اسلام آباد: آج اور کل معرکہ حق اور جشن آزادی کی ہونے والی تقریب ملتوی
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
خیبر پختونخوا میں شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال سے جانی نقصان کے باعث اسلام آباد میں آج اور کل معرکہ حق اور جشن آزادی کی ہونے والی تقریب ملتوی کردی گئی۔وزیر اطلاعات عطا تارڑ کی ہدایت پر ایف نائن پارک میں ہونے والا پروگرام ملتوی کیا گیا ہے، متاثرہ افراد سے اظہارِ یکجہتی اور ریلیف سرگرمیوں پر توجہ مرکوز رکھنے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔دوسری جانب وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے آج صوبے بھر میں سوگ کا اعلان کیا ہے، صوبے میں قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے بتایا ہے کہ باجوڑ میں امدادی سامان لے جانے والا صوبائی حکومت کا ہیلی کاپٹر خراب موسم کے باعث کریش ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔