پاکستان کا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ کامیابی سے زمین کے مدار میں فعال ہے: ترجمان سپارکو
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
—فائل فوٹو
ترجمان سپارکو نے بتایا ہے کہ پاکستان کا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ کامیابی سے زمین کے مدار میں فعال ہے۔
پاکستان میں خلائی تحقیق کے ادارے سپارکو کے ترجمان نے بتایا کہ سیٹلائٹ گزشتہ مہینے 31 جولائی کو چین کے ژیچانگ سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے بھیجا گیا تھا۔
ترجمان نے کہا کہ کامیاب لانچ کے بعد سیٹلائٹ نے گراؤنڈ اسٹیشنز کے ساتھ مستحکم رابطہ قائم کرلیا اور اب سیٹلائٹ نے خلا سے ہائی ریزولوشن تصاویر حاصل کرکے زمین پر بھیجنا شروع کردی ہیں۔
چینی سفارتخانے نے ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ کی کامیاب لانچ پر پاکستان کو مبارکباد پیش کی ہے۔
اسپارکو ترجمان نے مزید کہا کہ مختلف قومی شعبوں کے لیے ڈیٹا کی دستیابی ممکن ہوسکے گی، یہ سیٹلائٹ اعلیٰ معیار کی تصویریں کھینچنے صلاحیت کا حامل ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ سیٹلائٹ سے انفرا اسٹرکچر کی ترقی اور علاقائی منصوبہ بندی میں مدد ملے گی۔ مزید یہ کہ اس سیٹلائٹ سے قدرتی آفات سے بچاؤ کے نظام کو مستحکم کیا جاسکے گا، اب سیٹلائٹ سے سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، زلزلوں اور دیگر خطرات کے لیے بروقت ڈیٹا مل سکے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ
پڑھیں:
باب المندب سب کیلیے بند نہیں، صرف سعودی عرب کی ناکہ بندی ہے؛ ترجمان حوثی
یمن کے حوثی (انصار اللہ) گروپ نے اس تاثر کو مسترد کردیا ہے کہ باب المندب جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر بند ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان خیالات کا اظہار حوثیوں کے چیف مذاکرات کار اور ترجمان محمد عبدالسلام نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کیا۔
انھوں نے آبنائے کی مکمل بندش کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ بحری ناکہ بندی صرف سعودی عرب کے خلاف ہیں۔ بقیہ تمام جہازوں کے لیے بین الاقوامی آبی گزرگاہ کو مکمل طورکھلی ہوئی ہے۔
حوثیوں کے ترجمان محمد عبدالسلام نے بتایا کہ سعودی عرب کی ناکہ بندی یمن کے محاصرے اور ایسے منصفانہ حل کو قبول نہ کرنے کے ردعمل میں کی گئی ہے جو یمنی عوام کی سلامتی، خودمختاری اور آزادی کی ضمانت دے۔
ترجمان محمد عبدالسلام نے زور دیا کہ حوثیوں کی کارروائیوں کا مقصد عالمی بحری تجارت کو روکنا نہیں بلکہ سعودی عرب پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ یمن کے بحران کے حل کے لیے پیش رفت ممکن ہو سکے۔
واضح رہے کہ انصار اللہ، جنہیں عام طور پر حوثی تحریک کہا جاتا ہے۔ غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے اکتوبر 2023 کے بعد سے بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں متعدد بحری جہازوں کو نشانہ بنا چکے ہیں لیکن اب سعودی ناکہ بندی بھی کردی گئی۔