۔ 1971 سے قائم پاک–امارات تعلقات میں تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت، ٹیکنالوجی، تیل و گیس، ہاؤسنگ اور بینکاری سمیت کئی شعبوں میں مسلسل ترقی ہو رہی ہے، اور حالیہ حکومتی شراکت داری دونوں ممالک کے مستقبل کے تعاون کو مزید وسعت دے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔